33.1 C
Delhi
جولائی 24, 2024
Samaj News

لیونیل میسی کیا اب فٹبال کے سب سے عظیم کھلاڑی ہیں؟

فل مکنلٹی(چیف فٹ بال رائٹر، لسیل اسٹیڈیم دوحہ)
ارجنٹائن کے 35 سالہ ماہر کھلاڑی نے اس عظیم لمحے سے قبل اپنے ہاتھ جوڑے، روایتی عرب بشت پہنی اور پھر ورلڈ کپ ٹرافی کو برقی روشنیوں کے دھماکے دار طوفان میں فضا میں بلند کیا۔میسی نے اپنا خواب پورا کر دکھایا۔ فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے شاندار فائنل کے بعد ان کی چمکتی دمکتی ٹرافیوں میں باقی کمی پوری ہو گئی جس کے دوران دنیا بھر میں جذبات اور دل کی دھڑکنوں کو سنبھالنا مشکل ہو چکا تھا۔یہی وہ ایک ٹرافی ہے جسے ان کے لاکھوں پرستار اب اس بات کی گواہی کے طور پر پیش کریں گے کہ وہ اس کھیل کے سب سے عظیم کھلاڑی ہیں۔15 انچ سونے کی ٹرافی ان کی گواہی میں مددگار ثابت ہو گی اور ان کی مخالفت کرنے والوں کے لیے اپنا مؤقف پیش کرنا مشکل ہو جائے گا۔تقابلی جائزے نسلوں پر محیط ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے کسی بھی مؤقف کو مکمل طور پر جانچنا مشکل ہو جاتا ہے لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اب میسی کا شمار پیلے اور میرا ڈونا جیسے کھلاڑیوں کی فہرست میں کیا جائے گا۔میراڈونا، جن کی 10 نمبر جرسی پہنے لیونیل میسی کھیلے، بھی سب سے عظیم کھلاڑی کے مرتبے کے مضبوط امیدوار ہیں۔ اب تک میسی اور میراڈونا میں صرف ایک فرق تھا۔ میراڈونا 36 سال پہلے ارجنٹائن کو ورلڈ کپ جتوا چکے تھے۔ اب یہ فرق بھی مٹ چکا ہے۔

 

جب کبھی فٹ بال کے سب سے عظیم کھلاڑی پر بحث ہو گی، میسی کا نام لیا جائے گا اور اس فتح کے بعد ان کا نام لینے والوں کے پاس ایک طاقتور ہتھیار بھی ہے۔میسی کے عروج کی کہانی کیسے بیان کی جائے؟ ان واقعات کا تذکرہ کہاں سے شروع کیا جائے جن کا اختتام ارجنٹائن کی ورلڈ کپ فتح کی صورت میں ہوا، ایک ایسا ٹورنامنٹ جس سے میسی کا نام ہمیشہ کے لیے جڑ چکا ہے۔2006 سے شروع ہونے والے اس سفر کے دوران کئی بار میسی کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جس میں 2014 میں جرمنی کے ہاتھوں ورلڈ کپ فائنل میں شکست بھی شامل تھی تاہم میسی کو یہ علم ہونا چاہیے تھا کہ یہ اعزاز اتنی آسانی سے ہاتھ آنے والا نہیں۔اور یہ سب کچھ ایک 23 سالہ کھلاڑی کی تمام تر کوشش کے باوجود ممکن ہوا جس کا نام اگر ابھی اس فہرست میں شامل نہیں بھی تو آنے والے دنوں میں ضرور شامل ہو گا؛ فرانس کے کائلیان ایمباپے۔ایسا لگ رہا تھا کہ فرانس نے میسی کی تاجپوشی کے لیے سرخ قالین بچھا رکھا ہے کیونکہ میچ کے 80 منٹ تک فرانس نے ارجنٹائن کے سامنے جیسے ہاتھ کھڑے کر رکھے تھے۔

