45.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

ہر ہندستانی کا حق ہے کہ وہ ملک کی سیاست میں حصہ لے: ڈاکٹر نوہیرا شیخ

نئی دہلی ، سماج نیوز:ملک میں بسنے والے ہر بھارتی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملک کی سیاست میں حصہ لے۔ اور ہر ہندستانی کو ملک کی سیاست میں حصہ لینے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ کیونکہ ہمارے ملک میں اچھی زندگی گزارنے کے دو ہی راستے ہیں ایک یہ کہ شخص سیاست میں حصہ لے یا سیاست کا شکار ہو۔ سیاست کی شکار تمام قومیںتنزلی اور گہرائی کی دلدل میں گرتی چلی جا رہی ہیں۔ جب کہ سیاست میں حصہ لینے والی قومیں اپنی نسلوں اور سماج کو تعلیم یافتہ اور خوشحال بنا رہی ہیں اور ہر میدان چاہے وہ تعلیم ہو یا تجارت تمام شعبے میں ترقی کرتی جا رہی ہیں۔ ہماری پارٹی آل انڈیا مہیلا امپاورمنٹ پارٹی نے بھی اسی سوچ اور فکر کے ساتھ ہندستانی سیاست میں حصہ داری اختیار کی ہے تاکہ محروم رہنے والی قوموں کو آگے بڑھائیں اور نا انصافیوں کے خاتمے کے لئے کام کریں، محروم و مجبور خواتین کی آواز کو اٹھایا جائے اور ختم ہو رہے قانون انتظامات کی پاسداری کی جائے ۔ ان خیالات کا اظہار مہیلا امپاور منٹ پارٹی کی قومی صدر عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے اپنے جاری ایک بیان میں کیا ہے۔

اگر ہم وزیر اعظم بنا سکتے ہیں تو بننے کا بھی خواب دیکھ سکتے ہیں: ڈاکٹر نوہیرا شیخ

عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے مزید کہا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاست ان کے باپ کی جاگیر ہے۔ وہ ہی سیاست میں حصہ لے سکتے ہیں۔ باقی لوگ تماشائی بن کر ان کی سیاست کا شکار ہوں گے۔ وہ جہاں چاہیں قوم کو فروخت کرتے ہوئے خاموشی کے ساتھ دلالی کرتے پھریں تو ایسا ہر گز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سیاست ملک میں بہتر زندگی بسر کرنے کی ایک ناگزیر شے ہے، اور اس سیاست کی جانکاری اور بیداری ملک کے ہر ہر نوجوان کو ہونی چاہئے۔ تاکہ کوئی بھی خودغرض شخص قوم کی بولیاں لگا کر صرف اپنی عافیت پانے کے لئے ملک کی حکومتوں کے ساتھ ساٹھ گانٹھ نہ کر لے اور اپنے اوپر ہونے والے تمام جانچ پڑتال اور بدعنوانیوں کو قوم کے عوض تحفظ حاصل کرلے تو یہ ہر گز نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حقیقت کو سامنے آنا ہی چاہئے۔ کیونکہ بھارت ہر فرد کا ہے اور ہر فرد کو اپنی ہنرمندی ثابت کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے۔ نوجوانوں میں سیاسی بیداری کا شعور جاگنا چاہئے۔ بھڑکاؤ بھاشن اور فرقہ واریت کو ختم ہونا چاہئے۔ ہمارا ملک ایک پھولوں کے گلدستے کے مانند ہے۔ ہمارے ملک میںمذاہب کی شکل میں طرح طرح کے پھول مہک رہے ہیں۔ مذاہب کو آپس میں لڑا کر نفرت کی بیج کوئی نہ بوئے۔ یہاں کے لوگ ہزاروں سال سے آپسی تال میل اور بھائی چارہ کے ساتھ شیر وشکر کی طرح رہتے آئے ہیں، انہیں پر امن زندگی فراہم نہ کر سکیں تو نفرت کی آبیاری نہ کریں، ہمارا ماننا ہے کہ نفرت کی تعلیم کسی بھی ملک میں خوشحالی نہیں آنے دیتی ۔

حیدر آبادی زمین مافیا خواجہ معین الدین کے ساتھ کون ہے؟
عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے کہا کہ میں سیاسی بیداری لے کر آگے آئی ہوں۔ مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ پہلے جب میں عوام کے لئے صرف روزگار اور تعلیم میں اضافہ کے لئے کام کرتی تھی تو لوگوں کو مجھ سے کم خطرات لاحق ہوتے تھے۔ لیکن جب سے میں نے سیاست کا میدان اختیار کیا ہے لوگوں کو اپنے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جب کہ بھارت کی سیاست میں اکیلی میں ہی نہیںہوں۔ہزاروں سیاسی پارٹیاں ہیں جو الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر رجسٹرڈ ہیں۔ لاکھوں لیڈر ہیں جو ملک بھر میں الگ الگ سطح کا الیکشن لڑتے ہیں۔ آخر مجھ سے ہی کیوں خطرات لاحق ہیں سمجھ سے بالا تر ہے۔ سیاست کسی کے باپ کی جاگیر نہیں ہے۔ ملک کے قانون نے ملک کے سیکڑوں کروڑ افراد کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ سیاست میں حصہ لے کر اپنے ہنر کو آزما سکتا ہے۔ ملک کے اسی قانون کے تحت میں نے بھی سیاست میں حصہ لیا ہے۔ مجھے میرے حق کا استعمال کرنے دیا جائے۔ اگر میں ملک کا وزیر اعظم منتخب کر سکتی ہوں تو مجھے ملک کے قانون نے حق دیا ہے کہ وزیر اعظم بننے کا بھی خواب دیکھ سکتی ہوں۔ کل ملا کر میرا کہنا یہ ہے کہ مجھ سے کسی بھی سیاسی لیڈر کو خطرات لاحق نہیں ہیں۔ میں خدمت کی سیاست کے لئے آگے آئی ہوں۔ مجھے دمکھیاں نہ دلوائی جائیں۔ مجھے پریشر زدہ نہ کیا جائے۔میرے حوصلے نہ توڑے جائیں۔ مجھے برباد ہونے کا خوف نہ دکھایا جائے۔ ہم اللہ کے سوا کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں، تم اپنے مطابق عوام کی خدمات انجام دو اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو، تاکہ مجھ سے منسلک عوام کیلئے حکومتی ایوانوں سے امداد اور داد رسی حاصل کر سکوں یہی میرا مقصد اور یہی میری زندگی کا خواب ہے۔

Related posts

ٹوئٹرکواپنے ایپ اسٹور سےنکالے گا ’ایپل‘، ایلن مسک کا دعویٰ

www.samajnews.in

مہاراشٹر کے فتح پور بلدیاتی الیکشن میں MEPکی جیت

www.samajnews.in

ڈھائی فٹ کے عظیم منصوری بنے دولہا، 3 فٹ کی بشریٰ سے رچائی شادی

www.samajnews.in