بی جے پی کی خاموشی: حکمت عملی یا بیچارگی؟
آر ایس ایس کا گیم پلان: کیا مودی کی رخصتی قریب ہے؟
بھارتی سیاست میں اخلاقی زوال اور بلیک میلنگ کے الزامات
مودی نامہ سے بغاوت تک: مدھو کشور کا بدلتا بیانیہ
اقتدار کی اندرونی جنگ اور ہندوتوا خیمے کا خلفشار
قومی سلامتی اور وزیر اعظم پر عائد سنگین اخلاقی سوالات

ڈاکٹر محمد عظیم الدین
بھارتی سیاست کا منظر نامہ ہمیشہ سے ہی غیر متوقع اور ہنگامہ خیز رہا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں ایک ایسا سیاسی اور نفسیاتی زلزلہ آیا ہے جس نے اقتدار کے مستحکم سمجھے جانے والے ایوانوں کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ مدھو کشور، جو ایک طویل عرصے تک وزیر اعظم نریندر مودی کی سب سے بڑی حامیوں اور نظریاتی محافظوں میں شمار ہوتی تھیں، نے ان پر ایسے سنگین، ہوش ربا اور تہلکہ خیز الزامات عائد کیے ہیں جن کی گونج پورے ملک میں شدت سے سنائی دے رہی ہے۔ یہ محض کوئی عام سیاسی بیان بازی یا حزب اختلاف کا روایتی پروپیگنڈا نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی شخصیت کی جانب سے کیا گیا دھماکہ ہے جس نے کبھی مودی نامہ جیسی ضخیم کتاب لکھ کر نریندر مودی کے سیاسی قد کو دیومالائی اور کرشماتی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ مدھو کشور کے ان حالیہ بیانات اور پیغام رسانی نے نہ صرف وزیر اعظم کی ذاتی ساکھ اور اساطیری تشخص کو شدید نقصان پہنچایا ہے، بلکہ حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی مادری تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے اندرونی خلفشار اور اقتدار کی رسہ کشی کو بھی مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ ان الزامات کی نوعیت، ان کے منظر عام پر آنے کا وقت اور سب سے بڑھ کر ان پر بی جے پی قیادت کی پراسرار اور معنی خیز خاموشی کئی ایسے سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے جو بھارتی جمہوریت اور موجودہ حکومت کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی تشویشناک ہیں۔
مدھو کشور نے اپنی حالیہ سماجی روابط کی تحریروں میں اپنی ہی صفوں کے ممتاز رہنما سبرامنیم سوامی کے ایک متنازعہ ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم پر انتہائی نچلے درجے کی اخلاقی گراوٹ، خواتین اراکین پارلیمنٹ و وزراء کے استحصال اور سنگین نوعیت کی بلیک میلنگ کا شکار ہونے کا شرمناک الزام لگایا ہے۔ ان کا واضح دعویٰ ہے کہ اقتدار کی غلام گردشوں اور اعلیٰ سطحی سیاسی محفلوں میں یہ باتیں طویل عرصے سے زیرِ گردش تھیں اور اسی اخلاقی تنزلی کو بھانپتے ہوئے انہوں نے مئی 2014 میں مودی کے برسرِ اقتدار آنے کے فوراً بعد ہی ان سے دانستہ طور پر فاصلہ اختیار کر لیا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے اپنی تصنیف کردہ کتاب کی کاپی بھی انہیں ذاتی طور پر پیش کرنے سے گریز کیا۔ ان الزامات میں نام نہاد ایپسٹین فائلز کی طرز پر کچھ مخصوص خواتین سیاستدانوں، جن میں مبینہ طور پر سمرتی ایرانی اور دیگر وزراء شامل ہیں، نیز ہردیپ پوری اور امت مالویہ جیسے افراد کے ناموں کا بھی بلا جھجک حوالہ دیا گیا ہے۔ مدھو کشور کے بقول وزیر اعظم کے اندرونی شخصی بگاڑ اور کمزوریوں نے انہیں اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں وہ پہلے دن سے ہی ملکی اور غیر ملکی دشمن عناصر کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں۔ ایک ایسے وزیر اعظم کے بارے میں، جو خود کو ملک کا سب سے بڑا نگہبان، ایک عظیم قوم پرست اور اخلاقیات کا مینارِ نور قرار دیتا ہو، اپنی ہی انتہائی وفادار اور ہم خیال صفوں سے ایسے الزامات کا سامنے آنا اس کے سیاسی زوال اور اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
