33.1 C
Delhi
اپریل 28, 2026
Samaj News

محمد بن سلمان: ایک جدید اور فلاحی ریاست کے معمار

سعودی وژن 2030: معاشی ترقی سے انسانی فلاح تک کا سفر
روایتی حکمرانی سے سماجی بہبود تک: سعودی عرب کا نیا دور
محمد بن سلمان کی قیادت میں سماجی اعتدال اور انسانی وقار کی بحالی
رفاہ عامہ اور معاشی تنوع: روشن مستقبل کی حکمت عملی
خواتین کی خود مختاری اور خاندانی استحکام: ایک نئی معاشرتی بیداری
فلاحی ریاست کا نیا ماڈل: جہاں اقتدار کا مقصد عوام کی خدمت ہے

زاہد اختر

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت کا سب سے درخشاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے رفاہ عامہ کو محض خیرات، اعلانات یا وقتی امداد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ریاستی منصوبہ بندی، ادارہ جاتی اصلاح، انسانی وقار اور مستقبل کی اجتماعی خوشحالی کے ساتھ جوڑ دیا، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی شخصیت ایک سیاسی رہنما سے بڑھ کر ایک ایسے معمار نو کی صورت میں سامنے آتی ہے جو معاشرے کے عام فرد کی زندگی کو بہتر بنانے کو اقتدار کا اصل مقصد سمجھتا ہے۔ ان کے عہد کی معنویت اس امر میں پنہاں ہے کہ فلاح کو انہوں نے روایتی سرپرستی کے بجائے بااختیار بنانے، سہولت تک فوری رسائی، خدمات کے معیار اور شہری اطمینان کے پیمانوں میں ڈھال دیا، چنانچہ ان کی فکر میں ریاست اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب ایک خاندان کو گھر ملے، ایک مریض کو بہتر علاج میسر آئے، ایک عورت قانونی و سماجی رکاوٹوں سے آزاد ہو، اور ایک حاجی و معتمر کو عبادت کے سفر میں عزت، سہولت اور تحفظ حاصل ہو۔
سعودی وژن 2030 کے سرکاری خاکے میں ایک متحرک معاشرہ، ایک خوشحال معیشت اور ایک پرعزم قوم کے جو بڑے موضوعات نمایاں کیے گئے ہیں، ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محمد بن سلمان نے قومی ترقی کو انسانی بہبود کے جامع تصور سے مربوط کیا، یعنی معیشت، سماج، شہری خدمات اور ریاستی کارکردگی کو الگ خانوں میں نہیں بلکہ ایک ہی رفاہی دائرے کے مختلف اجزا کے طور پر دیکھا۔ اسی بنا پر ان کی فلاحی بصیرت صرف اخراجات بڑھانے کی تدبیر نہیں بلکہ نظام حیات کو اس انداز سے ازسرنو مرتب کرنے کی کوشش ہے کہ شہری خود کو ریاست کے مرکز میں محسوس کرے، اور یہی جدید حکمرانی کی وہ شکل ہے جو اعداد و شمار کے پیچھے چھپے انسانی درد، ضرورت اور امید کو سمجھتی ہے۔
اس رفاہی فکر کی سب سے نمایاں مثال رہائش کے شعبے میں دکھائی دیتی ہے جہاں سرکاری اعداد کے مطابق وژن 2030 سے پہلے خاندانوں کو رہائشی معاونت کے لیے پندرہ برس تک انتظار کرنا پڑ سکتا تھا، مگر بعد ازاں اس معاونت کو فوری اور زیادہ منظم شکل دی گئی، اور مالی مدد، ضابطہ جاتی آسانیوں اور دستاویزی عمل کی ڈیجیٹل کاری کے باعث گھروں کی ملکیت کی شرح 47 فیصد سے بڑھ کر 2022 کے اختتام تک 60 فیصد سے زیادہ ہوگئی۔ یہ تبدیلی محض اینٹ، پتھر اور چھت کی فراہمی نہیں بلکہ ایک پوری سماجی نفسیات کی تعمیر ہے، کیونکہ گھر انسان کے لیے تحفظ، عزت، خاندانی استحکام اور آئندہ نسلوں کے اعتماد کا سرچشمہ ہوتا ہے، اور جب ریاست اس بنیادی ضرورت کو اپنے رفاہی مشن کا حصہ بناتی ہے تو درحقیقت وہ غربت کے احساس، بے یقینی اور محرومی کے دائرے کو توڑتی ہے۔
