33.1 C
Delhi
جولائی 25, 2024
Samaj News

گاندھی جی

محمد ھاشم القاسمی

گاندھی جی کا پورا نام ’’موہن داس کرم چند گاندھی‘‘ ہے۔ گاندھی جی 2اکتوبر 1869کو پور بندر گجرات میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کرم چند اتم چندر پور بندرراج کوٹ کے دیوان تھے۔گاندھی جی کے دادا پور بندر اور جونا گڑھ کے دیوان رہ چکے تھے ۔ ان کی والدہ پتلی بائی بڑی مذہبی خاتون تھیں۔ گاندھی جی پر ان کی والدہ کا اثر عملی زندگی میں بھر پور دیکھا گیا ۔ان کے والد کرم چند گاندھی ہندو مودھ برادری سے تعلق رکھتے تھے، اور انگریزوں کے زیر تسلط والے بھارت کے امییواڑ ایجنسی میں ایک چھوٹی سی ریاست پوربندر صوبے کے دیوان یعنی بحیثیت وزیر اعظم تھے۔
ان کے دادا کا نام اُتّم چند گاندھی تھا جو اتّا گاندھی سے بھی مشہور تھے۔ پرنامی ویشنو ہندو برادری کی ان کی ماں پتلی بائی کرم چند کی چوتھی بیوی تھی، ان کی پہلی تین بیویاں زچگی کے وقت مر گئی تھیں. عقیدت کرنے والی ماں کی دیکھ بھال اور اس علاقے کی جین برادری کی وجہ سے گاندھی جی پر ابتدائی اثرات جلد ہی پڑ گئے تھے جو ان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرنے والے تھے۔ (وکی پیڈیا)
مئی 1883 میں جب وہ 13 سال کے تھے تب ان کی شادی 14 سال کی کستوربائی ماکھنجی کپاڈیا سے کر دی گئی، جن کا پہلا نام چھوٹا کرکے کستوربا کر دیا گیا تھا اور اسے لوگ پیار سے "با” کہتے تھے۔ یہ شادی ایک منظم کم سنی کی شادی تھی، جو اس وقت اس علاقے میں عام تھی۔
1885میں جب گاندھی جی 15 سال کے تھے تب ان کی پہلی اولاد کی پیدائش ہوئی، لیکن وہ صرف کچھ دن ہی زندہ رہی، اور اسی سال کے شروعات میں گاندھی جی کے والد کرمچند گاھی بھی چل بسے۔
موہن داس کرم چند گاندھی اور کستوربا کے چار اولاد ہوئیں جو تمام بیٹے تھے – ہری لال 1888میں پیدا ہوئے ، منی لال 1892 میں، رام داس، 1897میں اور دیوداس 1900میں پیدا ہوئے۔ پوربندر میں ان کے مڈل اسکول اور راجکوٹ میں ان کے ہائی اسکول دونوں میں ہی تعلیمی سطح پر گاندھی جی ایک اوسط درجہ کے طالب علم رہے۔ انہوں نے اپنا میٹرک کا امتحان بداؤنگر گجرات کے سملداس کالج سے کچھ پریشانیوں کے ساتھ پاس کیا، اور جب تک وہ وہاں رہے ناخوش ہی رہے کیونکہ ان کا خاندان انہیں بیرسٹر بنانا چاہتا تھا۔
4 ستمبر 1888کو گاندھی جی قانون کی پڑھائی کرنے اور بیرسٹر بننے کیلئے لندن، برطانیہ کے یونیورسٹی کالج آف لندن چلے گئے۔
10 جون 1810میں ان کو انگلستان اورویلز بار بلایا گیا۔ اور 12 جون 1892کو لندن سے، ہندوستان لوٹ آئے۔ جہاں انہیں اپنی والدہ کی موت کا علم ہوا۔
1893میں ایک بھارتی فرم دادا عبد اللہ اینڈ کمپنی کی ایک سالہ قرار پر نیٹال، جنوبی افریقہ جو اس وقت سلطنت برطانیہ کا حصہ ہوتا تھا، جانا قبول کیا تھا۔
1894میں گاندھی جب جنوبی افریقہ پہنچے تو ان کی عمر 24 سال تھی۔ وہ پریٹوریا میں مقیم مسلم ہندوستانی تاجروں کیلئے ایک قانونی نمائندے کے طور پر کام کرنے لگے ۔ جہاں وہ 21 برس مقیم رہے.
