عصرِ حاضر کا مردِ مجاہد: سید علی خامنہ ای کی حیات و شہادت
عالمی استکبار کے خلاف ایک آہنی دیوار: رہبرِ معظم کی جدوجہد
مشہد کی گلیوں سے شہادت کی معراج تک: ایک عظیم سفر
فقر و درویشی اور اقتدار کا سنگم: آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت
مزاحمتی بلاک کا بانی اور امتِ مسلمہ کا اتحاد
شہادتِ رہبر: ایک عہد کا خاتمہ اور ایک نئے نظریے کا آغاز
ڈاکٹر محمد عظیم الدین
تاریخ کے اوراق جب بھی کسی ایسی شخصیت کا تذکرہ کریں گے جس نے اپنے عزم و استقلال سے وقت کے فرعونوں کی نیندیں حرام کر دیں، تو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا نام سرِ فہرست ہوگا، جنہوں نے اپنی پوری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ 28 فروری 2026 کی وہ منحوس صبح جب تہران کی فضاؤں میں بزدل دشمن کے طیاروں نے اپنی نفرت اگل کر اس مردِ مجاہد کو جسمانی طور پر ہم سے جدا کیا، تو درحقیقت انہوں نے ایک فرد کو نہیں بلکہ ایک ایسے نظریے کو ابدیت بخش دی جو عالمی استکبار کے سامنے سر جھکانے کے بجائے کٹ جانے کو ترجیح دیتا ہے۔ یہ تحریر اس عظیم قائد کے حضور عقیدت کا ایک نذرانہ ہے جس نے ثابت کیا کہ اگر ایمان کامل ہو تو مادی وسائل کی کمی کبھی بھی حق کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی اور ایک نحیف و نزار بدن بھی اپنی روحانی طاقت سے عالمی طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملا سکتا ہے۔
اگر ہم اس مردِ حق کے سفرِ زندگی کے ابتدائی نقوش تلاش کریں، تو 1939 کے مشہد کا وہ سادہ اور علمی ماحول نظر آتا ہے جہاں غربت کی تپش تو تھی لیکن علم و تقویٰ کی ٹھنڈک نے سید علی خامنہ ای کی شخصیت کو وہ جلا بخشی جو آگے چل کر ایک جہان کو روشن کرنے والی تھی۔ ان کے والد ایک جید عالم تھے اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ کئی راتیں فاقوں میں گزر جاتی تھیں، مگر یہی وہ تربیت گاہ تھی جس نے انہیں دنیا کی چکا چوند سے بے نیاز کر کے صراطِ مستقیم پر چلنے کا وہ حوصلہ دیا جو بڑے بڑے جابروں کے سامنے بھی نہیں ڈگمگایا۔ 1962 میں جب امام خمینی نے شاہ کے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی، تو یہ نوجوان علی خامنہ ای ہی تھے جنہوں نے اپنے استاد کی پکار پر لبیک کہا اور پھر قید و بند، جلاوطنی اور ساواک کے عقوبت خانوں کی وہ ہولناکیاں برداشت کیں جن کی مثال عصرِ حاضر میں کم ہی ملتی ہے۔ وہ بارہا جیل گئے، انہیں تپتے ہوئے صحراؤں میں جلاوطن کیا گیا، لیکن ان کے لہجے کی گونج اور تحریر کی کاٹ نے ایرانی عوام کے دلوں میں وہ چنگاری بھر دی جس نے آخر کار 1979 میں ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کے تخت کو الٹ کر رکھ دیا۔

انقلاب کی کامیابی کے بعد جب نوزائیدہ اسلامی ریاست کو اندرونی و بیرونی سازشوں نے گھیرا، تو آیت اللہ خامنہ ای ایک آہنی ڈھال بن کر سامنے آئے اور انہوں نے صدارت کے منصب پر فائز ہو کر آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران ثابت کر دیا کہ ایک عالمِ دین صرف محراب و منبر کا وارث نہیں بلکہ میدانِ جنگ کا شہسوار بھی ہوتا ہے۔ 27 جون 1981 کا وہ دن ان کی زندگی کا ایک اہم سنگِ میل تھا جب ایک قاتلانہ حملے میں ان کا دایاں ہاتھ مفلوج ہو گیا، مگر قدرت کو ان سے بڑے کام لینے تھے، اسی لیے وہ اس زندہ شہید کے لقب کے ساتھ زندہ رہے اور ان کا وہ مفلوج ہاتھ تاحیات دشمنوں کے لیے ایک تازیانہ اور دوستوں کے لیے استقامت کی علامت بنا رہا۔ 