لوسیل کا میدان جیسے میسی کے لیے ہی تھا جہاں پہلے انھوں نے پینلٹی پر گول کیا اور وہ پہلے کھلاڑی بنے جس نے ایک ہی ٹورنامنٹ کے دوران گروپ سٹیج، راونڈ آف سکسٹین، کوارٹر فائنل، سیمی فائنل اور فائنل میں گول کیا۔اس کے بعد میسی نے انجیل ڈی ماریا کو دوسرا گول کرنے میں مدد دی جس کے بعد متوقع فتح کا جشن بھی شروع ہو چکا تھا کہ ایمباپے نے دوسری جانب سے حیران کن جنگ کا آغاز کر دیا۔میچ ختم ہونے سے 10 منٹ قبل ایمباپے نے پہلی پینلٹی پر گول کیا اور اس کے کچھ ہی دیر بعد دوسرا گول کیا۔ اب میسی کے چہرے پر بے یقینی کی ایسی معنی خیز مسکراہٹ تھی جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ ’دوبارہ سے نہیں۔‘ارجنٹائن کے کوچ لیونیل سکالونی نے 34 سالی ڈی ماریا کا بہترین انتخاب کیا لیکن 64 منٹ کے بعد جب ان کی جگہ مارکوس اکونا کو لایا گیا تو یہ دفاعی فیصلہ لگ رہا تھا۔میسی نے ارجنٹائن کو کھیل میں واپس لانے کی بھرپور کوشش کی لیکن فرانس ایمباپے کے جارحانہ کھیل کی وجہ سے متحرک ہو چکی تھی۔اضافی ٹائم میں کھیل اور جذبات دونوں ہی عروج پر تھے۔ شائقین کی پریشانی اتنی عیاں تھی کہ کئی لوگ تو میدان کی جانب دیکھ ہی نہیں پا رہے تھے کہ اگلے لمحے میں کیا ہو جائے۔تناؤ سے بھرپور میچ کا فیصلہ پینلٹی تک جا پہنچا جہاں ارجنٹائن کی ٹیم چار دو سے فتحیاب ہوئی۔

گونزالو مونٹئیل نے فیصلہ کن گول کیا تو پر نم آنکھوں کے ساتھ میسی گھٹنوں کے بل گر پڑے۔ ان کے ہاتھ آسمان کی جانب بلند تھے۔ کچھ ہی دیر میں ہلکی نیلی اور سفید لکیروں کی ٹی شرٹس نے ان کو گھیرے میں لے لیا۔فتح کے جشن کے درمیان ہی میسی نے ارجنٹائن کے شائقین سے بات کرنے کے لیے مائیکرو فون بھی اٹھایا۔میسی کو اس ٹورنامنٹ میں گولڈن بال ایوارڈ بھی ملا ہے اور وہ پہلے کھلاڑی ہیں جنھوں نے 1982 میں اس ایوارڈ کو متعارف کروائے جانے کے بعد سے دو بار یہ جیتا ہے۔ پہلی بار انھوں نے یہ ایوارڈ 2014 میں جیتا تھا۔میسی اب تک ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کے لیے 21 گولز میں کردار ادا کر چکے ہیں جن میں سے 13 گول ان کے اپنے ہیں۔ اس ورلڈ کپ کے بعد ان کے مجموعی گولز کی تعداد 793 ہو چکی ہے۔تاہم اس رات میں صرف ایک بات ایسی تھی جو سب سے اہم تھی۔ میسی آخر کار ورلڈ کپ فاتح تھے۔ورلڈ کپ کی شروعات میں سعودی عرب کے ہاتھوں حیران کن شکست کا دھبہ دور ہو چکا تھا۔ یہ میسی ہی تھے جنھوں نے میکسیکو کے خلاف بہترین گول سے ارجنٹائن کی ورلڈ کپ مہم کا آغاز کیا تھا اور فائنل تک انھیں روکنے والا کوئی نہیں تھا۔میسی کے ہاتھوں میں گولڈن ٹرافی تھی۔ ان کا مشن پورا ہو چکا تھا جو 16 برس پہلے شروع ہوا تھا۔قطر کی یہ رات ہمیشہ یاد رکھی جائے گی جس میں میسی کی ورلڈ کپ کہانی کا آخری باب لکھا گیا جو آغاز سے انجام تک سنسنی خیز رہا۔ (بی بی سی اردو)

Related posts

عام بجٹ 24-2023کی جھلکیاں

www.samajnews.in

’جیومارٹ ‘کے برانڈ ایمبیسڈر بنے مہندر سنگھ دھونی

www.samajnews.in

کرناٹک میں کانگریس کی جیت ملک کے ہر کانگریسی کی جیت ہے: طارق صدیقی

www.samajnews.in