33.1 C
Delhi
جولائی 25, 2024
Samaj News

الیکٹرانک میڈیا اور قومی لیڈران بھی تماشائی

کانپور دیہات کی ماں بیٹی کی طرح ہی جنید اور ناصر کو زندہ جلا دینے والی سو چ ہمارے آئین اور جمہوری نظام کیلئے خطرناک: ایڈوکیٹ محمد علی

سہارنپور، سماج نیوز(احمد رضا) ضلع کے سینئر سوشل قائد اور ایڈوکیٹ محمد علی نے بھیوانی کے علاقہ میں دو مسلم نوجوانو ں کو زندہ جلا کر راکھ کر دینے کے شرمناک واقعہ پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانپور میں ما ں بیٹی کو ان کی جھونپڑی میں زندہ جلا کر مار ڈالنے والی اور جنید ناصر کو زندہ جلا دینے والی سو چ ہمارے ملک کے آئینی اور جمہوری نظام کے لئے سنگین خطرہ ہے، اگر وقت رہتے اس سو چ کو نیست ونابود نہیں کیا گیا تو ملک کا امن برباد ہو جائے گا۔ آج ملک میں مسلم افراد کو ہلاک کر نے اور مسلم افراد پر جبر ڈھا نے والے دہشت پسند افراد کی کی بھی خوف تعریف کی جاتی ہے۔ ظالموں اور قاتلوں کی حمایت میں مظاہرے ہوتے ہیں اور مسلم افراد کے قتل کر سہی ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ سو چ بھی ملک کے اندر پنپنے والے سنگین نوعیت کے خطرہ کی طرف اشارہ کرتی ہیں جبکہ مسلم طبقہ ہمیشہ حق کی بات کرتا ہے مسلم طبقہ ہندو مسلم سکھ اور عیسائی مذہب کے افراد کے ساتھ کوئی تفریق نہیں رکھتا ہمارے علمائے کرام سبھی کے لئے حق کی آواز بلند کرنے میں سب سے آگے رہتے ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے کہا کہ بات ہندو مسلم افراد کی ہو یا سکھ عیسائی طبقہ کے افراد کی ہمارے علمائے کرام نے ازل سے ہی لگاتار حق کے لئے آواز بلند کی ہے جنگ آذادی کے ڈھائی سو سال کے عرصہ میں اہل ایمان اور اہل دین نے حق پر قائم افراد کو بھر پور مدد فرمائی، ایسے واقعات سے ملک کی تاریخ بھری ہوئی ہے۔ بلڈوزر جب مسلم طبقہ پر چلتا ہے ہمارے اکابرین تب بھی ظلم اور جبر کی مخالفت کرتے ہیں اور آج کسی برہمن خاندان پر بلڈوزر کا عتاب پڑا تو آج بھی ہمارے علماء سب سے آگے نظر آئے۔ یاد رہے کہ کانپور بلڈوزر کے دلسوز ،شرمناک اور انسانیت کو داغ دار کرنے والے واقعات کی مذمت کرتے میں علمائے اسلام کا رویہ قابل تحسین رہا ہے ہمارے بزرگوں نے ہمیشہ سچ اور حق کو اپنا شعور اور موقف ثابت کر دکھایا ظلم اور ستم نيز جھوٹ کے سامنے کبھی گردن میں شکن تک نہی آنے دی سر اور پگڑی بلند ہی رہے۔ دین اسلام کے ماننے والوں کا یہی عزم تا قیامت اسی طرح سے قائم و دائم رہے گا۔ پچھلے دنوں کانپور دیہات کی میتھا تحصیل کی مڑولی گاؤں میں ناجائز قبضہ کا الزام لگاکر غریب برہمن پریوار کی جھونپڑی ہٹانے کے دوران ماں، بیٹی کو زندہ جلا کر ہلاک کئے جانے کے دلسوز اور شرمناک واقعہ نے جہاں سبھی باضمیر افراد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا مگر سرکاری مشینری کے ظلم اور جبر کے خلاف منھ کھولنے کی ہمت کسی نے بھی نہیں دکھائی تب بھی سب سے آگے بڑھ کر جمعیۃ علماء اترپردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے اس شرمناک واقعہ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس دلسوز واقعہ پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اس حرکت کو مقامی انتظامیہ کی بڑی ناکامی بتاتے ہوئے ماں بیٹی کی موت کو انسانیت کا عظیم نقصان قرار دیا۔ مولانا نے بے باک لہجہ میں کہا کہ جلد از جلد مہلوکین کے اہل خانہ کو راحت پہنچانے کی کوششیں اور تدابیر کی جانی چاہئے۔ مولانا نے کہا کہ انتظامیہ کے افسران جو رویہ آج اختیار کر رہے ہیں اگر وقت رہتے پہلے سے ہی ان غریبوں کی آواز دبائی نہ گئی ہوتی اور ان کے درد کو پہلے ہی سن کر محسوس کر لیا گیا ہوتا تو یہ اتنا بڑا واقعہ رونما نہیں ہوتا۔ ایس ڈی ایم کا شما ر ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران میں ہوتا ہے، لیکھ پال جس پر علاقہ کی زمین و املاک کی نگرانی سمیت دیگر اہم ذمہ داریاں رہتی ہے، لیکن کمزور اور غریب ترین ما ں بیٹی کے ساتھ جان بوجھ کر اس زمہ دار عملہ کے ذریعہ کی گئ حرکت بے حسی، بے رحمی اور ظلم وزیادتی کی انتہاء کا بڑا نمونہ ثابت ہو گئی ہے غریب ماں بیٹی اور ان کے مویشی زندہ جلتے رہے لیکن سرکاری مشینری کے کسی بھی ذمہ دار کا دل نہیں پسیجا اور وہ آگ لگنے کے بعد بھی ان کے گھروں پر بلڈوزر چلاتے رہےاندر جھونپڑی میں ما ں بیٹی جلتی رہی حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان کے گھر کے اندر موجود مذہبی عبادتگاہ شیو مندر کی جس قدربے حرمتی کی گئی وہ بتانے لائق نہیں اس حرکت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے سرکار کے اشارے پر جبر اور ظلم بے حد دردناک واقعہ ہمارے افسران کو مال و دولت، عہدہ، رتبہ، پاور اور طاقت کے نشے سے باہر آکر انسانیت کی بنیاد پر بلا تفریق مذہب تمام غریبوں اور ضرورتمندوں کے ساتھ ہمدردی اور حسن سلوک کا معاملہ کرنا پڑے گا، ورنہ قدرت کبھی ظالموں کو معاف نہیں کرے گی مولانا نے صاف کہا کہ ہماری تنظیم جمعیۃ علماء مہلوکین کے اہل خانہ کے غم میں شریک ہے، جو واقعہ رونما ہوا وہ نہیں ہونا چاہئے، اس واقعہ نے ہمارے ضلع کا سر شرم سے نیچا، انتظامیہ کا بے رحم چہرہ اجاگر کیا ہے واقعہ کے بعد سے متاثرہ کے اہل خانہ کو حکومتی اسکیموں کا فائدہ دلانے کی بات سامنے آئی ہے لیکن اس طرح کی تمام چیزوں سے انتظامیہ کی بے رحمی کا شکار ہوئیں وہ ماں بیٹی تو دوبارہ لوٹ کر نہیں آسکتیں ہیں، ایک عرصہ کے بعد دنیا کی عدالتوں میں اگر مہلوکین کے اہل خانہ مقدمہ جیت بھی گئے تب بھی یہ ان کیلئے صحیح معنوں انصاف نہیں ہوگا! قابل ذکر بات یہ ہے کہ گفتگو کے آخر میں مولانا عبد اللہ نے کہا کہ ظالم کبھی کسی کے سگے نہیں ہو سکتے، بلڈوزر کارروائی کا درد اور تڑپ وہی سمجھ سکتا ہے جس کی زندگی بھر کی کمائی اور سنجوئیں گئیں محبت بھری یادیں ایک لمحہ میں ملبہ کا ڈھیر بنادی جاتی ہیں،اف لعنت ہے بلڈوزر والی کاروائی پر اور بلڈوزر والی سو چ پر۔

Related posts

ہماچل انتخابات:ووٹروں کو گمراہ کررہی ہے بی جے پی: پرینکا گاندھی

www.samajnews.in

حج 2024: کیرالا کی خواتین سب سے بڑی تعداد میں بغیر محرم کے حج کریں گی

www.samajnews.in

عامر سلیم خان:شریف النفس صحافی، عالم وفاضل اور ایک کہنہ مشق شاعر

www.samajnews.in