33.1 C
Delhi
جولائی 25, 2024
Samaj News

’’ہر طرح کے حالات و مسائل کا حل حضورؐ کی زندگی میںموجود ہے‘‘

پریم نگر چمن گنج میں جلسہ سیرت النبیؐ و عظمت صحابہ ؓ کا انعقاد:

کانپور،سماج نیوز؍ پریس ریلیز:  نوجوانان پریم نگر چمن گنج و جمعیۃ علماء شہر کانپور کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسہ سیرت النبیؐ و عظمت صحابہ ؓ مدرسہ اشاعت الاسلام نیو مصلّٰی پریم نگر کانپور کانپور میں مولانا مفتی عبد العلیم صاحب ندوی کی نگرانی و جمعیۃ علماء شہر کانپور کے صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں کی موجود گی میں منعقد ہوا۔ جلسہ میں بطور مہمان خصوصی تشریف لائے جمعیۃ علماء اتر پردیش کے نائب صدر مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات میں ہمیں حضورؐ کی حیات مبارکہ سے کیا سبق ملتا ہے ، اس کیلئے ذرا وقت نکال کر ہمیںاس کو جاننا پڑے چاہئے۔ مولانا نے کہا کہ ہم اپنے ملک کی تاریخ پر غور کریں کہ کس طرح یہاں دین اسلام آیا اور اتنے بڑے خطہ پھیل گیا، ان تمام چیزوں کو سامنے رکھ کر اس کوسمجھ کر اس ملک میں رہنے کیلئے مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں۔رسول اللہﷺ نے مکہ مکرمہ میں جو طریقہ اختیار کیا، آج کے دور میں ہمیں اس سے رہنمائی ملتی ہے اور وہی طریقہ آج ہمارے لئے کامیابی کی ضمانت ہے۔ رسول اللہﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں ہمیں جو سب سے پہلی چیز ملتی ہے کہ آپ ؐ نے مکہ کی اپنی پوری53سالہ زندگی میں اپنے کردار کو بہت مضبوط بنایا ، آپؐ کا کیریکٹر اتنا صاف ستھرا تھا کہ جو بعد میں آپؐ کے دشمن بنے وہ بھی آپؐ کی صداقت، امانت اور دیانت داری پر انگلی نہیں اٹھا سکتے تھے۔ جان کے دشمن ہونے کے باوجود اتنی جرأت کسی میں نہیں تھی کہ وہ آپؐ کے کردار پر انگلی اٹھا سکے۔ دوسری چیز آپؐ کی زندگی سے جو ہمیں ملتی ہے وہ ’صبر ‘ہے۔ رسول اللہﷺ نے حق پر رہنے کے باوجود ، نبیؐ ،آخری نبیؐ اور اللہ کے محبوب ہیں جن کے صدقے میں کائنات بنی ہے، سارے اختیارات ہونے کے باوجود صبر سے کام لے کر قیامت تک آنے والی امت کو یہ نمونہ دیا کہ اگر دین کی خاطر تمہارے راستے میں کوئی پریشانی آئے تو تمہیں صبر سے کام لیتے ہوئے اسے برداشت کرناہے۔ تیسری چیز ’اپنے مشن پر استقامت‘ ہے، آپؐ کو جو ذمہ داری دے کر بھیجی گئی تھی، آپؐ نے صبر کرتے ہوئے ظلم تو برداشت کیا لیکن اپنے اس مشن پر رتی برابر بھی کمپرومائز نہیں کیا بلکہ کفار مکہ جب ایک مرتبہ ابو طالب کو سفارشی بنا کر لائے اور آپؐ پر دباؤ بنانے کی کوشش کی کہ آپؐ اپنے مشن سے ہٹ جائیں تو آپؐ نے فرمایا کہ چچا جان اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں چاند رکھ دیں دوسرے میں سورج تب بھی میں اپنے مشن سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوں۔ مولانا نے کہا کہ یہ تین چیزیں خصوصی طور پر ہمیں حضورؐ کی زندگی سے ملتی ہیں، ہم آپؐ کے امتی ہیں، ہمارا کام دعوت ہے، ہم امت دعوت ہیں، ہماری ذمہ داری لوگوں تک سچائی اور دین کا پیغام پہنچانا ہے، لہٰذا ہمیں اپنے کردار کو مضبوط بنانا چاہئے، مظالم پر صبر سے کام لینا چاہئے اور لوگوں کو بھلائی پہنچا نا، سچائی کی دعوت دینے کی اپنی جو ذمہ داری اس سے بالکل بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کانپور کے نائب ناظم مولانا امیرحمزہ قاسمی نے کہا کہ جس کو حضورؐ کی آمد کے موقع پر خوشی نہ ہو وہ مومن نہیں ہے، حضورؐ کا تذکرہ اور سیرت کو بیان کرنا عبادت ہے، لیکن حضورؐ کی زندگی کے تذکرہ کے ساتھ ساتھ سیرت کو عملی زندگی میں اپنانے کی فکر کرنا نہایت ضروری ہے۔ جلسہ کی نظامت مدرسہ مرکز الاسلام پیچ باغ کے ناظم حضرت مولانا مفتی رضاء اللہ مظاہری نے کیا۔ جلسہ میں مہمان خصوصی مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کے ساتھ مولانا امیر حمزہ قاسمی اور حافظ محمد الماس نے خطاب کیا۔ قاری محمد عثمان نے قرآن کی تلاوت سے جلسہ کا آغاز کیا۔ محمد طہور بختیار نے نعت منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی دعاء پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔ آخر میں مولانا رضاء اللہ قاسمی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ جلسہ میں مفتی محمد زید،حافظ محمد الماس،مولانا نور محمد، مولانا عبد العلیم، قاری محمد عثمان، مفتی محمد طاہر، حافظ عبد الوارث، حاجی محمد ایوب، حاجی اطہرکے ساتھ کثیر تعداد میں عوام موجود رہے۔

Related posts

ایم سی ڈی انتخاب: کانگریس پارٹی نے تیاریاں مکمل کرلی ہیں: چودھری انیل کمار

www.samajnews.in

شکرانے کا دن

www.samajnews.in

ممبئی میونسپل کارپوریشن الیکشن ہمارا اگلا ہدف: سنیتا تاپسندریہ

www.samajnews.in