41.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

میں نے ہندوستان مخالف بیان نہیں دیا، ایوان میں اپنی بات رکھوں گا :راہل گاندھی

نئی دہلی:کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اڈانی معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ ملک جاننا چاہتا ہے کہ حکومت اور اڈانی کے درمیان کیا تعلقات ہیں؟ صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک اس جانب دیکھ رہا ہے کہ کیا اس شخص (راہل گاندھی) کو ایوان میں حکومت کے ان چار وزراء کو جواب دینے کا موقع دیا جائے گا جنہوں نے ان سے ایوان میں سوال کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب چار وزراء نے میرے متعلق کچھ کہا ہے تو مجھے بھی جواب دینے کا موقع ملنا چاہئے۔‘‘ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ آج صبح وہ پارلیمنٹ گئے تھے جہاں انہوں نے لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات کی اور ان کو امید ہے کہ کل ان کو بولنے کا موقع مل جائے گا۔ راہل گاندھی نے بتایا کہ اصل کہانی اس وقت شروع ہوئی تھی جب انہوں نے حکومت سے ایوان میں سوال کیا تھا کہ گوتم اڈانی کا حکومت سے کیا تعلق ہے؟ گوتم اڈانی کو کس طرح حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ اڈانی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے آسٹریلیا اور سری لنکا کا بھی ذکر کیا۔واضح رہے کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کچھ دن پہلے ایوان میں تقریر کرتے ہوئے مودی اور اڈانی پر سوال اٹھائے تھے۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ تقریر کا وہ حصہ حذف کر دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’تقریر میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو میں نے پبلک ریکارڈ سے نہ لیا ہو۔ حکومت اور وزیر اعظم اڈانی معاملے سے خوفزدہ ہیں، اس لیے انہوں نے یہ ’تماشا‘ کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جائے گا۔ اہم سوال یہ ہے کہ مودی جی اور اڈانی جی کے درمیان کیا رشتہ ہے۔‘‘راہل گاندھی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے ذریعہ جواب نہ دینے اور دیگر باتیں کرنے کا مقصد بنیادی سوالوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے لوگوں سے کہا کہ چونکہ وہ ایوان کے رکن ہیں اس لئے پہلے وہ اپنا بیان وہاں دینا چاہتے ہیں، اس کے بعد ذرائع ابلاغ کے ساتھ ان تمام پہلوؤں کو ساجھا کریں گے۔اس سے قبل راہل گاندھی نے لندن میں دیے گئے اپنے ’جمہوریت پر حملہ‘ والے بیان پر معافی مانگنے کے بی جے پی کے مطالبے پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ پارلیمنٹ میں جاتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے ہندوستان مخالف کوئی بات نہیں کی۔ راہل گاندھی نے لوک سبھا اسپیکر سے ملاقات اور بات کرنے کا وقت بھی مانگا ہے۔ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے لندن میں ہندوستان کے خلاف کچھ نہیں کہا۔ پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع ملا تو اپنی بات ضرور رکھوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کو میرا بولنا پسند نہیں آتا ہے ۔ کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے کہا کہ اگر انہیں ایوان میں بولنے کا موقع دیا گیا تو وہ اپنے دورہ لندن کے بارے میں اپنے خیالات کو سب کے سامنے ضرور پیش کریں گے ۔اس سے پہلے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا تھا کہ اگر راہل گاندھی کچھ کہتے ہیں اور ان کی وجہ سے کانگریس کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں تو ہم اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتے ۔ لیکن اگر وہ ملک کی توہین کرتے ہیں تو بحیثیت ہندوستانی ہم خاموش نہیں رہ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ راہل کو اس معاملے میں معافی مانگنی چاہئے۔ اس پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر وزیراعظم نریندرمودی بیرون ملک گئے اور ملک کے خلاف بولے ۔ ایسے میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ راہل کو اپنے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔پارلیمنٹ کے اجلاس کے ملتوی ہونے کے بعد کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ جب بھی کانگریس اڈانی معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتی ہے تو بی جے پی توجہ ہٹانے کے لیے اجلاس کو ملتوی کر وادیتی ہے ۔ بی جے پی کو ڈر ہے کہ کوئی ایوان میں اڈانی کا نام نہ لے لے ۔وزیر اعظم نریندر مودی نے چوتھے دن اجلاس شروع ہونے سے پہلے پارلیمنٹ میں اعلیٰ وزراء کے ساتھ میٹنگ کی۔ میٹنگ میں راج ناتھ سنگھ، پیوش گوئل، انوراگ ٹھاکر، کرن رجیجو اور پرہلاد جوشی شامل ہوئے ۔ وہیں اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں نے ملکارجن کھڑگے کے دفتر میں میٹنگ میں شرکت کی۔اڈانی تنازعہ اور دیگر کئی مسائل کو لے کر اپوزیشن اور کانگریس کارکنوں نے مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ اپوزیشن نے معاملے کی تحقیقات کے لیے جے پی سی کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے ۔

Related posts

دہلی سے ہماچل تک شدید بارش، سیلاب اور پہاڑ کھسکنے سے 34 لوگوں کی موت

www.samajnews.in

کے ایل راہل نے اتھیا شیٹی کیساتھ رچائی شادی

www.samajnews.in

ترکی میں ایک بار پھر زلزلہ، ہلاکتیں 34ہزار سے متجاوز

www.samajnews.in