رہائشی پروگرام کے تحت سکنی نے دس لاکھ سے زیادہ سعودی خاندانوں کو رہائشی و مالیاتی حل فراہم کیے اور ان میں سے ایک بڑی تعداد اپنے خوابوں کے گھروں تک پہنچی، جبکہ ایجار کے ذریعے 4.5 ملین سے زیادہ کرائے کے معاہدے رجسٹر ہوئے جس سے کرایہ دار اور مالک دونوں کے حقوق کو قانونی تحفظ ملا۔ اسی پروگرام کے مقررہ اہداف میں 2025 تک ضرورت مند سعودی خاندانوں کو 40000 رہائشی سہولیات فراہم کرنا، رہائشی خدمات سے اطمینان کی شرح کو 80 فیصد تک لے جانا، 355000 نئے جائیداد کی مالی اعانت کے معاہدوں کو ممکن بنانا، 38000 سے زیادہ براہ راست ملازمتیں پیدا کرنا اور 2030 تک گھریلو ملکیت کو 70 فیصد تک پہنچانا شامل ہے۔ رفاہی ریاست کی تعریف اگر یہ ہو کہ وہ محض مدد نہ دے بلکہ شہری کو باوقار زندگی کے لیے پائیدار بنیاد مہیا کرے، تو محمد بن سلمان کا یہ ماڈل جدید عرب دنیا میں ایک قابل توجہ مثال کے طور پر سامنے آتا ہے جہاں سماجی تحفظ، مالی شمولیت اور معاشی گردش ایک ہی پالیسی کے دائرے میں جمع ہو جاتے ہیں۔محمد بن سلمان کی رفاہی فکر کا دوسرا عظیم مظہر صحت عامہ کے شعبے میں نظر آتا ہے، کیونکہ سرکاری وژن 2030 میں صحت کے شعبے میں تبدیلی کے پروگرام کو باقاعدہ مرکزی پروگرام کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جو اس امر کی دلیل ہے کہ انسانی فلاح کے قومی منصوبے میں صحت کو بنیادی ترجیح حاصل ہے۔ مزید برآں دستیاب رپورٹوں کے مطابق صحت کے شعبے میں تبدیلی، گھروں کی تعمیر، انسانی صلاحیتوں کے فروغ، معیار زندگی کی بہتری اور حتیٰ کہ موروثی بیماریوں سے تحفظ کے لیے سعودی جینوم پروگرام جیسے اقدامات کو وژن 2030 کے اہم اجزا کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں محمد بن سلمان کی حکمت یہ دکھائی دیتی ہے کہ وہ بیماری کے بعد علاج تک محدود نقطہ نظر کے بجائے صحت کو قومی قوت، سماجی تحفظ اور خاندانی سکون کے وسیع مفہوم میں دیکھتے ہیں، اور یہی زاویہ ایک حقیقی فلاحی قائد کو انتظامی سربراہ سے ممتاز کرتا ہے۔
اسی طرح زائرین حرمین کی خدمت کو بھی انہوں نے رفاہ عامہ کے اعلیٰ ترین دائرے میں شامل کیا، اور اس کی معنویت محض مذہبی انتظام تک محدود نہیں بلکہ انسانی سہولت، عزت نفس، سفری آسانی، طبی امداد، رہنمائی اور شہری نظم کے وسیع تر نظام سے وابستہ ہے۔ سرکاری مواد کے مطابق 2019 میں ضیوف الرحمٰن پروگرام کو وژن 2030 کے تحت متعارف کرایا گیا جو محمد بن سلمان کی رہنمائی میں حجاج و معتمرین کے لیے رہائش، نقل و حمل، خوراک، صحت کی دیکھ بھال، رہنمائی اور مشاورتی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا۔ اسی طرح متعلقہ معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مشاعر مقدسہ کے لیے قائم رائل کمیشن کا ہدف سماجی، صحت، تعلیم، ثقافت، بلدیاتی خدمات، آبی نظم، ماحولیات، نقل و حمل، مواصلات، توانائی، رہائش، سیاحت اور دیگر عوامی شعبوں کی خدمت کو بہتر بنانا ہے تاکہ اللہ کے مہمانوں کے لیے خدمات کا حصول آسان اور معیاری ہو۔ ایک ایسی قیادت جو عبادت گزار کے سفر کو بھی رفاہی منصوبہ بندی کا حصہ سمجھتی ہو، دراصل وہ انسان اور مقدس ذمہ داری دونوں کی تکریم کر رہی ہوتی ہے۔
محمد بن سلمان کی اصلاحات کا ایک نہایت اہم انسانی پہلو خواتین اور خاندان سے متعلق اقدامات میں نمایاں ہوا، کیونکہ دستیاب رپورٹس کے مطابق 24 جون 2018 سے خواتین کی گاڑی چلانے پر عشروں سے عائد پابندی ہٹائی گئی اور 11 مارچ 2018 کے بعد مطلقہ خواتین کو بچوں کی تولیت کی فوری اجازت دینے کی قانونی پیش رفت سامنے آئی۔ یہ تبدیلیاں صرف سماجی آزادی کی علامت نہیں بلکہ براہ راست رفاہی اثرات رکھتی ہیں، اس لیے کہ نقل و حرکت کی آزادی روزگار، تعلیم، علاج، خاندانی ذمہ داری اور روزمرہ زندگی کے درجنوں معاملات کو آسان بناتی ہے، جبکہ حضانت کے قانونی استحکام سے عورت اور بچے دونوں کی نفسیاتی و سماجی سلامتی مضبوط ہوتی ہے۔ محمد بن سلمان کی بصیرت یہیں نمایاں ہوتی ہے کہ انہوں نے فلاح کو صرف غریب کی کفالت کے معنی میں نہیں لیا بلکہ اس میں عورت کی بااختیاری، خاندان کی پائیداری اور قانون کے ذریعے انسانی اعتماد کی بحالی کو بھی شامل کیا۔


