40.1 C
Delhi
مئی 22, 2024
Samaj News

بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں:وزیر اعلیٰ اروند کجریوال

مرکزی حکومت کا بجٹ نہ صرف مایوس کن ہے بلکہ ایسا بجٹ بھی ہے جو ملک کو قرضوں میں ڈال دے گا،45 لاکھ کروڑ کے بجٹ میں 15لاکھ کروڑ کا قرض، مہنگائی سے ملک متاثر ہوگا: منیش سسودیا

نئی دہلی، سماج نیوز: دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے بدھ کو کہاکہ اس بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں بلکہ اس بجٹ سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا ۔مسٹر کجریوال نے بجٹ پراپنے رد عمل میں کہا ’دہلی والوں کے ساتھ پھر سے سوتیلا برتاوَ ۔ دہلی والوں نے گزشتہ سال14675لاکھ کروڑسے زیادہ انکم ٹیکس دیا ۔ اس میں صرف325کروڑ روپے دہلی کی ترقی کیلئے دیئے۔ یہ تو دہلی والوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ اس بجٹ میں مہنگائی سے کوئی راحت نہیں ۔ اس کے برعکس بجٹ میں مہنگائی بڑھے گی ۔ بے روزگاری دور کرنے کی کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں‘۔ وزیر اعلی نے کہاکہ تعلیمی بجٹ گھٹا کر24664فیصد سے 2465فیصدکرنابد قسمتی ہے ۔ اسی طرح صحت بجٹ گھٹا کر2462فیصدسے 14698فیصد کرنانقصاندہ ہے ۔ عام آدمی پارٹی کے لیڈرسنجے سنگھ نے کہا’نہ کسان،نہ جوان، نہ نوجوان ۔ بجٹ میں کسی کیلئے کوئی التزام نہیں ہے ۔ امرت کال میں امرت کیلئے ترس رہا ہے ’عام انسان‘ ۔ سرمایہ کاروں کی لوٹ ہوئی آسان‘۔ وہیں نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے مرکزی بجٹ 2023-24 پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج مرکزی حکومت نے ملک کے لیے نہ صرف مایوس کن بلکہ خطرناک بجٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 45 لاکھ کروڑ کے بجٹ میں 15 لاکھ کروڑ کا قرض ہے، جس کی وجہ سے ملک مہنگائی کی زد میں آئے گا۔ بجٹ میں مہنگائی بے روزگاری سے لڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، کھپت میں اضافہ کرکے چھوٹے تاجروں کو فروغ دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، یہ بجٹ کچھ ارب پتیوں کو فائدہ پہنچانے اور ملک کو مزید 15 لاکھ کروڑ روپے کے قرض میں ڈالنے کا ہے۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح 8.3 فیصد ہے لیکن پھر بھی بجٹ میں بے روزگاری دور کرنے کا کوئی وژن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک 4 سرمائے کے منصوبے بنا کر ارب پتیوں کو فائدہ پہنچانے سے نہیں بلکہ کھپت بڑھانے سے بیروز گاری دور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ سے ملک کے کروڑوں عام لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے صرف چند ارب پتیوں کو ہی فائدہ ہوگا۔ مرکزی بجٹ میں دہلی کو نظر انداز کرنے پر انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مرکز نے دہلی کے لوگوں کا خیال رکھا ہے۔دوبارہ مایوسی ہوئی ہے۔ مرکزی ٹیکس میں دہلی کا حصہ 1.75 لاکھ کروڑ ہے، لیکن دہلی کو صرف 325 کروڑ روپے ملے ہیں۔ اس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بھی کہا کہ بجٹ میں مہنگائی کم کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، لیکن اس سے مہنگائی مزید بڑھے گی، بے روزگاری دور کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ تعلیمی بجٹ کا 2.64 فیصد سے 2.5 فیصد ہونا افسوسناک ہے اور صحت کے بجٹ کو 2.2 فیصد سے کم کر کے 1.98 فیصد کرنا نقصان دہ ہے۔ بجٹ میں دہلی والوں کے ساتھ ایک بار پھر سوتیلی ماں والا سلوک کیا گیا ہے، پچھلے سال دہلی والوں نے 1.75 لاکھ کروڑ روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا تھا، جس میں سے صرف 325 کروڑ روپے دہلی ترقی کے لیے دیا گیا، یہ دہلی کے لوگوں کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔ مسٹر سسودیا نے کہا کہ یہ مودی جی کی دوسری میعاد کا آخری بجٹ ہے۔ ان دونوں ادوار میں انہوں نے اچھے دن کو جملہ قرار دیا۔ نوکریاں دینے کے وعدے کو جملہ قرار دیا گیا اور اب پھر ایسا بجٹ لائے ہیں جس میں صرف اور صرف جملہ ہے۔ 2014 کے بجٹ کے بعد بھی اس حکومت کو بلٹ ٹرین لانے سے ہم نے پچھلے سال کے بجٹ میں کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے سمیت 60 لاکھ نوکریاں دینے کا جملا سنا ہے اور اس سال کے بجٹ میں ان کی بات تک نہیں کی گئی۔انہوں نے کہا کہ آج کے بجٹ میں سب سے اہم اور تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ ملک کو قرضوں میں ڈبونے والا بجٹ ہے جس سے ملک کی مالی حالت مزید خراب ہوگی۔ 2014 تک مرکزی حکومت پر 53 لاکھ کروڑ روپے کا قرض تھا جو آج مودی جی کے اچھے دن جمع کی وجہ سے بڑھ کر 152 لاکھ کروڑ ہو گیا ہے اور اب اس بجٹ کے ذریعیمزید 15 لاکھ کروڑ کا قرض شامل کیا جا رہا ہے۔ یعنی اس بجٹ کے بعد ملک پر 167 لاکھ کروڑ کا قرض ہو جائے گا۔مسٹر سسودیا نے کہا کہ اس سال مرکزی حکومت کا بجٹ 45 لاکھ کروڑ ہے، جس میں 15 لاکھ کروڑ کا قرض ہے۔ یعنی بھارتیہ جنتا پارٹی ملک کو قرضوں میں غرق بجٹ لے کر آئی ہے۔ جب بھی حکومتیں قرض لیتی ہیں، مہنگائی بڑھتی ہے، بیروزگاری بڑھتی ہے، ملک کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اس بجٹ سے ملک کو 15 لاکھ کروڑ روپے ملیں گے۔مزید قرضوں میں ڈوبیں گے جو ملک کے لیے خطرناک ہے۔ وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بھی ٹویٹ کیا کہ اس بجٹ میں مہنگائی کو کم کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے، لیکن اس سے مہنگائی مزید بڑھے گی۔ اس میں بے روزگاری دور کرنے کا کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں ہے۔ تعلیمی بجٹ کا 2.64 فیصد سے 2.5 فیصد ہونا افسوسناک ہے اور صحت کے بجٹ کو 2.2 فیصد سے کم کر کے 1.98 فیصد کرنا نقصان دہ ہے۔ ایک بار پھر بجٹ میں دہلی کے لوگوں کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیا گیا ہے۔ دہلی والوں نے گزشتہ سال 1.75 لاکھ کروڑ روپے کا انکم ٹیکس ادا کیا۔ اس میں سے صرف 325 کروڑ روپے دہلی کی ترقی کے لیے دیے گئے۔ یہ دہلی کے لوگوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔مسٹر سسودیا نے کہا کہ یہ بجٹ دہلی کے لوگوں کے لیے بہت مایوس کن ہے۔ 22 سال کی روایت کو جاری رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے دہلی کو مرکزی ٹیکس کے حصے میں صرف 325 کروڑ روپے دیے ہیں۔ جبکہ دہلی کے لوگ مرکزی ٹیکس کی مد میں 1.78 ہزار کروڑ روپے ادا کرتے ہیں۔ مرکزی ٹیکس میں توازن ریاستوں کو 42 فیصد حصہ ملتا ہے لیکن دہلی کو صرف 325 کروڑ روپے ملتے ہیں۔ اس سال بھی دہلی کو صرف 325 کروڑ روپے ملے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سال بھی ایم سی ڈی کو مرکزی حکومت سے کوئی رقم نہیں ملی ہے۔ جب ایم سی ڈی میں بی جے پی کی حکومت تھی، جب بھی ایم سی ڈی کو کوئی پیسہ نہیں دیا گیا اور وہ بھی نہیں دیا گیا۔ جبکہ مرکزی حکومت ملک کے تمام میونسپل کارپوریشنوں کو رقم دیتی ہے۔ مسٹر سسودیا نے کہا کہ اس بجٹ میں دہلی کو صرف 325 کروڑ روپے ملے ہیں جبکہ مہاراشٹر کو 64,524 کروڑ روپے، مدھیہ پردیش کو 80,183 کروڑ روپے اور کرناٹک کو 37,252 کروڑ روپے ملے ہیں۔ یعنی دہلی کو بجٹ میں فی کس صرف 611 روپے ملے ہیں جو کہ پورے ہندوستان میں سب سے کم ہے۔ جبکہ مہاراشٹرا 4963 روپے فی کس، کرناٹک روپے۔5247 فی شخص، مدھیہ پردیش میں فی کس 9216 روپے مل رہے ہیں۔ یہ دہلی کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ ناانصافی اس بار بھی جاری ہے اور دہلی کے لوگوں کو بجٹ سے مایوسی ہی ملی ہے۔

Related posts

جرمنی کے سفیر ڈاکٹر فلپ ایکرمین سے وزیر اعلیٰ کجریوال کی ملاقات

www.samajnews.in

وہی قومیں زندہ رہنے کا حق رکھتی ہیں جو اپنی نسل کی حفاظت کرتی ہیں:ڈاکٹر عبدالقدیر

www.samajnews.in

سوچتا ہوں کہ کہوں ایک غزل اس کے نام، مسئلہ یہ ہے کہ الفاظ کہاں سے لاؤں

www.samajnews.in