33.1 C
Delhi
جولائی 24, 2024
Samaj News

میری جان کو اب بھی خطرہ ہے:عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیر آباد قاتلانہ حملے کے بعد بھی ان کی جان کو خطرہ ہے۔فرانسیسی نیوز چینل فرانس 24 ٹوڈے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کسی ممکنہ خطرے کی موجودگی پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے مجھے لگتا ہے کہ وہ دوبارہ کوشش کر سکتے ہیں۔ میری جان کو اب بھی خطرہ ہے۔ وہ لوگ جو مجھے ختم کرنا چاہتے تھے کیونکہ میری پارٹی پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت ہے۔‘سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انھیں بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہے اور ’مجھے راستے سے ہٹانے کا واحد طریقہ مجھے ختم کرنا ہے لہذا میرے خیال میں اب بھی خطرہ موجود ہے۔‘عمران خان کا کہنا تھا کہ ’باقی تمام سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود پی ٹی آئی نے ملک میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات میں 75 فیصد کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ضمنی انتخابات میں کلین سویپ کیا ہے کیونکہ لوگ ان مجرموں کو نہیں چاہتے جو اس وقت پاکستان پر حکومت کر رہے ہیں۔‘فرانس 24 ٹوڈے کے اینکر کی جانب سے عمران خان پر حملے سے متعلق پوچھے گئے سوال کہ گرفتار ملزم نے جرم قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب اس نے مذہبی عقائد کی بنا پر کیا لیکن کیا آپ اب بھی اس سب کا ذمہ دار وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ اور آئی ایس آئی کے ایک سنیئر افسر کو قرار دیتے ہیں؟اس کے جواب میں سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے ساڑھے تین سال حکومت کی ہے اور تمام خفیہ ایجنسیاں میرے نیچے کام کرتی تھیں، میں جانتا ہوں وہ کیسے کام کرتیں ہیں۔اس سازش کا تو میں نے حملے سے چھ ہفتے قبل ہی ایک عوامی جلسے میں بتا دیا تھا کہ مجھے ایک مذہبی جنونی کے ہاتھوں قتل کروانے کی منصوبہ سازی کی گئی ہے۔‘انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ’وزیر اعظم اور وفاقی وزیر داخلہ جن کا میں نے نام لیا ہے ہم ان کے ماضی سے واقف ہے یہ ماورائے عدالت کارروایئوں میں ملوث رہے ہیں۔ اور اب بھی اس کی آزادانہ تحقیقات ہوں گی تو ثابت ہو جائے گا کہ اس تمام کی منصوبہ بندی کی گئی اور اس کو مذہبی جنونی کا چہرہ دیا گیا۔ جبکہ سوشل میڈیا سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ ملزم بھی کوئی مذہبی رحجان نہیں رکھتا۔‘
حکومت کی جانب سے چیف جسٹس آف پاکستان کو عمران خان پر حملے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے بھی چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں، ہم پر دو حملہ آوروں کے حملہ کیا۔ اور میں جانتا ہوں کہ آزادانہ تحقیقات میں یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ سب منصوبہ سازی تھی اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ موجودہ حکومت کو ہوتا۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تمام تفتیشی ادارے ان تینوں افراد کے نیچے کام کرتے ہیں جنھیں میں حملے کا ذمہ دار قرار دیتا ہوں، لہذا چیف جسٹس اپنی ایک ٹیم بنائیں اور تمام ادارے انھیں اس متعلق آگاہ کریں صرف تب ہی آزادانہ تحقیقات ہونا ممکن ہے۔‘ڈی جی آئی ایس آئی کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ایک خفیہ ادارے کے سربراہ کا اس طرح سے آ کر پریس کانفرنس کرنا مناسب نہیں تھا اور اگر میں ان کے جوابات دیتا تو اس سے فوج کے ادارے کو نقصان پہنچتا جو میں کبھی نہیں چاہتا۔‘انھوں نے کہا کہ اگرچہ اب وہ اسلام آباد کی جانب پارٹی کے لانگ مارچ میں شامل ہونے کے بعد مزید احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے، لیکن موت کا خوف انھیں ’اس ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے لڑنے کے مشن کی پیروی کرنے سے نہیں روک سکتا۔‘فرانس 24 ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ملک میں سیاسی مافیاز اور ادارے ہیں جو قانون سے بالاتر ہیں۔‘پی ٹی آئی حکومت کی اقتدار سے بے دخلی میں سائفر اور امریکی سازش کے بیانیے کے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کہا تھا کہ وہ سازش پیچھے رہ گئی ہے۔۔۔ میری حکومت امریکہ نے گرائی ہے۔۔۔ مجھے اس بات کو اس راستے میں نہیں آنے دینا چاہیے جو پاکستان کے عوام کے مفاد میں ہے۔ اور پاکستانی عوام کا مفاد تمام ممالک اور خاص طور پر امریکہ جو ایک سپر پاور ہے کے ساتھ اچھے تعلقات میں ہیں۔(بی بی سی اردو)

Related posts

بجلی سبسڈی گھوٹالہ: اجے ماکن، ہارون یوسف اورنریندرناتھ نےلیفٹیننٹ گورنر سے کی ملاقات

www.samajnews.in

غزہ کے پارلیمنٹ اور حکومتی اداروں پراسرائیلی فوج قابض

www.samajnews.in

نیپال میں پھر ماؤ نواز حکومت، پرچنڈ ہوں گے وزیر اعظم

www.samajnews.in