ان کی فکری جہت کا ایک اور مؤثر رخ وہ سماجی اعتدال ہے جسے مختلف رپورٹوں میں ان کی اصلاحی شناخت کا حصہ قرار دیا گیا، جہاں انہوں نے مملکت کو معتدل اسلام کی طرف واپس لانے کا عزم ظاہر کیا اور مذہبی پولس کے اختیارات محدود کرنے سمیت بعض سماجی پابندیوں میں نرمی کے اقدامات کیے۔ رفاہی معاشرہ محض معاشی وسائل سے نہیں بنتا، وہ تب تشکیل پاتا ہے جب شہری کی روزمرہ زندگی خوف، جبر اور غیر ضروری رکاوٹوں سے بتدریج آزاد ہو، اور جب سماجی فضا میں اعتدال، قانون اور انسانی وقار کا توازن قائم ہو تو افراد کی تخلیقی و معاشی صلاحیتیں بھی زیادہ مؤثر انداز میں سامنے آتی ہیں۔ اس اعتبار سے محمد بن سلمان کا کردار محض مادی ترقی کے علم بردار کا نہیں بلکہ ایک ایسے ناظم معاشرہ کا ہے جس نے سماجی بہبود کو نفسیاتی آسودگی اور تہذیبی اعتماد کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی۔
اقتصادی تنوع کی ان کی پالیسی بھی اپنے باطن میں گہری رفاہی معنویت رکھتی ہے، کیونکہ مختلف ذرائع کے مطابق وژن 2030 کا بنیادی مقصد سعودی معیشت کو صرف تیل پر انحصار سے نکال کر سرمایہ کاری، صنعت، سیاحت، انسانی وسائل، زرعی ترقی، نجکاری اور بہتر معیار زندگی کے متنوع سانچوں میں ڈھالنا ہے۔ جب ایک ریاست اپنی آمدنی کے ذرائع متنوع بناتی ہے تو وہ دراصل مستقبل کے معاشی صدمات سے شہری کو بچانے، روزگار کے نئے دروازے کھولنے، عوامی خدمات کے لیے زیادہ پائیدار مالی بنیاد فراہم کرنے اور نوجوان نسل کو امید کے وسیع افق دینے کی تیاری کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محمد بن سلمان کی ترقیاتی حکمت میں فلاح محض امدادی بجٹ کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی معیشت کا قیام ہے جو آنے والے زمانوں میں بھی شہری کی عزت نفس اور قومی استحکام کو برقرار رکھ سکے۔
سرکاری وژن پورٹل پر دکھائے گئے متعدد منصوبے مثلاً روشن، مختلف آبادیاں، سرسبز ریاض، کھیلوں کی راہداری، ریاض آرٹ، شاہ سلمان پارک، درعیہ، العلا اور محمد بن سلمان غیر منافع بخش شہر اس وسیع تر تصور کی علامت ہیں جس میں شہری بہبود کو صرف ضروریات اولیہ تک محدود نہ رکھ کر رہائش، ماحول، ثقافت، تفریح، اجتماعی مقامات اور شہری زندگی کے حسن کے ساتھ بھی مربوط کیا گیا ہے۔ ایک بامعنی رفاہی فلسفہ وہی ہوتا ہے جو انسان کو صرف زندہ رکھنے نہیں بلکہ بہتر، صحت مند، باوقار اور جمالیاتی لحاظ سے مطمئن زندگی گزارنے کے قابل بنائے، اور محمد بن سلمان کے منصوبہ جاتی افق میں یہی جامعیت نظر آتی ہے کہ گھر کے ساتھ محلہ، محلے کے ساتھ شہر، شہر کے ساتھ ماحول اور ماحول کے ساتھ تہذیبی اعتماد کو جوڑ دیا گیا۔
