33.1 C
Delhi
جولائی 25, 2024
Samaj News

ہاتھرس ریپ اور قتل کے ملزم رہا، ’انصاف صرف ذات کو دیکھ کر ہی ملتا ہے‘

نئی دہلی: 2020 میں انڈیا کے شہر ہاتھرس کی ایک دلت لڑکی کے مبینہ قتل اور ریپ کے معاملے میں، ہاتھرس کی عدالت نے ایک ملزم کو قصوروار قرار دیا ہے اور دیگر تین کو بری کر دیا ہے۔عدالت کے فیصلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ عدالت نے کسی کو لڑکی کے قتل اور ریپ کا مجرم نہیں پایا۔ ملزم سندیپ کو غیر ارادی قتل کا قصوروار پایا گیا اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کی دفعات کے تحت اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔اس فیصلے کے بعد بی بی سی کی ٹیم متاثرہ خاندان سے ملنے ہاتھرس میں ان کے گاؤں پہنچی۔
قتل اور ریپ کا معاملہ کیوں نہیں بن پایا
ہاتھرس کے خصوصی جج ترلوک پال سنگھ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے، ’اس واقعے کے بعد متاثرہ لڑکی آٹھ دن تک بات چیت کرتی رہی۔ لہٰذا، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملزم کا ارادہ یقینی طور پر لڑکی کو قتل کرنے کا تھا۔ اس لیے ملزم سندیپ کا جرم غیر ارادی قتل کے زمرے میں آتا ہے، یہ قتل کے زمرے میں نہیں آتا ‘۔ریپ کے الزام سے بھی ان سب کو بری کرنے پر، عدالت نے کہا کہ ’اس سلسلے میں میرا خیال ہے کہ شواہد اور متاثرہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کی بحث میں متاثرہ کے ریپ کی بات ثابت نہیں ہوئی ہے۔ ملزم روی، رامو اور لاوکوش کے خلاف ریپ کا بھی کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ اس لیے تمام ملزمان ریپ کے الزام سے بری ہونے کے مستحق ہیں‘۔
عدالت کے مطابق، ملزم سندیپ سسودیا کے خلاف غیر ارادی قتل اور ایس سی ایس ٹی ایکٹ کے سیکشنز کے تحت مجرمانہ قتل کے لیے ’مناسب ثبوت نہیں ملے ہیں اور اسی لیے اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔‘
جب بی بی سی اور دیگر میڈیا ٹیمیں متاثرہ خاندان کے گھر پہنچیں تو سی آر پی ایف اور سخت حفاظتی بندوبست میں رہنے والا خاندان باہر نکل آیا۔ متاثرہ کے گھر کی بہو نے ہاتھ جوڑ کر سیکیورٹی اہلکاروں سے کہا کہ میڈیا کو اندر آنے دو، آج تو ہم اپنے دل کی بات کرتے ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے متاثرہ کی بھابھی نے کہا کہ ہمیں انصاف نہیں ملا، صرف ایک لڑکے کو مہرہ بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ ثبوتوں اور گواہوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ دباؤ میں کیا گیا ہے۔‘ وہ کہتی ہیں کہ عدالت میں انھوں نے وکلا کو یہ کہتے سنا کہ ’بھنگی کی لڑکی کے لیے چار چار قربانیاں نہیں دی جائیں گی، وہاں ایسی باتیں ہو رہی تھیں۔‘اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے متاثرہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ ’اگر وہ بے قصور ثابت ہو گئے ہیں تو پھر انھیں ڈھائی سال تک جیل میں کیوں رکھا گیا؟ سی بی آئی نے بڑی بڑی دفعات کے تحت الزامات کیوں ثابت نہیں کیے۔‘انھوں نے کہا: ’آخری تاریخ تک سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، لیکن یہ اچانک ہوا، ہم خوفزدہ ہو گئے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ ان کی تمام ضمانتیں مسترد کر دی گئی تھیں۔ قانون وانون کچھ نہیں ہے۔ انصاف سب کو ذات دیکھ کر ملتا ہے۔‘متاثرہ کے بھائی نے اپنی بہن کے ’ڈائنگ ڈکلیریش (موت سے پہلے دیے گئے بیان) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہماری بہن نے اس میں سب کے نام لیے ہیں، یہ مجسٹریٹ نے لکھا ہے، پھر بھی اسے کیسے رد کر سکتے ہیں‘۔جس طرح سے آدھی رات کو 19 سالہ لڑکی کی آخری رسومات کر دی گئیں، متاثرہ کے اہل خانہ نے ایک بار پھر اس بات پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے بھائی کا کہنا ہے، ’کیا رات کے ڈھائی بجے گھر والوں کی اجازت کے بغیر کسی کی آخری رسومات ادا کی جا سکتی ہیں ؟ یہ کہاں کا قانون ہے؟ کیا یہ یوگی راج کے قانون میں لکھا ہے؟ کیا وہ لاوارث تھی؟ کیا وہ کسی کی بہن بیٹی نہیں تھی؟‘
