45.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

ایران: حکومت مخالف مظاہروں پر لکھا جانے والا گیت جو نعرہ بن کر مشہور ہوا

تہران: ایرانی گانا، ’برائے‘، ملک میں جاری حکومت مخالف احتجاج کا مرکزی ترانہ بن چکا ہے جسے صرف ایران میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ آن لائن دیکھ چکے ہیں لیکن اس گانے کی اپنی کہانی کیا ہے؟حال ہی میں برطانوی میوزک بینڈ ’کولڈ پلے‘ نے اپنے ورلڈ ٹؤر کے آغاز پر ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں جب یہ گانا گایا تو ایرانی اداکار اور سماجی کارکن گلشفتیہ فرحانی بھی اسٹیج پر موجود تھے جن کو ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ اس کنسرٹ کے دوران اس گانے کا اصلی ورژن، جسے ایرانی گلوکار شیروین حاجی پور نے گایا تھا، بھی پس منظر میں چلایا گیا۔ اس پرفارمنس کو 81 ممالک میں دکھایا گیا جس کی وجہ سے اسے ایک عالمی شناخت ملی۔ اس گیت کو تخلیق کرنے والے حاجی پور نے تمام اشعار ان پیغامات کی مدد سے بنائے ہیں جن کے ذریعے ایران میں بسنے والے لوگ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی وجوہات بیان کر رہے ہیں۔ہر پیغام کا آغاز لفظ ’برائے‘ سے ہوتا ہے۔ فارسی زبان میں اس کا مطلب ہے ’جس کے لیے۔‘اس گیت کو لکھنے کا خیال حاجی پور کو اس وقت آیا جب ایران کی اخلاقی پولیس کے تشدد کے بعد کوما میں جانے والی 22 سالہ کرد خاتون مہسا امینی کی موت واقع ہوئی اور ملک میں مظاہرے شروع ہو گئے۔مہسا امینی کو مبینہ طور پر سر ڈھانپنے کے قوانین کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا تاہم عینی شاہدین کے مطابق ان پر حراست کے بعد پولیس وین میں تشدد کیا گیا جس کے بعد وہ کوما میں چلی گئی تھیں۔ ایران کی پولس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مہسا امینی کو ’اچانک دل کا دورہ پڑا تھا۔‘ان کی موت کے بعد پہلی بار اس وقت احتجاج ہوا جب ان کا جنازہ ہوا جہاں خواتین نے اظہار یکجہتی میں اپنے سروں پر سے سکارف اتار پھینکے تھے۔اس وقت کے بعد سے ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد اب تک کے سب سے وسیع احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔اسی دوران یہ گیت سامنے آیا جس کے جذباتی اشعار کی وجہ سے یہ سوشل میڈیا پر دنوں میں آگ کی طرح پھیل گیا۔اس گیت کے چند اشعار میں احتجاج میں شرکت کی وجہ بتائی گئی ہے کہ

’میری بہن کے لیے، تمہاری بہن کے لیے، ہم سب کی بہن کے لیے، ایک عام سی زندگی کے لیے جو ہم سب کی خواہش ہے، طلبا کے لیے اور ان کے مستقبل کے لیے۔‘

اس گیت کے خالق حاجی پور کو انسٹا گرام اکاوئنٹ پر پوسٹ کرنے کے چند ہی دن بعد گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم اس وقت تک یہ گیت لاکھوں لوگ دیکھ چکے تھے۔ان کی گرفتاری کے بعد ان کے انسٹا گرام اکاوئنٹ سے اس گیت کو ہٹا دیا گیا۔ ان کو بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا لیکن وہ خاموش رہے۔

Related posts

صحافی صدیق کپن لکھنؤ جیل سے ضمانت پر رہا

www.samajnews.in

ضلعی سطح کا فائنل سالانہ تعلیمی مظاہرہ کامیابی کیساتھ اختتام پذیر

www.samajnews.in

آئی آئی ٹی دہلی کو ملے گی ایک نئی عمارت:اروند کجریوال

www.samajnews.in