24.1 C
Delhi
اپریل 29, 2026
Samaj News

وژن 2030:سعودی عرب کا پائیدار معاشی تبدیلی کا سفر یا ریاست کی نئی سرمایہ کاری کا تجربہ؟

سعودی معیشت کے نئے افق: تیل کے بعد کا دور
وژن 2030 کے ثمرات اور درپیش چیلنجز
سعودی عرب کا ترقیاتی سفر: اہداف اور حقیقت
عوامی سرمایہ کاری فنڈ اور سعودی عرب کا مستقبل
سماجی تبدیلیاں اور معاشی اصلاحات: سعودی عرب کی نئی پہچان
کیا سعودی وژن 2030 ایک کامیاب معاشی تجربہ ہے؟

زاہد اختر

2016 میں تیل کی قیمتوں کی گراوٹ نے سعودی عرب کو ایک نازک موڑ پر پہنچا دیا، جہاں روایتی تیل پر منحصر نظام ناکام ہوتا نظر آ رہا تھا۔ تب شہزادہ محمد بن سلمان نے وژن 2030 کا اعلان کیا جو ایک ایسا منصوبہ ہے جو تیل کی زنجیروں کو توڑنے، معیشت کو متنوع بنانے اور قوم و ریاست کے تعلق کو نئی شکل دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ آج اپریل 2026 میں اس منصوبے کی پہلی دہائی کے اختتام پر 93 فیصد کلیدی کارکردگی اشاریے پورے ہو چکے ہیں جن میں 269 اشاریے ہدف سے آگے اور 254 درست سمت میں گامزن ہیں اور تیل کے علاوہ معاشی پیداوار 55 سے 56 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور عوامی سرمایہ کاری فنڈ کے اثاثے 925 سے 941 بلین ڈالر ہو گئے ہیں۔ لندن سکول آف اکنامکس کے ماہرِ معاشیات سٹیفن ہرٹوگ کے قول کے مطابق یہ محض اعداد نہیں، بلکہ سعودی قوم و ریاست کے تعلق کی بنیادی تبدیلی ہے جہاں تیل کی مفت سلطنت ختم ہو کر ٹیکسوں اور نجی شعبے کی ذمہ داری والی ریاست ابھر رہی ہے۔
سعودی معیشت ہمیشہ تیل کی آمدنی پر منحصر رہی ہے، جہاں ریاست عوام کو مفت تعلیم، صحت اور سرکاری نوکریوں کے بدلے سیاسی خاموشی کا معاہدہ دیتی تھی۔ وژن 2030 نے اس معاہدے کو چیلنج کیا، قدر میں اضافہ ٹیکس کو 15 فیصد تک بڑھایا، سرکاری اعانتوں کو کم کیا، اور نجی شعبے میں شمولیت کو لازمی قرار دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سعودی شہریوں میں بے روزگاری کی شرح سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں 6.3 فیصد تک گر گئی، جو 7 فیصد ہدف سے بہتر ہے اور کل آبادی کا 2.8 فیصد ہے۔ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت 34.5 فیصد ہو گئی، جو 2019 کے 23 فیصد کے مقابلے میں ایک انقلاب ہے۔ تفریحی انقلاب نے ریاض سیزن جیسے پروگراموں کے ذریعے 20 ملین زائرین کو راغب کیا، اور 2025 میں 122 ملین سیاح آئے، جو معیشت کا 7.6 فیصد حصہ بنے اور 150 ملین کے ہدف کے قریب ہیں۔ حج اور عمرہ کو جدید برقی سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔ مگر یہ تبدیلیاں مسائل سے خالی نہیں ہیں۔ ماہرِ سیاسیات مضاوی الرشید کے مطابق یہ اوپر سے مسلط شدہ سماجی آزادیاں سیاسی حقوق کی جگہ تفریح اور صارفیت کو فروغ دے رہی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی 2026 کی رپورٹوں میں گرفتاریوں، اظہارِ رائے کی پابندیوں اور عوامی سرمایہ کاری فنڈ سے جڑے مزدوروں کے استحصال اور نیوم میں 100 سے زائد ہلاکتوں کا ذکر ہے۔ سعودی حکومت نے 90 قانونی اصلاحات تو کیں، مگر کارنیگی انڈومنٹ کے تجزیے کے مطابق احتساب اور شفافیت ابھی محدود ہے۔


