41.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ’خواتین وِنگ‘ تحلیل

سبھی حیران وششدر، مسلم طبقہ خصوصاً خواتین میں شدید ناراضگی

نئی دہلی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ’خواتین وِنگ‘ کے تحلیل ہونے کی خبر سے ہر طرف چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ کئی لوگوں نے اس سلسلے میں سخت ناراضگی اور برہمی کا بھی اظہار کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد ملک کی ہزراوں مسلم خواتین میں شدید غم و غصہ اور بے چینی کی کیفیت پائی جا رہی ہے۔
دراصل 11 اکتوبر 2022 کو ہی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری جنرل مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ڈاکٹر اسماء زہرا کو ایک خط بھیج کر آگاہ کیا تھا کہ خواتین ونگ کو تحلیل کردیا گیا ہے، لہذا اس بینر تلے وہ آگے کوئی بھی سرگرمی انجام نہ دیں۔ ساتھ ہی ہدایت دی گئی تھی کہ ویمن ونگ کے نام سے سبھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ڈیلیٹ کر دیا جائے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ فی الحال اصلاح معاشرہ کا ایک شعبہ خواتین کے لیے مخصوص کیا جا رہا ہے جس کی کنوینر آپ (اسماء زہرا) ہوں گی اور اصلاع معاشرہ کے کنوینر یا جوائنٹ کنوینر سے رابطہ کر کے اس کا م کو انجام دیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ خواتین وِنگ تحلیل ہونے کی خبر تب پھیلی جب 18 اکتوبر کو ڈاکٹر اسماء زہرا نے خواتین وِنگ سے وابستہ تمام خواتین کو ایک خط کے ذریعہ بورڈ کے فیصلے سے آگاہ کرایا۔
جب خواتین وِنگ سے وابستہ خواتین اور دیگر لوگوں کو پتہ چلا کہ بورڈ نے خواتین ونگ کو تحلیل کر دیا ہے، تو سبھی حیران و ششدر رہ گئے۔ سوشل میڈیا پر یہ خبر وائرل ہونے کے بعد بورڈ کے تئیں مسلمانوں نے شدید ناراضگی اور غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اسے غلط قدم قرار دیا۔ اس پورے معاملے میں ’ملت ٹائمز‘ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے 19 اکتوبر 2022 کی شب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے بورڈ کے لیٹر ہیڈ پر دو صفحہ کا خط ایک وہاٹس ایپ گروپ میں خود پوسٹ کیا جس میں انہوں نے اس فیصلہ پر تنقید کرنے والوں کے تئیں سخت ناراضگی ظاہر کی۔ انھوں نے ناراض ہونے والوں پر اسلام دشمن طاقتوں کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا اور صفائی دی کہ کیوں بورڈ نے خواتین ونگ کو تحلیل کیا ہے۔
ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کے خط میں کہا گیا کہ 22 مارچ 2022 کو لکھنؤ میں مجلس عاملہ کی میٹنگ میں کچھ لوگوں نے خواتین ونگ کے طریقہ کار پر اعتراض کیا تھا جس کے بعد صدر بورڈ کے مشورہ سے پانچ افراد پر مشتمل جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی میں مولانا عتیق احمد بستوی، کمال فاروقی، عطیہ صدیقی، فاطمہ مظفر اور ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کے نام شامل تھے۔ ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کو اس کمیٹی کا کنوینر بنایا گیا تھا۔ 24 جون 2022 میں کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں چنئی سے تعلق رکھنے والی فاطمہ مظفر نے شرکت نہیں کی۔ صرف چار ممبران نے شرکت کی اور خواتین ونگ کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا، جس کو نافذ کرنے کے لیے جنرل سکریٹری نے 11 اکتوبر کو خط لکھا۔