جنوبی افریقہ میں گاندھی جی کو ہندوستانیوں اور کالے رنگ کے لوگوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر امتیازی سلوک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
گاندھی جی نے حکومتِ جنوبی افریقہ کے ذریعے پیش کردہ بل کی، جس میں ہندوستانیوں کے ووٹ دینے کے حق کو چھینا گیا تھا اس کی مخالفت کی۔ حالاں کہ بل کو منظوری سے روکنے میں وہ ناکام رہے، تاہم اس مہم سے بھارتیوں کی شکایات پر جنوبی افریقہ کی توجہ اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ انہوں نے 1894میں نیٹال میں انڈین کانگریس قائم کرنے میں مدد کی اور اس کی تنظیم کے ذریعے انہوں نے جنوبی افریقہ کی ہندوستانی برادری کو ایک متحدہ سیاسی طاقت میں تبدیل کر دیا۔ جنوری 1897میں جب گاندھی ڈربن میں اترے تو سفید آباد کاروں کے ایک ہجوم نے ان پر حملہ کر دیا تھا اور صرف پولس سپرنٹنڈنٹ کی بیوی کی کوششوں سے بچ گئے۔ تاہم انہوں نے بھیڑ کے کسی بھی رکن کے خلاف الزامات عائد کرنے سے انکار کیا اور کہا وہ ان کے اصولوں میں سے ایک تھی کہ ذاتی مسئلہ کے ازالے کیلئے عدالت میں نہیں جائيں گے۔
1906میں ٹرانسوال حکومت نے ایک نیا قانون نافذ کیا جس میں کالونی میں ہندوستانی آبادی کو رجسٹریشن کیلئے مجبور کیا۔ اس سال جوہانسبرگ میں ایک بڑے پیمانے پر احتجاج 11 ستمبر کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں گاندھی جی نے پہلی بار ستیاگرہ (حق کی بارگاہ) یا عدم تشدد پر مبنی احتجاج کا طریقہ اختیار کیا اور اپنے ساتھی ہندوستانوں کو تشدد اپنانے کی مخالفت اور اس طریقے سے نئے قانون پر عمل نہ کرنے اور سزا بردشت کرنے کہا۔ کمیونٹی نے اس منصوبے کو اپنایا جو سات سال کی جدوجہد ہے جس میں گاندھی جی سمیت ہزاروں بھارتی جیل میں ڈال دیے گئے، کوڑے برسائے گئے، حتّٰی کہ گولیوں کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ انہوں نے رجسٹریشن سے انکار کیا، اپنے رجسٹریشن کارڈ جلائے یا دوسری قسم کی غیر تشدد مزاحمت میں شامل ہوئے۔ جبکہ حکومت ہندوستانی مظاہرین کو دبانے میں کامیاب رہی اور پرامن بھارتی مظاہرین پر سرکار کی زیادتی کے خلاف عوام کو سخت دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے بالآخر مجبورًا جنوبی افریقا کے جنرل جان کرسٹین اسمٹس نے جنوبی افریقا کی حکومت کی طرف سے گاندھی جی کے ساتھ بات کرکے معاہدہ کیا۔ گاندھی جی کے نظریات اور ستیاگرہ کا تصور اس جدوجہد کے دوران میں واضح ہوا۔گاندھی جی کے جنوبی افریقہ کے ابتدائی سال بعض معاملوں میں متنازع رہے ہیں۔
7 مارچ 1908کو انڈین اوپنین میں گاندھی جی نے جنوبی افریقا کے جیل میں گزارے گئے وقت کے بارے لکھا ’’کافر اصولی طور پر بے ادب ہیں، وہ سب سے زیادہ مجرم ہیں، وہ شرپسند، بہت ہی گندے ہیں، اور تقریبًا جانوروں کی طرح رہتے ہیں‘‘۔
1903میں ہجرت کے موضوع پر گاندھی جی نے تبصرہ کیا ’’ہم پاکیزگی نسل میں زیادہ سے زیادہ یقین کے طور پر جو سوچتے ہیں، وہ کرتے ہیں۔۔۔ ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام نسل غالب ہونی چاہئے‘‘۔ جنوبی افریقہ میں قیام کے دوران گاندھی جی بھارتیوں کی درجہ بندی سیاہ فام کے ساتھ کرنے پر بارہا احتجاج کیا۔ جسے وہ ’’بلاشبہ لامتناہی درجہ کافر سے بہتر‘‘ بتایا۔ اسی قسم کے تبصرے گاندھی جی پر نسل پرستی کے الزام کیلئے ذمہ دار بنے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ لفظ کافر ان دنوں میں مختلف معنی میں لیا جا تا تھا۔
