42.1 C
Delhi
مئی 19, 2024
Samaj News

کورونا نے چین میں مچائی تباہی، اسپتال اور شمشان گھاٹوں میں لاشوں کا انبار

نئی دہلی، سماج نیوز:چین، جاپان، امریکہ سمیت کئی ممالک میں ایک بار پھر کورونا کیسز میں اضافہ نے پوری دنیا میں دہشت کاماحول پیدا کردیا ہے۔ اس کے پیش نظر حکومت ہند نے بھی ریاستی حکومتوں کو الرٹ جاری کیا ہے۔ بات کریں چین کی تو وہاں کورونا وائرس سے بھاری تباہی کی خبریں آرہی ہیں۔ کئی میڈیا رپورٹس میں وہاں کے اسپتالوں اور شمشان گھاٹوں میں لاشوں کے انبار دیکھنے کو مل رہے ہیں، حالانکہ چینی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس ہفتہ پیر کو ملک بھر میں کورونا وائرس سے صرف دو جبکہ منگل کو پانچ لوگوں کی موت ہوئی۔ وہیں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سے پہلے کے دو ہفتوں میں ایک بھی موت نہیں ہوئی ، ایسے میں ان اعداد و شمار پر سوالات اٹھنے شروع ہوگئے ہیں ۔ان تنقیدوں کے درمیان چین نے کورونا وائرس سے ہو رہی اموات کی گنتی کے طریقے کو لے کر وضاحت کی ہے۔

بیجنگ کے مطابق صرف سانس کی بیماری اور نمونیا سے ہونے والی اموات کو ہی کورونا وائرس کی موت میں شمار کیا جارہا ہے۔ چین میں انفیکشن امراض کے ماہر پروفیسر وانگ گو کوانگ نے واضح کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہوئے نمونیا اور سانس کی خراب سے ہوئی اموات کو ہی کورونا سے ہوئی اموات میں شمار کیا جاتا ہے ۔چین میں پھیل رہے کورونا نے پوری دنیا کی تشویش بڑھادی ہے، کچھ میڈیا رپورٹ میں کہا جارہا ہے کہ ہر ہفتے چین میں ہزاروں لوگوں کی جان جارہی ہے، لیکن عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا سے جڑے اعدادوشمار کو لے کر تشویش ظاہر کی ہے اور اس کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادنوم گیئبرئیس نے بدھ کو ایک بار پھر چین سے کورونا وبا کے پھیلاو کو بہتر ڈھنگ سے سمجھنے کے لیے درخواست کرتے ہوئے ڈیٹا شیئر کرنے کو کہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او سربراہ ٹیڈروس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کووڈ-19 کے بعد کی حالت، ہمارے سمجھ سے بالاتر ہے اور ہم یہ نہیں سمجھ پارہے ہیں کہ انفیکشن کے طویل مدتی نتائج سے دوچار لوگوں کا علاج کیسے کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سمجھنے کے لیے کہ یہ وبائی بیماری کیسے شروع ہوئی، درست اعداد و شمار کی ضرورت ہے ۔برطانیہ میں واقع گلوبل ہیلتھ انٹلیجنس اینڈ انالیٹیکس فرم نے چین میں کورونا کے پھیلاؤ کو لے کر تبدیل ہوتے حالات پر نیا تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ چین میں ہائبرڈ ایمونیٹی کی کافی کمی ہے اور ملک میں کم ویکسینیشن و بوسٹر ڈوز تقسیم کی وجہ سے حالات کافی خراب ہوں گے۔ زیرو کوویڈ پالیسی کو پوری طرح چینی حوکمت بدلتی ہے تو ملک کے 13 سے 21 لاکھ لووں کی جان خطرے میں پڑسکتی ہے۔

Related posts

مجدد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا فیضان جاری ہے:مفتی مکرم احمد

www.samajnews.in

خواتین ٹی20-ورلڈ کپ: آسٹریلیاکی خطابی ہیٹرک، افریقہ کو 19رنز سے دی شکست

www.samajnews.in

امریکہ اور طالبان لیڈروں کی دوحہ میں ملاقات

www.samajnews.in