1989 میں امام خمینی کی رحلت کے بعد جب رہبری کی بھاری ذمہ داری ان کے کاندھوں پر آئی، تو بہت سے عالمی مبصرین کا خیال تھا کہ شاید ایران اب بکھر جائے گا، لیکن سید علی خامنہ ای نے اپنی دور اندیشی اور تدبر سے نہ صرف ملک کو سنبھالا بلکہ اسے ایک ایسی علاقائی قوت بنا دیا جس کے سامنے آج دنیا کی بڑی طاقتیں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کا سب سے درخشاں پہلو ان کی وہ شجاعت ہے جس نے امریکہ اور اسرائیل جیسے نام نہاد ناقابلِ شکست بتوں کو پاش پاش کر دیا اور انہوں نے کبھی بھی مصلحت پسندی کو اصولوں پر ترجیح نہیں دی۔ ان کی قیادت میں ایران نے سائنس، ٹیکنالوجی اور دفاع کے میدان میں وہ معجزے کر دکھائے کہ دنیا دنگ رہ گئی، اور سخت ترین پابندیوں کے باوجود ایران کا خلائی پروگرام، نینو ٹیکنالوجی اور ڈرون ٹیکنالوجی میں دنیا کے صفِ اول میں آنا دراصل ان کے اسی خود اعتمادی کے فلسفے کا نتیجہ تھا جو انہوں نے اپنی قوم کو دیا تھا۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کو یہ سبق سکھایا کہ غیرت و حمیت کی زندگی وہ ہے جہاں آپ کا فیصلہ واشنگٹن یا لندن میں نہیں بلکہ آپ کی اپنی اقدار کی روشنی میں ہو، اور یہی وہ جرم تھا جس کی پاداش میں عالمی استکبار نے ہمیشہ انہیں اپنا سب سے بڑا دشمن گردانا۔ فلسطین کا مسئلہ ہو یا یمن، شام اور عراق کے مظلوموں کی پکار، آیت اللہ خامنہ ای کی آواز ہمیشہ سب سے بلند رہی اور انہوں نے مزاحمتی بلاک کو وہ قوت عطا کی جس نے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے سے صیہونی تسلط کے خواب کو مٹا کر رکھ دیا۔
ان کی شہادت درحقیقت ان کی اس دیرینہ تمنا کی تکمیل تھی جس کے لیے وہ دہائیوں سے دعاگو تھے، کیونکہ ایک سچے مجاہد کی سب سے بڑی معراج شہادت ہی ہوتی ہے۔ دشمن نے سمجھا تھا کہ ان پر حملہ کر کے وہ اس آواز کو دبا دے گا، لیکن وہ یہ بھول گئے کہ شہید کا خون اس کے لفظوں سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور سید علی خامنہ ای نے اپنے لہو سے شجاعت کی جو داستان لکھی ہے، وہ آنے والی نسلوں کے لیے غیرت کا وہ نصاب بن چکی ہے جسے مٹانا ناممکن ہے۔ ان کی زندگی کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ دنیا کے طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہونے کے باوجود ان کے گھر کا اثاثہ صرف چند کتابیں اور ایک معمولی قالین تھا، جو ان کی درویش صفت شخصیت اور اللہ پر کامل بھروسے کی گواہی دیتا تھا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حقیقی سپر پاور صرف اللہ کی ذات ہے اور جو اس کے سامنے جھک جاتا ہے، پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی۔
آج جب وہ ہم میں موجود نہیں ہیں، تو ان کی یادیں اور ان کے فرمودات امتِ مسلمہ کے لیے ایک ایسے چراغ کی مانند ہیں جو اندھیری راتوں میں راستہ دکھاتے رہیں گے، اور ان کی شہادت نے ملت کے نوجوانوں میں وہ تڑپ پیدا کر دی ہے جو اب کسی بھی استبدادی قوت کو چین سے نہیں بیٹھنے دے گی۔ انہوں نے اتحادِ بین المسلمین کے لیے جو عملی کوششیں کیں اور جس طرح فرقہ واریت کے زہر کو ناکام بنایا، وہ تاریخِ اسلام کا ایک روشن باب ہے جس کی بدولت آج مزاحمت کے مورچوں پر سنی اور شیعہ ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی زندگی شجاعت، علم، تقویٰ اور بصیرت کا ایک ایسا سنگم تھی جس نے جدید مادی دنیا میں روحانیت اور خودداری کا علم بلند کیا اور ان کی قربانیوں نے یہ پیغام عام کر دیا کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے، چاہے باطل کتنا ہی مسلح اور مغرور کیوں نہ ہو۔ ان کی شہادت نے ثابت کر دیا کہ وہ واقعی ایک مردِ مجاہد تھے جس نے عالمی طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملایا اور امت کو غیرت کے ساتھ جینے کا سلیقہ سکھایا۔