جوہانسبرگ جیل میں ان کے منفی خیالات عام افریقہ نہیں بلکہ سخت گیر افریقی قیدیوں کیلئے مخصوص تھے۔ تاہم بہت بعد کے زمانے میں جب جوہانسبرگ میں گاندھی جی کی ایک مورتی کی نقاب کشائی کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا، تو اس تحریک کو ناکام بنانے کیلئے گاندھی جی کی ’’نسل پرستی پر مبنی‘‘ بیانات کو وجہ بنا کر روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔
1915میں گاندھی جی جنوبی افریقہ سے واپس بھارت میں رہنے کیلئے آئے۔ انہوں نے انڈین نیشنل کانگریس کے کنونشن میں شرکت کی تھی، لیکن بنیادی طور پر بھارتی مسائل، سیاست اور عوام سے تعارف گوپال کرشن گوگھلے کے توسط سے ہوا جو اس وقت کے کانگریس پارٹی کے قابل احترام قائد تھے۔
اپریل 1918 میں، پہلی عالمی جنگ کے اواخر کے دوران میں وائسرائے نے دہلی میں جنگ کی کانفرنس میں گاندھی جی کو مدعو کیا۔ اس امید سے کہ شاید وہ سلطنت کیلئے اپنی حمایت ظاہر کریں اور ہندوستان کی آزادی کیلئے ان کے معاملے میں مدد کی جائے۔ گاندھی جی جنگ کی کوششوں کیلئے فعال طور پر ہندوستانیوں کی بھرتی سے اتفاق کیا۔1906کی زولو جنگ اور 1914کی عالمی جنگ کے ہو بہو جن میں انہوں نے ایمبولینس کور کیلئے رضاکاروں کی بھرتی کی تھی، اس وقت گاندھی جی جنگجو رضاکاروں کی بھرتی کی کوششیں کی تھیں۔
یکم جون 1918کے ایک کتابچہ ’’بھرتی کیلئے اپیل‘‘ میں گاندھی جی نے لکھا "اس طرح کے حالات میں ہمیں اپنے آپ کا دفاع کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے جو ہتھیار اٹھانے اور انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت ہے۔۔۔ اور اگر ہم ہتھیار کا استعمال کرنا سیکھنا چاہتے ہیں تو فوج میں شامل ہونا ہمارا فرض ہے۔ حالانہ کے انہوں نے وائسرائے کے ذاتی سکریٹری کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ وہ ’’ذاتی طور پر کسی کا قتل یا زخمی نہیں کرسکتے خواہ وہ دوست ہو یا دشمن‘‘۔
گاندھی جی کی پہلی بڑی کامیابی 1918 میں چمپارن تحریک اور کھیڑا ستیہ گرہ میں ملی، کھیڑا میں اپنے گزر بسرکیلئے ضروری خوراکی فصلوں کی بجائے نیل اور نقدی فصلوں کی کھیتی کا معاملہ تھا۔ زمیندار (زیادہ تر انگریز) کی طاقت سے مظالم ہوئے ہندوستانیوں کو برائے نام محنتانہ دیا جاتا تھا جس سے وہ انتہائی غربت میں رہ رہے تھے۔ گاؤں میں بری طرح گندی اور شراب خوری تھی۔ اب ایک تباہ کن قحط کی وجہ سے شاہی خزانے کی تلافی کیلئے انگریزوں نے چنگی لگا دی، جن کا بوجھ دن بہ دن بڑھتا ہی گیا۔ یہ صورت حال پریشان کن تھی۔ کھیڑا، گجرات میں بھی یہی مسئلہ تھا۔ گاندھی جی نے وہاں ایک آشرم بنایا جہاں ان کے بہت سارے حامیوں اور نئے کارکنوں کو منظم کیا گیا۔ انہوں نے گاؤں کا ایک وسیع مطالعہ اور سروے کیا جس میں لوگوں پر ہوئے ظلم کے خوفناک کانڈوں کا ریکارڈ رکھا گیا اور اس میں لوگوں کی تنزلی حالت کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ دیہاتوں میں یقین پیدا کرتے ہوئے انہوں نے اپنا کام گاؤں کی صفائی کرنے سے شروع کیا جس کے تحت اسکول اور ہسپتال بنائے گئے اور سماجی برائیوں جیسے چھواچھوت، شراب خوری کو ختم کرنے کیلئے دیہی قیادت کی حوصلہ افزائی کی۔
