33.1 C
Delhi
جولائی 25, 2024
Samaj News

تعلیم سے خواتین کو روکنا یا ترقی وخوشحالی کی راہ میں مشکلات پیدا کرناافسوسناک: آل انڈیا علماء بورڈ

سہارنپور، سماج نیوز:(احمد رضا) خواتین کو تعلیم کے حصول سے طاقت کے بھروسہ روکنے والا طالبان کا سخت ترین قدم غیر دانشمندانہ و ظالمانہ قدم ہے دین اسلام اس طرح کی حرکات کے سخت خلاف ہے اسلام تعلیم کے حصول کی اجازت دیتا ہے تعلیم سے محروم کر نے والے حکم کی ہم سختی سے مذمت کرتے ہیں آل انڈیا علماء بورڈ کے سربراہ نے مزید بتایا کہ مسلم طبقہ کو تعلیم سے محروم کر نا دین اسلام کے خلاف خطرناک ترین قدم ہے علماء بورڈ کے رکن بھائی طفیل ندوی سے موصولہ تحریر سے واضع ہے کہ طالبان حکومت کی طرف سے افغانستان میں خواتین کی تعلیم پر جو پابندی عائد کی گئی ہے وہ یقینا افسوسناک قدم ہے اس طرح کی پابندی خواتین کی حوصلہ شکنی اور حق تلفی کے مترادف ہے کیوں کہ اسلامک اسٹیٹ کے نظام کے تحت تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے خواہ وہ مرد ہوں یا عورت اور ہر زمانے میں اس کے حصول کیلئے مستقل انتظامات کیے گئے ہیں لیکن طالبانی کارکردگی ہماری خواتین کو تعلیم کے حصول سے روکنا کا جو کام کر رہی ہے وہ کسی بھی صورت اسلامی تعلیمات کے مطابق نہی بلکہ ایسا عمل اسلام کے حکم کے سخت خلاف ہے قابل ذکر ہے کہ عہد نبوی رسول اکرم صلی االلہ علیہ وسلم کے وقت بھی غزوۂ بدر کے موقعہ پر جن قیدیوں کو گرفتار کیا گیا ان میں بعض ایسے بھی تھے کہ وہ فدیہ ادا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے ، تو انہیں مسلمان مرد و خواتین کو تعلیم دینے پر مامور کیا گیا تاکہ وہ اِس تعلیم کے عوض رہائی اور آزادی حاصل کرسکیں‌ حضرت محمد ﷺ کی تعلیمی سرگرمیوں میں مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی اہمیت دی گئی۔ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کے مبارک عہد میں معلمین کی طرح معلمات کا بھی تقرر ہوتا تھا۔ حضرت اُم ورقہ، شفاء بنت عبداللہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا شمار عہد رسالت کی معلمات میں بجا طور پر کیا جا سکتا ہے۔ رسول کریم ﷺ بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کی ترغیب دیا کرتے تھے۔ حدیث میں ہےکہ’’ جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی ان کی تعلیم و تربیت کی اور ان سے اچھا سلوک کیا تو اس کے لئے جنت ہے“۔ قابل احترام سلیم الوارے، مولاناسیداطہرعلی اشرفی،مولانانوشاداحمدصدیقی، علامہ بنی حسنی،مولاناشمیم اخترندوی،مولاناثابت علی نقشبندی،مولانامحمدابوالحسن ،صوفی رضا احمدقادری،حافظ سرتاج نواز، مولانامحمدطفیل ندوی،مسزعظمی ناہیداسلامی اسکالر،ایڈوکیٹ مسزفرحانہ شاہ کے ساتھ ساتھ قابل احترام سوشل قائد مسز شمیم معصوم حسنی نے اپنے اپنے طور سے اسلامی دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسلامی ادوار میں تعلیم کے حصول اور فروغ کے لئے مسلسل کاوشیں کی گئیں ہیں جن میں علوم و فنون کے مختلف میدانوں میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین کو بھی موا قع فراہم رہے نتیجہ کے طور پر ہمیشہ سے خواتین کی بھی خدمات تعلیمی اور علم و فنون کے میدان میں نمایاں ہیں اس طرح کی تابناک مثالوں سے تاریخ کے اوراق روشن ہیں مسجد نبوی میں نمازوں کے بعد ہمیشہ سے ہی تعلیم و تلقین کا اہتمام کیا جاتا جس میں مرد و خواتین یکساں طور پر شریک رہتے خصوصی طور سے جمعہ ، عیدین اور حج کے خطبات کے ذریعے عمومی تعلیم و تہذیب کا نظم و نسق وغیرہ معمول کے مطابق جاری رہتا تھا جس عمل نے ہمیشہ سے ملک و قوم کی قیادت اور انسانی تمدن کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا ہے موجودہ دور میں جہاں تعلیم کی قدر و قیمت پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ بڑھ چکی ہے ، اور بلا امتیازِ مرد و زن تعلیم کے فروغ کے لیے مسلسل تحریکیں سرگرم عمل ہیں ، ایسے حالات میں تعلیمِ نسواں کے سلسلے میں افغان حکومت کا موجودہ فیصلہ یقیناً ناقابلِ برداشت اور انسانی اقدار کے خلاف ہے‌ جس پر افغان حکومت کو نظر ثانی کرکے فیصلہ سے رجوع کرنا چاہئے۔ اور مستقبل میں تعلیمِ نسواں کے فروغ کے لیے مضبوط اور خوش آئند اقدامات کرنے چاہئے ان تمام خیالات کا اظہار آل انڈیا علماء بورڈ کی جانب سے کیا گیا۔ بورڈ نے یہ اعلان جاری کیا کہ تعلیم زندگی کا بنیادی مقصد ہے اور اسلام نے علم و تعلیم کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے اور اللہ رب العزت نے نبی کریم ﷺ کو غار حرا میں جو پہلی وحی کے ذریعے نبوت سے سرفراز فرمایا اس کا آغاز بھی لفظ ’ اقراء ‘ سے ہوتا ہے پھر قرآن مقدس میں کئی مقامات پر تحصیلِ علم کی تشویق و ترغیب دلائی ہے طالبانی حکومت کے اس طرح کے ظالمانہ فیصلے افغان خواتین کے لئے تو تابوت میں آخری کیل ثابت ہونگے علاوہ بین لاقوامی سطح پر اس سے اسلام بھی رسوا ہو رہا ہے کیونکہ اس طرح کے غیر منصفانہ فیصلے اسلام کے نام پر کئے جا رہے ہیں۔
اخیر میں مسلم ممالک کےسربراہانِ سے یہ اپیل ہے کہ طالبان حکومت سے رابطہ کرکے اس فیصلہ کو منسوخ کروایا جائےحکومت ہند کو بھی سفارتی سطح پر اس فیصلے کی مذمت کرنی چاہئے اس لئے کہ یہ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ افغانستان کی آنے والی نسلوں کا مسئلہ ہے تعلیم کے حصول کے ایشو پر مسلم ممالک سے اپیل کر نے والے زمہ داران میں قابل احترام سلیم الوارے، مولاناسیداطہرعلی اشرفی، مولانا نوشاد احمد صدیقی، علامہ بنی حسنی، مولانا شمیم اختر ندوی، مولانا ثابت علی نقشبندی،مولانامحمدابوالحسن ،صوفی رضا احمدقادری،حافظ سرتاج نواز، مولانامحمدطفیل ندوی،مسزعظمی ناہیداسلامی اسکالر،ایڈوکیٹ مسزفرحانہ شاہ کے ساتھ ساتھ قابل احترام سوشل قائد مسز شمیم معصوم حسنی کے نام نامی قابل ذکر ہیں۔

Related posts

معروف شعلہ بیان خطیب مولانا غیاث الدین سلفی کا سانحہ ارتحال اور پرنم آنکھوں سے سپردخاک:وصی اللہ مدنی

www.samajnews.in

یونانی دوائیوں کی بہتر جانکاری دینا میلے کا مقصد تھا: حکیم امام الدین ذکائی

www.samajnews.in

پٹری کے بجائے اسٹیشن پر دوڑنے لگی مال گاڑی، 2کی موت، درجنوں زخمی

www.samajnews.in