42.1 C
Delhi
مئی 19, 2024
Samaj News

تمام مجرموں کی رہائی کو مرکزی حکومت کی تھی منظوری

 

بلقیس بانو عصمت دری معاملہ: گجرات حکومت نے اپنے حلف نامے میں کہا ’’سبھی قصورواروں کا جیل میں رویہ اچھا تھا‘‘ vرہائی کیخلاف داخل عرضی پر 29 نومبر کو ہوگی اگلی سماعت

 

نئی دہلی،سماج نیوز: 2002 کے گودھرا فسادات کے دوران بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری معاملے میں قصوروار قرار دیئے گئے 11 افراد کی رِہائی کے خلاف داخل عرضی پر سماعت کرنے کے لیے سپریم کورٹ نے 29 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ نے گجرات حکومت سے جواب طلب کیا تھا اور گزشتہ پیر کو حکومت نے اپنا حلف نامہ جمع کر دیا۔ آج اس معاملے میں سماعت کرتے ہوئے جسٹس اجئے رستوگی اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے ہدایت دی کہ گجرات حکومت کے ذریعہ داخل جواب سبھی فریقین کو دستیاب کرایا جائے۔ عرضی دہندگان کو گجرات حکومت کے ذریعہ داخل حلف نامہ پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے وقت دیا گیا ہے۔ دراصل گجرات حکومت نے پیر کے روز جو جواب داخل کیا اس میں عدالت عظمیٰ سے کہا ہے کہ رِہائی کو چیلنج کرنے والے عرضی دہندگان محض ایک ’انٹرلاپر‘ ہیں۔گجرات کی بی جے پی حکومت کا کہنا ہے کہ 13 مئی کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ان لوگوں کی رِہائی کے لیے 1992 میں بنی پرانی پالیسی نافذ ہوگی۔ اس پالیسی میں 14 سال جیل میں گزارنے کے بعد عمر قید سے رِہا کرنے کی سہولت ہے۔ حکومت نے کہا کہ قید میں سبھی قصورواروں کا رویہ اچھا تھا، اس لیے انہیں رِہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔سپریم کورٹ میں داخل حلف نامہ میں گجرات حکومت نے کہا ہے کہ ’سبھی لوگ 14 سال سے زیادہ مدت سے جیل میں رہے ہیں۔ اس معاملے میں پی آئی ایل داخل ہونا قانون کا غلط استعمال ہے۔ کسی باہری شخص کو مجرمانہ معاملے میں مداخلت کا حق قانون نہیں دیتا ہے۔ سبھاسنی علی اور دوسرے عرضی دہندگان کا کوئی بنیادی حق متاثر نہیں ہو رہا ہے جس سے وہ پی آئی ایل داخل کر سکیں۔ ان کی عرضی خارج کی جائے‘۔قابل ذکر ہے کہ عرضی میں گجرات حکومت کے اس فیصلے کو چیلنج پیش کیا گیا ہے جس میں قتل اور عصمت دری کے 11 مجرموں کو رِہائی دے دی گئی تھی۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس پورے معاملے کی جانچ سی بی آئی کی نگرانی میں ہوئی تھی، اس لیے گجرات حکومت قصورواروں کو سزا میں چھوٹ دینے کا یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتی۔دراصل سپریم کورٹ میں داخل حلف نامہ میں گجرات حکومت نے کہا ہے کہ ’’سبھی لوگ 14 سال سے زیادہ مدت تک جیل میں رہے ہیں۔ اس معاملے میں پی آئی ایل داخل ہونا قانون کا غلط استعمال ہے۔ کسی باہری شخص کو مجرمانہ معاملے میں مداخلت کا حق قانون نہیں دیتا ہے۔ سبھاسنی علی اور دوسرے عرضی دہندگان کا کوئی بنیادی حق متاثر نہیں ہو رہا ہے جس سے وہ پی آئی ایل داخل کر سکیں۔ ان کی عرضی خارج کی جائے۔‘‘گجرات حکومت نے اپنے اوپر لگائے جا رہے اس طرح کے الزامات کو غلط ٹھہرایا جس میں کہا جارہا ہے کہ بلقیس بانو کے قصورواروں کو ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ پروگرام کے تحت چھوڑا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پوری قانونی کارروائی پر عمل کرتے ہوئے رِہائی ہوئی ہے۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ عرضی دہندہ سیاسی پارٹی سے جڑے ہیں اور کسی بھی عرضی دہندہ کا اس پورے معاملے سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔واضح رہے کہ 2002 کے گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو پر 20 سے زائد فسادیوں نے حملہ کیا تھا۔ اس دوران حاملہ بلقیس بانو سمیت کچھ دیگر خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ ملزمین کی طرف سے متاثرہ فریق پر دباؤ بنانے کی شکایت ملنے پر سپریم کورٹ نے مقدمہ مہاراشٹر منتقل کر دیا تھا۔ 21 جنوری 2008 کو ممبئی کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے اس معاملے میں 11 لوگوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔رواں سال 15 اگست کو بلقیس بانو عصمت دری معاملے کے سبھی 11 قصورواروں کو جیل سے رِہا کر دیا گیا جس پر خوب ہنگامہ ہوا۔ گجرات حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سی پی ایم لیڈر سبھاسنی علی، سماجی کارکن روپ ریکھا ورما، ریوتی لال اور ترنمول کانگریس کی لیڈر مہوا موئترا نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔ اس تعلق سے 18 اکتوبر یعنی کل سپریم کورٹ میں سماعت ہونی ہے۔

Related posts

مطیع الرحمٰن عزیز ’نیشنل اقلیتی ونگ‘ کے صدر منتخب

www.samajnews.in

اُف یہ سردی! 15جنوری سے سردی ریٹرن

www.samajnews.in

اللہ کی یاد سے غفلت اللہ کی سب سے بڑی سزا: قاضی عبد الرحمٰن سنابلی

www.samajnews.in