45.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

آسام شہریت ایکٹ:13سوالات ایک سوال میں ضم، 14فروری کو ہوگی سماعت

بعض طاقتیں ترمیمی دفعہ کو ردّکرواکر آسام میں ایک بار پھر انسانی بحران پیداکرنے کے درپے : مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی، سماج نیوز:سپریم کورٹ کی 5رکنی آئینی بینچ نے 1951کے آسام شہریت ایکٹ میں کی گئی ترمیم کو چیلنج کرنے والی پٹیشن پر سماعت کی ، سماعت کے دوران شکایت کنندہ کے وکلاء نے 14نکات عدالت کے سامنے رکھے ، وکلاء کی بحث سننے کے بعد بینچ نے معاملہ کی سماعت 14فروری تک کیلئے ملتوی کردی ساتھ ہی دورکنی بینچ کے ذریعہ تیارشدہ 13سوالات کو پانچ رکنی آئینی بینچ نے ایک سوال میں ضم کردیا اورکہا کہ یہ سوالات بہت طویل ہیں اس لئے اب محض ایک سوال پر بحث ہونی چاہئے کہ آیا شہریت ایکٹ 1985کی دفعہ 6Aآئین کے اعتبارسے جائز ہے یانہیں ؟ ساتھ ہی تمام فریقین سے اسی ایک سوال کے پس منظرمیں چار ہفتہ کے اندر تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے ، قابل ذکر ہے کہ آسام میں شہریت کے تعین کیلئے 1951کے شہریت ایکٹ میں سیکشن 6Aشامل کرکے شہریت کی بنیاد25؍مارچ 1971کو حتمی تاریخ تسلیم کئے جانے کو باقاعدہ پارلیمنٹ میں منظوری دی گئی تھی ، یہ ترمیم 15اگست 1985کو آسام کی ریاستی سرکار اورمرکز کے درمیان ہوئے ایک اہم معاہدہ کی تکمیل میں کی گئی تھی ، اس کے بعد آسام میں شہریت کا معاملہ تقریبا ختم ہوگیا تھا لیکن 2012میں بعض فرقہ پرست تنظیموں نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کرکے مطالبہ کیا کہ شہریت کی بنیاد25؍مارچ 1971کے بجائے 1951کی ووٹرلسٹ کو بنایا جائے ، اس کے ساتھ ساتھ اسی عرضی میں آسام معاہدہ کی قانونی حیثیت اورشہریت ایکٹ میں 6Aکی دفعہ کے اندراج کو بھی چیلنج کیاگیا ، اس معاملہ کو سپریم کورٹ نے جسٹس رنجن گگوئی اورجسٹس نریمن پر مشتمل ایک دورکنی بینچ کے سپردکردیا جس نے 13سوالات قائم کرکے مقدمہ کو ایک پانچ رکنی آئینی بینچ کے حوالہ کردیا اب یہی بینچ اس مقدمہ کی سماعت کررہی ہے ، اس میں جمعیۃعلماء ہند بھی ایک فریق ہے، آج جمعیۃعلماء ہند اورآمسو کی طرف سے مشہوروکیل مسٹرکپل سبل ،اندراجے سنگھ اورایڈوکیٹ مصطفی خدام حسین وغیرہ پیش ہوئے اورجمعیۃ وآمسوکا موقف رکھا ، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فضیل ایوبی بھی عدالت میں موجودتھے ۔ واضح ہوکہ راجیوگاندھی کے دورحکومت میں جب شہریت ایکٹ میں ترمیم کرکے شہریت کیلئے 25؍مارچ 1971کو کٹ آف تاریخ رکھا گیا تھا تو اس ترمیم کو تمام اپوزیشن پارٹیوں نے تسلیم کیا تھا ان میں بی جے پی بھی شامل تھی ، جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے آج کی پیش رفت پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بادی النظرمیں دیکھا جائے تو آسام جیسی حساس ریاست میں این آرسی کا عمل مکمل ہوجانے کے باوجودیہ معاملہ بہت اہم ہے ، کیونکہ اگر خدانخواستہ 1951کے شہریت ایکٹ سے مذکورہ ترمیمی دفعہ نکال دی جاتی ہے توآسام میں ایک بارپھر انسانی بحران کے پیداہوجانے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جمعیۃعلماء ہند اس معاملہ کو مضبوطی کے ساتھ سپریم کورٹ میں لڑرہی ہے ۔ جمعیۃعلماء آسام کے صدرمولانا مشتاق عنفرنے بھی آج کی پیش رفت پرقدراطمینان کا اظہارکیا ہے، واضح ہوکہ جمعیۃعلماء آسام روزاول سے آسام شہریت معاملہ میں سرگرم ہے وہ اس کیلئے نہ صرف قانونی جدوجہد کرتی آئی ہے بلکہ زمینی سطح پر بھی اس کے رضاکار لوگوں کی ہرطرح سے مددکرتے آئے ہیں۔

Related posts

گجرات کو ڈبل انجن نہیں، نئے انجن والی حکومت کی ضرورت :اروند کجریوال

www.samajnews.in

’’بلقیس بانو کے 11 مجرموں کی رہائی کیلئے بنیادی دستاویزات لائیے‘‘، سپریم کورٹ کا مرکز کو نوٹس

www.samajnews.in

ڈاکٹر قدسیہ انجم اور محترمہ صبوحی افتخارکی زیر سرپرستی سر سید احمد خان ڈے کا پر وقار انعقاد

www.samajnews.in