اس تمام تر قضیے کا سب سے حیران کن اور تجزیہ طلب پہلو بی جے پی اور سنگھ پریوار کا ردعمل، یا بالفاظِ دیگر، ردعمل کا مکمل فقدان ہے۔ بھارت کی موجودہ سیاسی فضا میں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بی جے پی کا معلوماتی ٹیکنالوجی شعبہ اور اس کے ترجمان وزیر اعظم کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی پر بھی آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ حزب اختلاف کا کوئی رہنما، کوئی آزاد صحافی یا کوئی عام شہری اگر وزیر اعظم پر تنقید کرے یا محض کوئی طنزیہ تصویر بھی سماجی رابطوں پر شیئر کر دے، تو چند لمحوں میں اس کے خلاف بغاوت، غداری اور ہتک عزت کے مقدمات درج کر لیے جاتے ہیں اور ریاستی مشینری پوری طاقت کے ساتھ اسے کچلنے کے لیے متحرک ہو جاتی ہے۔ لیکن مدھو کشور کی جانب سے کھلم کھلا وزیر اعظم کی کردار کشی، ان کی جنسی زندگی پر رکیک حملے اور انہیں ایک شکاری قرار دینے کے باوجود کسی تھانے میں کوئی پہلی معلوماتی رپورٹ درج نہیں ہوئی، کسی ترجمان نے اخباری کانفرنس کر کے دفاع نہیں کیا اور نہ ہی ان کا سماجی اکاؤنٹ معطل کیا گیا۔ یہ تزویراتی اور خوفزدہ خاموشی اس بات کی غماز ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے، یا پھر یہ کوئی ایسی سوچی سمجھی داخلی سازش ہے جس کے سامنے مودی کی وفادار فوج بھی خود کو بے بس اور مفلوج پا رہی ہے۔ جب حکمران جماعت کے قدآور رہنما، وزراء اور مادری تنظیم آر ایس ایس اپنے ہی سب سے بڑے چہرے کے دفاع میں ایک لفظ بولنے سے قاصر ہوں، تو یہ محض اتفاق نہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں چلنے والی ایک گہری، تاریک اور طوفانی سرد جنگ کی علامت ہے۔
سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار اس پیش رفت کو محض ایک مایوس اور نظر انداز کی گئی خاتون کی ذاتی خفگی قرار دینے کے بجائے اسے آر ایس ایس کے ایک وسیع تر اور منظم حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کبھی بھی کسی فردِ واحد کو تنظیم سے بڑا ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ نریندر مودی نے گزشتہ ایک دہائی میں اپنی ذات کو اس قدر فوقیت دے دی تھی کہ تنظیم اور پارٹی دونوں ان کے سائے تلے دب کر رہ گئے تھے۔ اب جبکہ مودی حکومت کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے، معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں اور انتخابی فتوحات کا طلسم ٹوٹتا دکھائی دے رہا ہے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آر ایس ایس نے قیادت کی تبدیلی کے لیے بساط بچھانا شروع کر دی ہے۔ مدھو کشور اور سبرامنیم سوامی جیسے پرانے اور کٹر ہندوتوا حامیوں کے ذریعے وزیر اعظم پر ایسے حملے کروانا جن کا وہ براہ راست جواب دینے سے قاصر ہوں، مودی کو کمزور کرنے اور انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی معلوم ہوتی ہے۔ اس سیاسی شطرنج میں نتن گڈکری جیسے متبادل چہروں کو آگے لانے کی سرگوشیاں بھی زور پکڑ رہی ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ موجودہ بحران محض ایک اخلاقی تنازعہ نہیں بلکہ اقتدار کی منتقلی کا ایک نہایت سنگین اور پیچیدہ خاکہ ہے مودی کے حمایتیوں کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر پرانے اسکینڈلز کو اچھالنا بھی اس اندرونی جنگ کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
