41.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

’بھارت جوڑو یاترا‘:ہر گلی اور محلے میں کھولیں محبت کی دکان: پرینکا گاندھی

نئی دہلی، سماج نیوز: کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں کنیا کماری سے شروع ہونے والی بھارت جوڑو یاترا 9دن کے آرام کے بعد منگل کو دہلی سے شروع ہوئی۔بھارت جوڑو یاترا 109ویں دن یہاں کنٹینروں پر جھنڈے لگانے کے بعد ہنومان مندر، کشمیری گیٹ سے روانہ ہوئی اور شاستری پارک، گاندھی نگر، سیلم پورکے راستے جعفرآباد چوک کی طرف سے لونی بارڈر اتر پردیش کی سرحد میں داخل ہوئی۔جیسے ہی یاترا اتر پردیش میں داخل ہوئی، جھنڈا سونپنے کا پروگرام ہوا اور کارکنوں نے نئے گیت کے ساتھ یاترا کا آغاز کیا۔بھارت جوڑو یاترا نے 9ریاستوں سے ہوتے ہوئے تقریباً 3000کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے اترپردیش میں داخل ہوئی۔ اس موقع پر اترپردیش کانگریس نے یاترا کی کامیابی پر ایک شاندار یاترا گیت بھی جاری کیا۔ راہل گاندھی کی قیادت میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ 3 جنوری کی صبح دہلی میں ایک بار پھر شروع ہوئی اور بوقت دوپہر غازی آباد کے لونی بارڈر سے اتر پردیش میں داخل ہوئی۔ اس موقع پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور کانگریس کے دیگر سرکردہ لیڈران و ہزاروں کی تعداد میں کارکنان لونی میں موجود تھے جنھوں نے جوشیلے انداز میں ’بھارت جوڑو یاترا‘ کا اتر پردیش میں استقبال کیا۔ پرینکا گاندھی نے اس یاترا کا استقبال کرتے ہوئے اپنی تقریر کے دوران بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور ان کی زہر انگیز پالیسیوں کے نقصانات عوام کو بتائے۔اپنی تقریر کے دوران پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’جیسا راہل گاندھی نے بتایا کہ انہوں نے نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولی ہے، میں یہاں کھڑے ایک ایک یوپی کے کارکنان، ایک ایک ملکی باشندہ کو کہنا چاہتی ہوں کہ ہر گلی میں، ہر محلے میں، ہر گاؤں میں، ہر بلاک میں، ہر ضلع میں، ہر سڑک پر یہ محبت کی دکان کی فرنچائز کھولو۔‘‘ پرینکا گاندھی نے اپنی تقریر میں راہل گاندھی کی دل کھول کر تعریف بھی کی۔

اپنے خطاب میں پرینکا گاندھی نے کہا ’’آج اتر پردیش کی زمین پر بھارت جوڑو یاترا کا استقبال کرتے ہوئے مجھے بہت فخر ہو رہا ہے۔ فخر ہر ان بھارت یاتریوں پر، ایک ایک ملکی باشندہ پر ہے جو اس یاترا سے جڑا ہوا ہے۔ کیونکہ اس یاترا کا جذبہ محبت، خیر سگالی اور اتحاد کو پھیلانا ہے۔ اسی جذبہ نے اس ملک کی بنیاد ڈالی ہے۔ مجھے آپ سب پر فخر ہے کہ 3 ہزار کلو میٹر پیدل چل کر آپ یہاں پہنچے ہیں۔ اور مجھے سب سے زیادہ فخر اپنے بڑے بھائی (راہل گاندھی) پر ہے۔ کیونکہ حکومت نے ہزار کروڑ روپے خرچ کر دیئے ان کی شبیہ خراب کرنے کے لیے، اقتدار کا پورا زور لگا دیا گیا، لیکن یہ سچائی سے ہٹے نہیں۔ ان پر ایجنسیاں لگائی گئیں، لیکن یہ ڈرے نہیں۔ یہ جنگجو ہیں۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں ’’اڈانی جی اور امبانی جی نے بڑے سے بڑے لیڈر خرید لیے، ملک کے سارے پی ایس یو خرید لیے، ملک کی میڈیا خرید لی، لیکن میرے بھائی کو نہیں خرید پائے اور نہ کبھی خرید پائیں گے۔ فخر ہے مجھے ان پر اور آپ سب پر۔‘‘شدید سردی میں راہل گاندھی کے ذریعہ ٹی-شرٹ پہن کر یاترا کرنے کا تذکرہ بھی پرینکا گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ آپ کے بھائی کو ٹھنڈ نہیں لگتی، چھوٹی سی ٹی-شرٹ پہن کر چل رہے ہیں ٹھنڈ میں۔ ٹھنڈ سے انھیں بچاؤ۔ کسی نے کل مجھے کہا کہ ٹھنڈ سے انہیں بچاؤ، جیکٹ ہی پہنا دو۔ کسی نے پوچھا کہ آپ کو ڈر نہیں لگتا ان کی سیکورٹی کے لیے۔ کشمیر جا رہے ہیں، پنجاب سے گزریں گے، طویل یاترا کریں گے کشمیر تک، تو ڈر نہیں لگتا۔ میرا جواب یہ ہے کہ یہ سچ کا ’کوچ‘ (شیلڈ) پہن کر چل رہے ہیں۔ اوپر والا ان کو محفوظ رکھے گا۔ اور جب تک آپ سب اس ملک کی سچائی کو پہچانیں گے تب تک اوپر والا اس ملک کی سچائی کو محفوظ رکھے گا۔‘‘ ساتھ ہی وہ عوام کو بیدار کرنے والے انداز میں کہتی ہیں کہ ’’پہچانیے، اتحاد میں ہی آپ کی ترقی ہے۔ سب ساتھ چلیے، پورے ملک بھر میں اتحاد، خیر سگالی اور محبت کا پیغام لے جائیے۔‘‘ اپنے خطاب میں وہ یہ عزم بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ’’ہم اس ملک کو بچا کر رکھیں گے، اس ملک کو ترقی یافتہ بنائیں گے اور نوجوانوں کو ان کا حق دلوائیں گے‘‘۔

Related posts

خواتین ريزرویشن بل پاس ہونے پر ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے وزیر اعظم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا

www.samajnews.in

نفرت کی گھناؤنی سیاست نے سارس کو عارف سے جدا کردیا

www.samajnews.in

جموں وکشمیر کے مسائل وضروریات پر ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی پریس کانفرنس

www.samajnews.in