42.1 C
Delhi
مئی 19, 2024
Samaj News

سبھی کانگریس کونسلر دلتوں، اقلیتوں اور محروم طبقات کی آواز بن کر کام کریں گے: چودھری انل کمار

نئی دہلی، سماج نیوز: دہلی پردیش کانگریس صدر چودھری انل کمار نے آج ریاستی دفتر میں کانگریس کے نومنتخب کونسلرس کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن انتخاب میں عوام کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، لیکن دہلی کے عام شہری، دلتوں، اقلیتوں و محروم طبقات کے جن حقوق سے متعلق ایشوز پر کانگریس پارٹی نے میونسپل کارپوریشن انتخاب لڑا، ہمارے کونسلر ایوان میں اس کے لیے لڑتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ یہ کونسلرس عوام کی آواز بنیں گے۔چودھری انل کمار نے کہا کہ کارپوریشن انتخاب میں بی جے پی اور عآپ نے دولت کا خوب استعمال کیا اور کانگریس کی انتخابی تشہیر کو دبانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن دہلی کی عوام نے شیلا جی کی ’میری چمکتی دہلی‘ مہم کو پسند کیا اور دہلی میں بی جے پی کے بدعنوانی کو ختم کر دیا۔

دہلی پردیش کانگریس صدر چودھری انل کمار نے آج ریاستی دفتر میں کانگریس کے نومنتخب کونسلر کا تعارف کرایا اور کہا کہ یہ دلتوں، اقلیتوں و محروم طبقات کے حقوق کی لڑائی لڑیں گے

انھوں نے مزید کہا کہ عوام نے جہاں بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا، وہیں اروند کجریوال کے 230 وارڈوں میں جیت کے دعوے کی بھی ہوا نکال دی۔ اس سے ظاہر ہے کہ دہلی میں عآپ کی گرفت کمزور ہوئی ہے۔چودھری انل کمار نے دہلی میونسپل کارپوریشن انتخاب کے اعداد و شمار پر بھی گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ کارپوریشن انتخاب میں 8.56لاکھ ووٹ کانگریس امیدواروں کو ملے جو تقریباً 12 فیصد ہیں۔ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پارٹی پر دلت اور اقلیتی طبقہ نے خصوصی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ علاوہ ازیں 16 فیصد صفائی اہلکاروں سے جڑا دلت طبقہ عآپ سے دور ہو گیا ہے جس میں 14 فیصد براہ راست کانگریس سے جڑ گیا ہے۔ 30 فیصد اقلیتی ووٹ کانگریس کے حصے میں پڑا ہے۔ چودھری انل کمار نے یہ بھی کہا کہ دہلی میں آنے والے وقت میں پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کانگریس کی مضبوط واپسی کا گواہ بنیں گے۔ مستقبل میں کانگریس دہلی میں جیت حاصل کرے گی اور دلتوں، اقلیتوں، محروم طبقات کے حقوق کی لڑائی لڑتی رہے گی۔اس موقع پر دہلی پردیش کانگریس کے سابق صدر سبھاش چوپڑا نے کہا کہ صاف ستھری سیاست کی بات کرنے والے اروند کجریوال نے بھی بی جے پی کے طرز پر ہارس ٹریڈنگ کر کے کانگریس کے کونسلروں کو خریدنے کی ناکام کوشش کی، جس میں ریاستی نائب صدر علی مہدی سمیت مصطفیٰ آباد کے 2 منتخب کونسلروں کو عآپ میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ علاقہ میں ترقی کے نام پر ورغلا کر مصطفیٰ آباد کانگریس کے عہدیداروں کو بہکایا گیا تھا جو اروند کجریوال کی گندی سیاست کی تازہ مثال ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح عآپ نے کانگریس لیڈران و کارکنان کو لالچ دے کر اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی سازش تیار کی۔

Related posts

بی بی سی کے دفاتر میں 60گھنٹے تک جاری انکم ٹیکس کا سروے ختم

www.samajnews.in

مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری گرفتار

www.samajnews.in

بھوجپوری اداکارہ آکانشا دوبے نے کی خودکشی

www.samajnews.in