لیکن اس کے اصل اثرات اس وقت دیکھنے کو ملے جب انہیں بے امنی پھیلانے کیلئے پولس نے گرفتار کیا اور انہیں صوبے کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے اور جیل، پولس اسٹیشن اور عدالتوں کے باہر ریلیاں نکال کر گاندھی جی کو بغیر شرط رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ گاندھی نے زمیں دار کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور ہڑتالوں کی قیادت کی جنھوں نے انگریزی حکومت کی رہنمائی میں اس خطے کے غریب کسانوں کو زیادہ معاوضہ منظور کرنے اور کھیتی پر کنٹرول، قحط تک چنگی کو منسوخ کرنے والے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔ اس جدوجہد کے دوران میں ہی، گاندھی جی کو عوام نے باپو اور مہاتما (عظیم روح) کے نام سے خطاب کیا۔ کھیڑا میں سردار پٹیل نے انگریزوں کے ساتھ گفتگو کیلئے کسانوں کی قیادت کی جس میں انگریزوں نے چنگی کو منسوخ کر کے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا۔ اس کے نتیجے میں، گاندھی جی کی شہرت پورے ملک میں پھیل گئی۔
گاندھی جی نے عدم تعاون، عدم تشدد اور پرامن مزاحمت کو برطانوی راج کے خلاف جدوجہد میں ’’ہتھیار‘‘ کے طور پر اپنایا۔ پنجاب کی جلیانوالہ باغ قتل عام (جسے امرتسر قتل عام سے بھی جانا جاتا ہے) کی وجہ سے عام شہریوں میں کافی غم و غصہ تھا، جس وجہ سے برطانوی فوجیوں کو عوام کے غصے اور تشددی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ گاندھی جی نے دونوں برطانوی راج کے اقدامات اور ہندوستان کی جوابی تشدد پر تنقید کی۔ انہوں نے برطانوی شہریوں کے متاثرین کیلئے تعزیت کی پیشکش اور فسادات کی مذمت کی قرارداد لکھی، جسے پارٹی میں ابتدائی مخالفت اور گاندھی جی کی اس اصول کی جذباتی وکالت کہ، تمام تشدد ہی برا ہیں اور ناقال قبول ہیں، کے بعد منظور کر لیا گیا۔ لیکن قتل عام اور اس کے بعد کی تشدد نے گاندھی جی کی توجہ مکمل خود حکومت اور تمام بھارتی حکومتی ادارے کا کنٹرول حاصل کرنے پر مرکوز کر دیا، جو جلد ہی سوراج یا مکمل ذاتی، روحانی، سیاسی آزادی میں بدل گئی۔دسمبر 1921میں انڈین نیشنل کانگریس نے گاندھی جی کو خصوصی اختیارات کے ساتھ پارٹی کا ذمہ سونپا۔ ان کی قیادت میں کانگریس کو ایک نئے آئین اور سوراج کے مقاصد کے ساتھ دوبارہ سے منظم کیا گیا۔ پارٹی میں رکنیت کے ایک ٹوکن فیس ادا کرنے کے بعد ہر کسی کیلئے کھول دیا گیا تھا۔ پارٹی کو مخصوص طبقے کی جماعت سے، منظم اور قومی اپیل میں تدیل کرنے کیلئے کئی درجاتی ذیلی تنظیم قائم کیے گئے۔ گاندھی جی اپنی عدم تشدد لائحہ عمل میں سودیشی پالیسی (غیر ملکی مال کے بائیکاٹ کی، خاص طور پر برطانوی اشیاء ) کو شامل کر اسے توسیع دی۔ اس سے منسلک انہوں نے ہر ہندوستانی کو انگریزی ٹکسٹائل کی بجائے کھادی (گھروں میں بنے کپڑے) کے استعمال کی وکالت کی۔
