41.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

فلاح انسانیت ٹرسٹ اٹوا کے بینر تلے موضع پرسیا میں دینی پروگرام کا انعقاد

یوسف علیہ السلام مسلمان اقلیتوں کیلئے نمونہ: شیخ ذاکر عباس مدنی

اٹوا، سدھارتھ نگر، سماج نیوز: قرآنِ کریم میں بہت سے انبیائے کرام کا تذکرہ ہوا ہے ان کی زندگی کے کچھ خاص پہلوئوں کو ابھارا گیا ہے تاکہ امتِ مسلمہ کے لیے عملی نمونہ اور اسوہ سامنے آجائے۔قرآن میں مذکور انبیائے کرام کے تذکرے کامقصد یہ ہے کہ مسلمان ان کی عملی سیرت وکردار سے فیض اٹھائیں اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دارین کی سعادت کے مستحق بنیں۔ سابقہ انبیاء کی پیروی واقتداء اپنی مرضی اور اختیار کی چیز نہیں ،یہ اللہ کا عائد کردہ محکم فریضہ ہے ۔سورۂ انعام میں پہلے انبیائے کرام کے سلسلۃ الذہب کی کچھ کڑیوں کا ذکرہے،بعدازاں ان کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے۔ارشادِ باری ہے: (انعام،۸۳-۹۰) ’’یہ تھی ہماری حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں عطا کی۔ ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ تمہارا رب نہایت دانا اور علیم ہے۔ پھر ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہِ راست دکھائی۔ وہی راہِ راست جو اس سے پہلے نوح کو دکھائی تھی۔ اور اسی کی نسل سے ہم نے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو ہدایت بخشی۔ اس طرح ہم نیکوکاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں۔ اسی کی اولاد سے زکریا،یحییٰ، عیسیٰ اور الیاس کو راہ یاب کیا۔ہر ایک ان میں سے صالح تھا۔ اسی کے خاندان سے اسماعیل، الیسع، اور یونس اور لوط کو راستہ دکھایا۔ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔ نیز ان کے آباء واجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بہتوں کو ہم نے نوازا۔ انہیں(دین كی ) خدمت کے لیے چن لیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی۔ اب اگر یہ(منکرین) اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو پرواہ نہیں،ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس کے منکر نہیں ہیں۔ اے نبی، یہ لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے،انہی کے راستے پر تم چلو۔‘‘
اسوہ یوسفی:اللہ کی مشیت ہوئی کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے تذکرے میں مسلمانوں کے لیے تقویٰ خداترسی، صبر وتحمل، وفا واخلاص اور دعوت وحکمت جیسی انبیائی صفات کا جلوہ اور پرتو ظاہر ہوجائے۔ایک خاص سبق سیدنا حضرت یوسفؑ کی زندگی کا یہ ہے کہ غیر اسلامی ملکوں میں آباد مسلمانوں كا لائحۂ عمل کیاهو۔آج دنیا کے بیشتر غیر مسلم ملکوں میں مسلمانوں کا وجود ملتا ہے۔ان کے حالات بڑی حد تک اُن حالات سے ملتے جلتے ہیں جو حضرت یوسفؑ کو پیش آئے تھے۔ذیل میں مسلم اقلیتوں کے لیے اسوۂ یوسفی کی چند جھلکیاں پیش ہیں:دنیا میں اس وقت بیشتر مسلم اقلیتیں وہ ہیں جن کے افراد اپنے مسلم ملکوں کے آمریت پسندانہ طرزِ حکمرانی اور سیاسی وسماجی ظلم اورناہموراری سے عاجز ہوکر یورپ اور امریکا وغیرہ پہنچے ہیں۔وہ غیر مسلم ملکوں میں بودوباش اختیار کرنے پر مجبور تھے یا کم از کم اس کے محتاج تھے۔ ان میں سے بیشتر لوگوں نے اپنے خوابوں کی دنیا یعنی امریکا اور یورپ وغیرہ پہنچنے کے لیے بڑے پاپڑ بیلے۔کچھ یہی حال سیدنا یوسف علیہ السلام کا تھا۔ ان پر بھی ان کے سگے بھائیوں نے مظالم ڈھائے اور انہیں ایک اندھے کنوے میں دھکیل دیا تاکہ وہیں بھوکے پیاسے مرجائیں یا شارعِ عام پر گزرنے والا کوئی قافلہ رک کر پانی کے لیے آئے تو انہیں نکال کر اپنا غلام بنالے اور ساتھ لے کرکہیں دور چلا جائے۔ چنانچہ اس کی جو شکل بنی وہ یہ تھی کہ حضرت یوسفؑ کو مصر میںغلاموں کی منڈی میں فروخت کیا گیا۔حضرت یوسفؑ کے حالات کے ساتھ تقابل کیا جائے تو آج مسلمان اقلیتوں کے حالات غنیمت ہیں۔وہ جہاں آباد ہیں وہاں انہیں دین اور عقیدے کی آزادی نصیب ہے،بلکہ بعض مسلم ملکوں سے زیادہ انہیں غیر اسلامی ملکوں میں اظہارِ رائے کی آزادی میسر ہے۔ انہیں بہت سے حقوق حاصل ہیں۔ قانونی ودستوری طور پر وہ بہت سارے کام کر سکتے ہیں۔ اس کے برخلاف حضرت یوسفؑ ایک غلام کی حیثیت سے غیر اسلامی ملک مصر میں لائے گئے تھے اور اس زمانے میں غلاموں کے کسی حق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ان خیالات کا اظہار موضع پرسیا میں فلاح انسانیت ٹرسٹ اٹوا کے بینر تلے منعقدہ پروگرام میں گجرات کے جامعہ اسلامیہ رحمانیہ سے تشریف لاۓ شیخ الحدیث ذاکر عباس مدنی حفظہ اللہ نے کیا۔
اس موقع پر شیخ معین الدین سلفی نے استقبال رمضان کے تعلق سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اللہ تعالیٰ نے بندوں پر جو بے شمار انعامات و احسانات کئے ہیں ، ان میں سے ایک بڑا احسان و انعام یہ ہے کہ انھیں بعض ایسے بابرکت لمحات و اوقات عطا کئے ہیں ، جن میں دُعائیں قبول کی جاتیں اور اعمال صالحہ کے ثواب کو خوب بڑھا دیا جاتا ہے ، ایسے ہی اوقات میںسے ایک رمضان المبارک کا مہینہ ہے ، یہ توبہ و انابت کا زریں موقع ہے کہ بندہ اپنے رب سے گناہوں کی معافی مانگ کر معاصی سے پاک وصاف ہوسکتا ، اور اپنے ایمان کی تجدید کرکے اس میں نکھار پیدا کرسکتا ہے ۔اس لیےاللہ کے نبی ﷺ نہایت خوشی و مسرت اور شادمانی سے اس ماہ صیام کا استقبال فرمایا کرتے تھے اور صحابہ کرام کو اس کی آمدکی خوشخبری دیا کرتے تھے ، حضرت ابوہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آیا ہے ، یہ بابرکت مہینہ ہے اس کے روزے ، اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کئے ہیں ، اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے اور سرکش شیطانوں کو ہتھکڑیاں لگادی جاتی ہیں ، اس میں ایک رات ہے جو ہزار ماہ سے بہتر ہے ، جو اس کے خیر سے محروم رہا وہ سراپا محروم رہا ۔ ( صحیح الجامع : ۵۵)پروگرام کا آغاز قاری صفی الرحمن فرقانی صاحب کی تلاوت قرآن سے ہوا بعدہ کلیم اللہ کیانی نے نعت رسول مقبول پیش کیا اسی دوران استقبال رمضان کے تعلق سے ایک نظم عزیزم ماہتاب عالم نے پیش کیا اس موقع پر سامعین کی ایک اچھی تعداد موجود تھی دعائیہ کلمات و تشکر کے ساتھ مجلس کا اختتام ہوا۔

Related posts

تبریز انصاری موب لنچنگ معاملے کے سبھی 10قصورواروں کو 10-10سال کی سزا

www.samajnews.in

پاکستان میں کشتی ڈوبنے سے 50طلباء جاں بحق

www.samajnews.in

ملک کو بچانے کیلئے اپوزیشن کا اتحاد ضروری:پرینکا گاندھی

www.samajnews.in