اس واقعے نے بھارتی سیاست میں کردار کشی کی اس زہریلی روایت کو بھی بے نقاب کر دیا ہے جسے خود بی جے پی اور اس کے حامیوں نے گزشتہ کئی برسوں سے پروان چڑھایا تھا۔ جب آپ اپنے سیاسی مخالفین کو روزانہ کی بنیاد پر غدار، نادان، شہری نکسل، ٹکڑے ٹکڑے گروہ اور ملک دشمن جیسے القابات سے نوازتے ہیں، جب آپ ملک کے بانیان اور تاریخی شخصیات کے کردار پر بلا جواز کیچڑ اچھالتے ہیں اور جمہوریت کے بنیادی اخلاقی اصولوں کو روند کر رکھ دیتے ہیں، تو بالآخر وہ زہر آپ کے اپنے آنگن میں بھی پھیلتا ہے۔ آج جب نریندر مودی پر ان کی اپنی ہی جماعت اور نظریاتی خیمے کی جانب سے ایسے سنگین اور ذاتی نوعیت کے حملے ہو رہے ہیں، تو یہ دراصل اسی بوئے ہوئے بیج کا پھل ہے جو اب ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ مدھو کشور کا یہ دعویٰ کہ انہوں نے مودی کی حقیقت جاننے کے بعد ان سے دوری اختیار کر لی تھی، درحقیقت اس منافقت پر بھی سوالیہ نشان لگاتا ہے کہ اگر انہیں یہ حقائق 2014 سے معلوم تھے تو انہوں نے اتنے سالوں تک خاموشی کیوں اختیار کیے رکھی؟ کیا یہ خاموشی کسی مفاد کے حصول کی امید پر مبنی تھی؟ اور اب جب کہ وہ امید ٹوٹ چکی ہے تو اخلاقیات کا یہ لبادہ اوڑھ کر میدان میں اترنا ان کی اپنی ساکھ پر بھی کئی تنقیدی سوالات اٹھاتا ہے۔ تاہم، ان کے مقاصد جو بھی ہوں، ان کے الزامات نے مودی کے اس قلعے میں ایک ایسا شگاف ڈال دیا ہے جسے بھرنا اب تقریباً نامکن نظر آتا ہے۔
مزید برآں، اس پورے منظر نامے کا سب سے حساس اور خطرناک پہلو ملکی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر ایک لمحے کے لیے مدھو کشور کے اس الزام کو درست مان لیا جائے کہ ملک کا وزیر اعظم اپنے ماضی اور حال کی جنسی بے راہ رویوں اور مبینہ بدعنوانیوں کی بنا پر بلیک میل ہو رہا ہے، تو یہ صرف ایک فرد کی اخلاقی ناکامی کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ یہ ریاست کی بقا، خودمختاری اور قومی سلامتی کا انتہائی تشویشناک مسئلہ بن جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی ملک کی اعلیٰ ترین قیادت غیر ملکی یا ملکی طاقتور عناصر کے ہاتھوں ذاتی بلیک میلنگ کا شکار ہوتی ہے، تو ریاستی پالیسیاں، دفاعی راز اور معاشی فیصلے شدید سمجھوتوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔ ایسے میں حزب اختلاف اور آزاد اداروں کی یہ اولین اور آئینی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان الزامات کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کریں۔ جس طرح ترقی یافتہ ممالک میں ایسے سنگین الزامات پر فوراً پارلیمانی اور عدالتی تحقیقات بٹھا دی جاتی ہیں، بھارت میں بھی اس معاملے کو محض سیاسی خیمہ بازی یا ذاتی عناد قرار دے کر داخلِ دفتر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بھارتی جمہوریت کی شفافیت اور اداروں کی آزادی کا کڑا امتحان ہے کہ آیا وہ ملک کے طاقتور ترین شخص کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی جرات کر سکتے ہیں یا نہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مدھو کشور کے ان سنسنی خیز انکشافات نے نریندر مودی کے لیے نہ صرف ذاتی اور سیاسی مشکلات کا ایک نیا پہاڑ کھڑا کر دیا ہے بلکہ ان کی ناقابلِ تسخیر ہونے کی پوری داستان کو بھی ریت کی دیوار ثابت کر دیا ہے۔ ایک طرف ان کے اپنے ہی نظریاتی ساتھی ان کی پیٹھ میں خنجر گھونپ رہے ہیں، اور دوسری طرف ان کی وہ طاقتور اور متکبر سیاسی مشینری جو کل تک مخالفین کو کچلنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتی تھی، آج ان الزامات کے سامنے دفاعی پوزیشن اختیار کرنے یا فرار کا راستہ ڈھونڈنے پر مجبور ہے۔ یہ بحران اس حقیقت کا غماز ہے کہ مودی کا کرشمہ اب زوال پذیر ہے اور آر ایس ایس نے ممکنہ طور پر ان کی سیاسی رخصتی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ یہ صورتحال بھارتی سیاست میں ایک ایسے نئے باب کا آغاز ہے جس کے نتائج انتہائی دور رس اور تہلکہ خیز ہوں گے۔ آنے والے دن نہ صرف نریندر مودی کی سیاسی بقا کا فیصلہ کریں گے بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ بی جے پی اور سنگھ کے اندرونی اقتدار کی اس خونریز جنگ میں بالآخر کون فاتح بن کر ابھرتا ہے۔ مدھو کشور کا یہ دھماکہ محض ایک شروعات ہے، اور اس کے بطن سے جنم لینے والی سیاسی سونامی ابھی اپنے اصل اور خوفناک خدوخال کے ساتھ منظر عام پر آنا باقی ہے.