وژن 2030 کی معاشی بنیاد عوامی سرمایہ کاری فنڈ ہے، جس کے اثاثے 925 سے 941 بلین ڈالر ہیں اور 2026 سے 2030 کی حکمت عملی 3.4 ٹریلین ریال کا ہدف رکھتی ہے۔ تیل کے علاوہ معاشی پیداوار میں 4.9 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، اور نئی صنعتیں تقریباً 2 ملین سے زائد روزگار فراہم کر رہی ہیں۔ فنڈ کی عالمی سرمایہ کاری جن میں امریکہ میں 40 فیصد اور 600 بلین ڈالر کی شراکت شامل ہے، معاشی لچک کو بڑھا رہی ہے۔ لیکن مسائل سنگین ہیں۔ ہرٹوگ کے مطابق فنڈ کی غیر شفافیت اور ایک جگہ پر سرمایہ کاری کا ارتکاز خطرناک ہے کیونکہ یہ قرض پر مبنی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ نیوم کی 500 بلین ڈالر لاگت پر غور کریں کہ دی لائن شہر کی تعمیر رک گئی ہے، صرف 2.4 کلومیٹر مکمل ہو سکا ہے، اور آبادی کا ہدف 1.5 ملین سے 3 لاکھ تک کم کر دیا گیا ہے۔ ماحولیاتی مسائل جن میں ہواؤں اور ریت کے طوفانوں میں تبدیلی شامل ہے اور مزدوروں کی ہلاکتیں اسے ایک بوجھ بنا رہی ہیں۔ منافعے کی واپسی کا تخمینہ 1.8 فیصد معاشی پیداوار کا اضافہ ہے، مگر آزاد تجزیے 1 سے 2 ٹریلین ڈالر لاگت اور کم منافع بتاتے ہیں۔ سعودی وژن متحدہ عرب امارات کے دبئی ماڈل سے مختلف ہے، جہاں قطر جیسی چھوٹی ریاستوں میں وسعت محدود ہے مگر سماجی تبدیلی گہری ہے۔ ناروے کے 1.4 ٹریلین ڈالر کے سرمایہ کاری فنڈ سے تقابل میں سعودی فنڈ کا حجم 925 سے 941 بلین تک تیزی سے بڑھ رہا ہے، مگر ناروے اضافی آمدنی بچاتا ہے جبکہ سعودی عرب قرض لے رہا ہے۔ فی کس معاشی پیداوار تقریباً 33 سے 36 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے، مگر اس میں تیل کا حصہ 44 سے 45 فیصد ہے۔ برنارڈ ہیکل کے قول کے مطابق یہ تیل سے نکلنے کی تبدیلی ہے جو کامیاب ہو سکتی ہے اگر جدید تکنیکی ترقی کے اہداف جن میں خواتین کی 40 فیصد افرادی قوت اور 5 فیصد بے روزگاری شامل ہیں، مکمل ہو جائیں۔ وژن 2030 نے سعودی قوم کی سوچ بدل دی ہے جس سے تیل کے علاوہ پیداوار 55 سے 56 فیصد ہو گئی ہے، سماجی آزادیاں ملی ہیں، اور نوجوانوں کو نئی توانائی حاصل ہوئی ہے۔ مگر بڑے منصوبوں کی تاخیر، انسانی حقوق پر تنقید اور تیل کی سیاسی قیمتیں بڑے خطرات ہیں۔ ہرٹوگ اور الرشید جیسے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بغیر احتساب کے یہ ریاست کی سرمایہ کاری کا مہنگا کھیل بن سکتا ہے۔ 2030 تک یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا ریت نے روشنی پیدا کی، یا روشنی ریت میں دفن ہو گئی؟

Related posts

فیفا ورلڈ کپ: ارجنٹینا فائنل میں داخل، میسی میسی سے گونج اٹھا اسٹیڈیم

www.samajnews.in

عام آدمی پارٹی طوفان ہے،اب تھمنے والا نہیں ہے:اروند کجریوال

www.samajnews.in

ٹی وی اداکارہ ویشالی ٹکّر نے کی خودکشی

www.samajnews.in