اہل خانہ نے سماعت پر سوالات اٹھائے
لڑکی کے اہل خانہ نے الزام لگایا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ان پر اور ان کے وکلاء پر دباؤ ڈالا گیا۔متاثرہ کا خاندان 24 گھنٹے سی آر پی ایف اور اتر پردیش پولیس کے گھیرے میں رہتا ہے اور بی بی سی کی ٹیم کو بھی ان کے گھر کے اندر جانے اور ان سے بات کرنے اور رجسٹر میں اندراج کرنے کی اجازت لینا پڑی۔متاثرہ کے گھر والوں نے اپنی وکیل سیما کشواہا کے بارے میں کہا کہ ’انھوں نے اپنی محنت، ایمانداری اور بے خوفی سے انکی بیٹی کو انصاف دلانے کی کوشش کی۔ لیکن وہ ہمت نہیں ہاری ہیں، وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ تک جائیں گی، وہ خاموش نہیں بیٹھیں گی۔‘سیما کشواہا اس کیس کے دفاع کے لیے دہلی سے ہاتھرس آتی تھیں۔
اس کیس پر ہونے و الی سیاست
ایک دلت لڑکی کے قتل اور ریپ کے بعد یہ معاملہ ملک اور بیرون ملک میڈیا میں چھایا رہا۔ سیاسی جماعتوں نے بھی اس معاملے میں یوگی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔لیکن کیا اس وقت متاثرہ خاندان کی حمایت میں بات کرنے والے لیڈروں کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا تھا؟یہ سوال جب ہم نے متاثرہ خاندان سے کیا تو مقتولہ کی بھابھی نے کہا کہ سیاست تو ملزمان کر رہے ہیں، ہم اپنے دماغ سے بات کرتے ہیں، ہمیں کوئی سکھاتا نہیں ہے جسے درد ہوتا ہے وہ چینخ چینخ کر بولتا ہے‘۔
دفاع کا کیا کہنا ہے؟
تینوں ملزمان کو جمعہ کی صبح علی گڑھ جیل سے رہا کر دیا گیا۔بی بی سی نے بری ہونے والے ملزم اور مجرم قرار پانے والے سندیپ کے اہل خانہ سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن متاثرہ کے پڑوس میں رہنے والے ان کے اہل خانہ نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں بی بی سی نے ان کے وکیل منا سنگھ پنڈییر سے ملاقات کی۔اپنا موقف رکھتے ہوئے وکیل منا سنگھ پنڈیر نے کہا کہ ’متاثرہ کے اہل خانہ کچھ بھی کہیں، لیکن ہمیں بھی ایک جھٹکا لگا ہے۔ ایک بے قصور کو سزا دی گئی۔ صرف میڈیا ٹرائل کی وجہ سے۔‘’ہم اس کے خلاف اپیل بھی کریں گے اور وہ یقینی طور پر بری ہو جائے گا۔ تمام شواہد پر غور کر لیا گیا ہے۔‘ وکیل منا سنگھ کا دعویٰ ہے، ’تمام ثبوت جعلی تھے‘لیکن مرنے سے ٹھیک پہلے بیان دینے جانےکے باوجود عدالت نے ملزم کو کیسے بری کر دیا؟ اس بارے میں منا سنگھ کا کہنا ہے کہ ’مجسٹریٹ نے بیان ریکارڈ کر لیا تھا، لیکن ایک سادہ کاغذ پر مجسٹریٹ نے اپنی زبان میں کچھ لکھا تھا تو وہ ڈائینگ ڈکلیریشن تو نہیں ہوا نہ‘۔لیکن اہل خانہ اپنی بیٹی کے لیے انصاف چاہتے ہیں؟ اس سوال پر وکیل منا سنگھ پندھیر کہتے ہیں۔’ہم اس میں بھی انصاف چاہتے ہیں۔ لڑکی کو کس نے مارا کم از کم یہ تو معلوم ہونا چاہیے۔ لڑکی کی موت کیسے ہوئی، لڑکی کو کس نے مارا، ہم بھی چاہتے ہیں کہ یہ سب منظر عام پر آئے۔ بچی کو انصاف ملنا چاہیے۔‘انتظامیہ پر جس طرح رات کے اندھیرے میں لڑکی کے اہل خانہ کی اجازت کے بغیر اسکی آخری رسومات ادا کرنے کا الزام لگایا گیا؟ کیا کیا عدالت نے اپنے فیصلے میں اس کا نوٹس لیا یا اس کا ذکر کیا؟وکیل منا سنگھ کہتے ہیں کہ ’وہ مسئلہ عدالت کے سامنے نہیں تھا، اس کا فیصلہ یہاں نہیں ہونا تھا۔ انتظامیہ کے خلاف ان کا الزام ہوگا، لیکن اس کا ملزم سے کیا تعلق؟‘ریپ کی تصدیق نہ ہونے کے بارے میں وکیل منا سنگھ کا کہنا ہے کہ ’طبی معائنہ کیا گیا لیکن اس میں ریپ نہیں پایا گیا۔ فرانزک جانچ میں ریپ نہیں پایا گیا۔‘متاثرہ کے خاندان کے کیس پر سیاسی دباؤ کے بارے میں منا سنگھ پندھیر پوچھتے ہیں کہ ’کیا کبھی عدالت پر کوئی سیاسی دباؤ چلےگا؟ ایم ایل اے، ایم پی کو روزانہ سزا دی جارہی ہے؟ عدالت پر کوئی سیاسی دباؤ نہیں ہے۔‘ (بشکریہ بی بی سی)

Related posts

ڈاکٹر حسن عزیز کی رحلت پر تعزیتی اجلاس

www.samajnews.in

پاکستان میں نہیں ہوگا ایشیا کپ!

www.samajnews.in

ہیراگروپ کی قانونی جنگ

www.samajnews.in