41.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

دہشت گردوں کو ہمارے حوالے کرے بھارت: حنا ربانی کھر

اسلام آباد: پاکستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے بھارت کو انتباہ کیا گیا ہے کہ نئی دہلی کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی حمایت کے معاملے کو اسلام آباد ایک ڈوزیئر کی شکل میں اقوام متحدہ کے سامنے رکھے گا۔ وزارت خارجہ کے اس بیان سے ایک روز قبل اسلام آباد نے کہا تھا کہ پاکستان میں ہوئی ایک ’’ہائی پروفائل بمباری‘‘ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے اپنے بیان میں جوہر ٹاؤن دھماکے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کو جو ڈوزیئیر پیش کرنے جا رہا ہے اُس میں 2021 ء میں ایک مذہبی لیڈر کے گھر کے باہر ہونے والے بم دھماکے اور تخریب کاری کے دیگر واقعات جنہیں حنا ربانی دہشت گردی قرار دیتی ہیں، میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت اور معلومات کی تفصیلات شامل کی جائیں گی۔وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر کے مطابق مذکورہ ڈوزیئر کو اقوام متحدہ کے سامنے پیش کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ’’اُن معلومات اور ثبوتوں کو شیئر کیا جائے، جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت کیا کر رہا ہے۔‘‘ ربانی نے کہا’’ آئیے ہم اپنے اپنے ریکارڈ کو درست کریں اور دنیا کو آگاہ کریں کے اس خطے میں کیا ہو رہا ہے۔‘‘
اُدھر بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے پاکستانی وزیر مملکت کے ان بیانات پر کوئی فوری تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ حنا ربانی کھر نے تاہم یہ نہیں کہا کہ ڈوزیئر کو اقوام متحدہ کی کس باڈی کے سامنے اور کب پیش کیا جانا تھا۔پاکستان کی طرف سے 2021 ء میں عسکریت پسند اسلامی گروپ لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید کے گھر کے سامنے ہونے والے بم دھماکے میں بھارت کی پشت پناہی اور اس کی فنڈنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ اسی گروپ کو 2008 ء میں بھارت نے ممبئی حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا، جس میں غیر ملکیوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ سعید ممبئی قتل عام کے ماسٹر مائینڈ تھے جبکہ حافظ سعید نے خود اس الزام کی تردید کرتے آئے ہیں۔اُدھر پاکستانی وزیر حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ مشرقی شہر لاہور میں 2021 ء میں چار افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے بم دھماکے کے سہولت کار اور ماسٹر مائنڈ بھارت میں مقیم ہیں۔ ربانی نے بھارت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا’’ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت ایک ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت پیش کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ہمارے حوالے کرے۔ اگر بھارت واقعی ایک ذمہ دار قوم ہے تو وہ اس سلسلے میں ضرور ہمارے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کرے گا۔‘‘جنوبی ایشیا کی دو جوہری طاقتیں 1947 ء میں برطانوی راج سے آزادی حاصل کرنے کے تاریخی خونریز واقعات کے بعد سے اب تک تین جنگیں لڑ چُکی ہیں۔ دنوں پڑوسی ممالک ایک دوسرے پر دہشت گردی اور حملوں کی پشت پناہی اور سرپرستی کا الزام عائد کرتے اور دونوں ہی ان الزامات کو مسترد بھی کرتے رہتے ہیں۔(ڈی ڈبلیو)

Related posts

کلیۃ البنات المسلمات انتری بازار کا سالانہ انجمن تزک و احتشام کیساتھ اختتام پذیر

www.samajnews.in

ملک کے مفاد میں مذہبی مقامات قانون 1991 کو سختی سے نافذ کیا جائے: جمعیۃ علماء ہند

www.samajnews.in

ہندوستان کیلئے 175025عازمین حج کاکوٹہ مختص

www.samajnews.in