گاندھی جی نے اہنسا ستیہ کو بڑے نپے تلے انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’ اہنسا میرا خدا ہے اور سچائی بھی ۔ جب میں اہنسا کی تلاش کرتا ہوں تو سچائی کہتی ہے اسے میرے ذریعہ تلاش کرو۔ اور جب میں سچائی کی تلاش کرتا ہوں تو اہنسا کہتی ہے اسے میرے واسطے سے ڈھونڈھو۔ اہنسا اور ستیہ ایک ہی سکے کے دورخ ہیں ۔ یا دھات کی ایک ایسی گولائی کے مانند ہیں جو دونوں طرف سے سادہ ہو، کون کہہ سکتا ہے کہ کون سارخ سیدھا اور کون سا رخ الٹا ہے ؟ تاہم اہنسا ذریعہ ہے اور سچائی مقصد ہے‘‘۔(مہاتما گاندھی کا پیغام ، مرتب یو، ایس، موہن رائے، )گاندھی جی نے اپنی کتاب ’’ ہند سوراج‘‘ میں اپنے ہم وطنوں سے یہ سوال کیا تھا کہ’’ سیلف گورنمنٹ‘‘ اور ’’ہوم رول‘‘ سے تمہاری کیا مراد ہے؟ کیا تم چاہتے ہو کہ ملک کا نظام جیساہے ویسا ہی رہے مگر وہ انگریزوں کے ہاتھ میں نہ ہو بلکہ ہندوستانی سیاسی لیڈروں اور حاکموں کے ہاتھوں میں ہو؟ اگر ایسا ہے تو گو یا تمہاری خواہش یہ ہے کہ شیر کے پنجے سے چھوٹ جاؤ مگر شیر کی بہیمی خصلت اپنے اندر باقی رکھو، یا تم سوراج کا وہ مطلب سمجھتے ہو جو میں سمجھتا ہوں ۔ کہ ہندوستانی تہذیب کے سب سے اونچے نصب العین کو عملی جامہ پہنایا جائے ان لوگوں کے ہاتھوں جو انفرادی طور پر اپنے نفس پر قابو رکھتے ہیں اور اجتماعی طور پر ستیہ گرہ کے اصول اورطریقے کے مطابق عمل کرتے ہوں۔‘‘ (گاندھی جی اور ان کے خیالات ، مرتبہ عبد الطیف اعظمی )
دسمبر 1928میں گاندھی جی نے کلکتہ میں منعقد کانگریس کے ایک اجلاس میں ایک تجویز پیش کی جس میں ہندوستانی سلطنت کو اقتدار فراہم کرنے کیلئے کہا گیا تھا یا ایسا نہ کرنے کے بدلے اپنے مقصد کے طور پر مکمل ملک کی آزادی کیلئے عدم تعاون تحریک کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔ گاندھی جی نے نہ صرف نوجوان طبقے سبھاش چندر بوس اور جواہر لال نہرو جیسے مردوں سے فوری آزادی کا مطالبہ کے خیالات کو معتدل کیا بلکہ اپنی خود کی مانگ کو دو سال کی بجائے ایک سال کر دیا۔
انگریزوں نے کوئی جواب نہیں دیا، 31 دسمبر 1929 کو لاہور میں بھارت کا جھنڈا لہرایا گیا، 26 جنوری 1930 کا دن لاہور میں بھارتی یوم آزادی کے طور پر انڈین نیشنل کانگریس نے منایا، یہ دن تقریباً تمام ہندوستانی تنظیموں کی طرف سے بھی منایا گیا، اس کے بعد گاندھی جی نے مارچ 1930میں نمک پر چنگی لگائے جانے کی مخالفت میں نیا ستیہ گرہ چلایا جسے 12 مارچ سے 6 اپریل تک نمک تحریک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اس میں 400 کلومیٹر (248 میل) تک کا سفر احمد آباد سے دازڈی، گجرات تک کیا گیا، تاکہ خود نمک پیدا کیا جا سکے۔ سمندر کے طرف کے اس سفر میں ہزاروں کی تعداد میں ہندوستانیوں نے حصہ لیا۔ ہندوستان میں انگریزوں کی پکڑ کو کمزور کرنے والی یہ ایک سب سے زیادہ کامیاب تحریک تھی جس میں انگریزوں نے 80000 سے زیادہ لوگوں کو جیل بھیجا تھا۔
1934 کی گرمیوں میں گاندھی جی کی جان لینے کیلئے ان پر تین ناکام کوششیں کی گئیں۔ جب کانگریس پارٹی انتخابات لڑنے کا فیصلہ کیا اور وفاقی منصوبہ کے تحت اقتدار قبول کی تو گاندھی جی نے پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ گاندھی جی نہرو کی صدارت اور کانگریس کے لاہور اجلاس کے ساتھ ہی 1936میں فعّال سیاست میں لوٹ آئے۔ حالانکہ گاندھی جی کی مکمل خواہش تھی کہ وہ آزادی حاصل کرنے پر اپنی مکمل توجہ مرکوز کریں ۔
