42.1 C
Delhi
مئی 19, 2024
Samaj News

سعودی عرب کا بھارتیوں کو بڑا تحفہ،ویزا کیلئے پولس کلیئرنس سرٹیفکیٹ ختم

نئی دہلی، سماج نیوز: نئی دہلی میں سعودی سفارت خانے نے اپنی ایک ٹویٹ میں سعودی عرب اور بھارت کے درمیان’’مضبوط تعلقات اور اسٹراٹیجکشراکت داری‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی شہریوں پر ویزا کے حصول کے لیے پولس کلیئرنس سرٹیفکیٹ کی جو شرط تھی، اسے ختم کیا جا رہا ہے۔ویزا کے لیے پولس کلیئرنس کی شرط ختم کرنے سے ریاض کے اس اقدام کا فوری فائدہ یہ ہو گا کہ جو بھارتی سعودی ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں ان کی درخواستوں پر تیزی سے عمل ہو سکے گا۔ اس سے سیاحت کی کمپنیوں کو بھی اپنے ٹور منظم کرنے میں آسانی ہو گی جبکہ زائرین بھی سفری دستاویزات جمع کرنے کی پریشانیوں سے بچ جائیں گے۔پولس کلیئرنس سرٹیفکیٹ ایک ایسی دستاویز ہے کہ اگر ممالک ویزے کے لیے اس کی شرط رکھ دیں تو پھر جو افراد روزگار، رہائش یا پھر طویل مدتی ویزا کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہوں، انہیں اس سرٹیفیکٹ کے بغیر ویزا نہیں دیا جاتا ہے۔یہ سفری دستاویز شہریوں کے مجرمانہ ریکارڈ کی تفصیل بتانے میں مدد کرتی ہے۔ تاہم بھارت میں پولس حکام سے اس طرح کا سرٹیفیکٹ حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے اور رشوت کے بغیر اس کا حصول تقریباً نا ممکن ہے۔جمعرات کے روز بھارت میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے اس شرط کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی ایک ٹویٹ میں بھارت اور سعودی عرب کے درمیان اچھے تعلقات کا بھی حوالہ دیا۔اس کا کہنا تھا’’سعودی عرب اور جمہوریہ بھارت کے درمیان مضبوط تعلقات اور اسٹریٹیجک شراکت داری کے پیش نظر، مملکت نے بھارتی شہریوں کو پولس کلیئرنس سرٹیفکیٹ (پی سی سی) جمع کرانے سے مستثنیٰ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔
سفارت خانے نے اپنے بیان میں مزید کہا’’اب بھارتی شہریوں کو سعودی عرب کے سفر کے لیے ویزا حاصل کرنے کی پی سی سی کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا ہے۔ سفارت خانہ مملکت سعودی عرب میں پرامن طریقے سے رہنے والے 20 لاکھ سے زیادہ بھارتی شہریوں کے تعاون کو بھی سراہتا ہے‘‘۔ بھارتی حکام نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ریاض میں بھارتی سفارت خانے اپنے رد عمل میں کہا کہ ’’بھارت سعودی عرب کی حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ اس نے اپنی مملکت میں آنے والے بھارتی شہریوں کو پولس کلیئرنس سرٹیفکیٹ (پی سی سی) مستثنیٰ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے سعودی عرب میں تقریباً 20 لاکھ افرادپر مشتمل بھارتی کمیونٹی کے لیے کافی آسانیا پیدا ہوں گی‘‘۔بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات پچھلے کچھ سالوں میں کافی مضبوط ہوئے ہیں اور سیاسی، سیکورٹی، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، صحت، خوراک کے تحفظ، ثقافتی اور دفاعی شعبوں میں تعاون میں کافی اضافہ ہوا ہے۔سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان رواں ماہ اپنے ہم منصب نریندر مودی سے ملاقات کے لیے بھارت کا دورہ کرنے والے تھے۔ تاہم شیڈول کے مسائل کی وجہ سے دورہ منسوخ کر دیا گیا۔ وہ انڈونیشیا کے بالی میں جی 20 سربراہی اجلاس کے لیے جا رہے تھے۔

Related posts

کرناٹک: برقعہ کا مذاق اڑانا پڑا بھاری، کالج سے 4طلباء معطل

www.samajnews.in

یونانی دوائیوں کی بہتر جانکاری دینا میلے کا مقصد تھا: حکیم امام الدین ذکائی

www.samajnews.in

اتراکھنڈ: ہلدوانی کے 4000 سے زائد خاندان ہوں گے بے گھر

www.samajnews.in