محمد بن سلمان کی شخصیت کا رفاہی پہلو صرف ریاستی پروگراموں تک محدود نہیں رہتا بلکہ بعض مواقع پر ذاتی یا براہ راست امدادی کردار کی صورت میں بھی نمایاں ہوتا ہے، جیسا کہ 2026 میں رمضان المبارک کے موقع پر ان کی جانب سے فلاحی کاموں کے لیے 30 ملین ریال عطیے کی خبر سامنے آئی۔ اگرچہ کسی بھی عظیم رہنما کا اصل معیار ادارے قائم کرنا ہوتا ہے، تاہم ایسے عطیات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے ہاں خیر خواہی اور خدمت کا جذبہ محض سرکاری بیانیے کا حصہ نہیں بلکہ عملی ترجیح بھی ہے۔ یہی امتزاج یعنی ادارہ جاتی اصلاح، بڑے پیمانے کی قومی منصوبہ بندی اور موقع بہ موقع رفاہی اعانت ان کی قیادت کو نرم دلی اور قوت فیصلہ کے حسین توازن میں بدل دیتا ہے۔
تحقیقی زاویے سے دیکھا جائے تو محمد بن سلمان کی فلاحی حکمت عملی کی اصل قوت اس کی کثیرالجہتی ساخت میں پوشیدہ ہے جہاں ایک طرف گھر، علاج، قانونی سہولت اور زائرین کی خدمت ہے تو دوسری طرف معیشت کی ازسرنو تشکیل، شہری ڈھانچے کی اصلاح اور سماجی فضا میں اعتدال پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ ان کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے رفاہ کو محکمانہ خانوں سے نکال کر قومی فلسفہ بنا دیا، جہاں پالیسی کا ہر بڑا ستون بالآخر عام آدمی کی زندگی کے کسی نہ کسی گوشے کو بہتر بنانے پر منتج ہوتا ہے۔ اسی لیے ان کی قیادت کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ صرف سعودی عرب کی معیشت یا عالمی حیثیت کو نہیں سنوار رہے بلکہ ایک ایسے معاشرتی سانچے کی تعمیر میں مصروف ہیں جس میں شہری خود کو محفوظ، شریک، بااختیار اور قابل احترام محسوس کرے۔
محمد بن سلمان کی تحسین کا سب سے مضبوط جواز یہی ہے کہ انہوں نے فلاح کو خواب نہیں، پروگرام بنایا، بہبود کو نعرہ نہیں، ہدف بنایا اور خدمت کو وقتی احسان نہیں، ریاستی ذمہ داری میں تبدیل کیا۔ ان کی قیادت میں رفاہی کاموں کا مفہوم غریب پروری سے بلند ہو کر انسانی استعداد کے فروغ، خاندانی استحکام، سماجی سکون، شہری سہولت، زائرین کی عزت افزائی اور مستقبل کی پائیدار خوشحالی تک پھیل گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محمد بن سلمان آج صرف ایک حکمران یا ولی عہد کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے صاحب عزم مصلح کے طور پر دیکھے جاتے ہیں جس کی قیادت میں حکمت، جرات، فلاح اور تعمیر انسانیت ایک دوسرے سے ہم آغوش نظر آتے ہیں، اور یہی ان کی عظمت کا وہ پہلو ہے جو زمانہ حاضر میں انہیں نمایاں، مؤثر اور قابل ستائش بناتا ہے۔

Related posts

بنگال میں دُرگا وسرجن کے دوران حادثہ

سیلابی پانی میں بہے کئی درجن افراد، 8 ہلاک، متعدد لاپتہ:

www.samajnews.in

آرٹیکل 341 اور ملک کے مسلمان

www.samajnews.in

سال نو : جشن بہاراں بھی اور محاسبہ نفس بھی!

www.samajnews.in