اس معاملے میں ڈاکٹر اسماء زہرا کا کہنا ہے کہ 15 اکتوبر 2022 کو بورڈ کے سکریٹری جنرل کا خط ان کو موصول ہوا جس کے بعد 18/19 اکتوبر کو ایک خط تحریر کر کے انہوں نے خواتین ونگ سے وابستہ سبھی ذمہ دار خواتین کو بورڈ کے فیصلہ سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد یہ معاملہ وہاٹس پر لوگوں کے درمیان گردش کرنے لگا۔ ڈاکٹر اسماء زہرا کے حوالے سے ’ملت ٹائمز‘ نے لکھا ہے کہ ’’بورڈ نے یہ فیصلہ ان (اسماء زہرا) سے مشورہ کیے بغیر کیا ہے۔ ان سے کبھی کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔ لکھنؤ کی عاملہ کی میٹنگ میں صرف یہ کہا گیا تھا کہ خواتین ونگ کے حدود طئے کئے جائیں گے۔ نہ تو کمیٹی تشکیل دینے کی بات ہوئی تھی اور نہ ہی کچھ اور ہوا تھا۔ یہ فیصلہ سبھی کو اندھیرے میں رکھ کر کیا گیا ہےم یں حیران ہوں کہ اتنے بڑے شعبہ کو آخر کیسے اور کس بنیاد پر چار لوگوں نے مل کر تحلیل کر دیا؟ مجھے کچھ لوگوں نے کہا کہ اپنے اپنے دائرہ سے آگے بڑھ کر کام کر رہی ہیں، تو میں نے ان سے کہا کہ آپ لوگ دائرہ طے کر دیں تو ہم لوگ اسی کے مطابق کام کریں گے۔ لیکن اب پورا شعبہ ہی تحلیل کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلہ کی وجہ سے خواتین میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے۔‘‘
ڈاکٹر قاسم رسول الیاس کے خط میں کہا گیا ہے کہ عام خواتین کی شکایت تھی کہ علیحدہ ونگ کی وجہ سے ان کا احساس تھا کہ بورڈ سے ان کو علیحدہ کر دیا گیا ہے، اس لیے یہ فیصلہ لینا پڑا ہے۔ اس طرح بورڈ میں مستقل خواتین کی نمائندگی ہو سکے گی۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر اسماء زہرا نے کہا کہ میں نے اسے سوشل میڈیا کا موضوع نہیں بنایا ہے، نہ ہی کوئی پریس ریلیز جاری کیا ہے اور نہ کسی کو انٹرویو دیا ہے۔ ہم نے محض خواتین ونگ سے وابستہ خواتین کو اس فیصلہ سے آگاہ کیا تھا تاکہ آئندہ اس فیصلہ کے مطابق کوئی بھی بہن اس بینر تلے کوئی کام نہ کرے۔
واضح رہے کہ خواتین ونگ کا قیام دسمبر 2015 میں بورڈ کے سابق جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کے فیصلے سے عمل میں آیا تھا۔ خواتین ونگ کی وجہ سے مختلف شعبہ حیات کی خواتین کو مسلم پرسنل لاء بورڈ سے وابستہ ہونے اور قریب سے اس تنظیم کو جاننے کا موقع ملا تھا۔ خواتین ونگ نے تین طلاق کیس کے وقت سرکار کے ایجنڈا کے خلاف پورے ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا اور دستخطی مہم میں سب سے زیادہ حصہ لیا تھا۔ عوامی سطح پر خواتین کے درمیان تعارف میں بھی شعبہ خواتین کا کردار ناقابل فراموش مانا جاتا ہے۔

Related posts

”تیار ہیں ہم “ کا نعرہ لگا کر کانگریس اقلیتی شعبے نے ’ بھارت جوڑو نیائے یاترا‘ کی کامیابی کیلئے خم ٹھونکا

www.samajnews.in

صبح خالی پیٹ چائے پیتے ہیں تو ہوجائیں ہوشیار! نہیں تو….

www.samajnews.in

نومبر میں بھارت آرہے ہیں ولی عہد محمد بن سلمان

www.samajnews.in