1938 میں صدر کے عہدے کیلئے منتخب سبھاش چندر بوس کے ساتھ گاندھی جی کے اختلافات تھے۔ سبھاس چندر بوس کے ساتھ اختلافات میں گاندھی جی کے اہم نقطہ نظر سبھاس چندر بوس کی جمہوریت میں عزم کی کمی اور عدم تشدد میں یقین کی کمی تھی۔ سبھاس چندر بوس نے گاندھی جی کی تنقید کے باوجود بھی دوسری بار عہدہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ برطانوی حکومت نے 9 اگست 1942میں گاندھی اور پوری کانگریس ورکنگ کمیٹی گرفتار کر لیا گیا۔ گاندھی کو پونے میں آغا خان محل میں دو سال کیلئے مقید کیا گیا۔ یہاں گاندھی کو ذاتی زندگی میں دو خوفناک حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے 50 سالہ سیکرٹری مہادیو دسائی کا دل کا دورہ سے اور 6 دن بعد ان کی بیوی کستوربا 18 ماہ قید کی سزا کے بعد 22 فروری 1944کو وفات پا گئیں۔ چھ ہفتوں کے بعد میں گاندھی جی کو ایک سخت ملیریا کے حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں جنگ کے اختتام سے پہلے 6 مئی 1944 کو گرتی صحت اور ضروری سرجری کی وجہ سے رہا کر دیا گیا۔، برطانوی راج جیل میں ان کی موت کی وجہ سے متحدہ قوم نہیں چاہتا تھا۔ اگرچہ ہندوستان چھوڑو تحریک اس مقصد میں معتدل کامیابی ملی تھی، اس تحریک کی شدّت نے 1943 کے آخر تک ہندوستان کیلئے آزادی کا پیغام لائی۔ جنگ کے اختتام پر برطانوی حکومت نے اقتدار کو ہندوستانی ہاتھ منتقل کرنے کا واضح اشارہ دیا۔ اس وقت گاندھی جی نے جدوجہد کی اختتام کا اعلان کیا۔ اورکانگریس کی قیادت سمیت تقریباً 100000 سیاسی قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔
14 اور 15 اگست، 1947کو برطانوی ہندوستانی سلطنت نے بھارتی آزادی ایکٹ پاس کر دیا، جو قتل عام اور 12.5 لاکھ لوگوں کے منتقلی اور کروڑوں کے نقصانات کی گواہ بنی۔ ہندوستان کی آزادی کے ابھی پانچ ماہ بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ گاندھی جی کا قاتل گوڈسے 30 جنوری 1948 کو گاندھی کے پاس 5:17 بجے آیا، اس وقت گاندھی جی کے ہاں شام کی عبادت جاری تھی۔ جب گوڈسے جھکا، تو گاندھی کو سہارا دینے والی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی آبھا چٹوپادھیائے نے اس سے کہا ’’بھائی، باپو پہلے ہی دیر سے آئے ہیں‘‘ اور اس سے صرف نظر کرنے کی کوشش کی۔ مگر اس نے آبھا کو دھکیل کر سیدھے نشانے سے گاندھی جی کے سینے میں پستول کے ذریعہ گولیاں چلادی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس بندوق کا سیریل نمبر 606824 تھا۔ اس حادثہ کے بعد گاندھی جی کا انتقال کچھ ہی گھنٹوں میں ہو گیا۔ آزاد بھارت کی فہرست میں سب سے پہلا دہشت گرد ہندوستان کے سب سے عظیم ہستی گاندھی جی پر گولیاں چلانے کے بعد گوڈسے نے خود ہی پولس کو آواز دی اور اپنے آپ کو پولس اور قانون کے حوالے کر دیا۔ گاندھی جی کے آخری کلمات جو ان کی زبان سے نکلی ’’ہِےْ رام‘‘ تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے گاندھی جی کی موت کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے ’’پوری دنیا خوشحال تھی اور گاندھی جی کی زندہ وجاوید شخصیت سے مالا مال تھی اور ان کی وفات سے یہ غریب ہو گئی ہے‘‘۔
دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی

Related posts

تلاوت قرآن کے احکام

www.samajnews.in

محمد بن سلمان کا بھارت دورہ، کیا ہے مقصد؟

www.samajnews.in

زکوٰۃ الفطر کے احکام ومسائل- کتاب وسنت کی روشنی میں

www.samajnews.in