45.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

کووڈ ویکسین سے بڑھا ’’ہارٹ اٹیک اموات‘‘ کا خطرہ

نئی دہلی: کورونا ویکسین کو لے کر کئی بار سائنسداں اور ڈاکٹرس مختلف اندیشے ظاہر کر چکے ہیں۔ ایک نئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ میسنجر آر این اے (میسنجر رائبوز نیوکلک ایسڈ) ٹیکنالوجی والی کووڈ ویکسین کی وجہ سے لوگوں میں قلب پر مبنی مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ اس وجہ سے قلب سے متعلق اموات کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔فلوریڈا کے سرجن جنرل اور اسٹیٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر جوسف اے. لاڈاپو نے بتایا کہ خاص طور پر میسنجر آر این اے ویکسین سے 18 سے 39 سال کے مردوں میں قلب سے متعلق اموات کا خطرہ زیادہ ہے۔ ڈاکٹر جوسف نے اس سلسلے میں ایک ٹوئٹ کیا ہے جس میں لکھا ہے ’’آج ہم کووڈ-19 ایم آر این اے ویکسین کے تجزیہ کے بارے میں بتا رہے ہیں، جس کے بارے میں لوگوں کو بیدار ہونا چاہیے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ایم آر این اے ویکسین کے تجزیہ میں اخذ کیا گیا کہ ٹیکہ کاری کے 28 دنوں کے اندر 39-18 سال کے مردوں میں قلب سے متعلق اموات کے واقعات میں 84 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔‘‘ڈاکٹر جوسف کا کہنا ہے کہ مایوکارڈیٹس اور پیریکارڈیٹس جیسی پہلے سے موجود قلب سے متعلق پیچیدگیوں والے لوگوں کو ویکسین لگواتے وقت خاص احتیاط برتنا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’کسی بھی دوا یا ٹیکہ کی سیکورٹی اور اس کے اثرات کا مطالعہ عوامی صحت کا ایک اہم حصہ ہے۔ ایم آر این اے ویکسین کو لے کر سیکورٹی پر بہت کم توجہ دی گئی ہے اور کئی لوگوں کی فکر کو خارج کر دیا گیا ہے۔‘‘واضح رہے کہ میسنجر آر این اے ایک ٹیکنالوجی ہے۔ اس طرح کا آر این اے دراصل ڈی این اے کا سیکوئنس ہوتا ہے۔ یہ پروٹین بنانے کے لیے بلو پرنٹ ہے۔ میسنجر آر این اے ویکسین میں میسنجر آر این اے اسپائک پروٹین کی سیکوئنس انفارمیشن لے جاتا ہے۔ میسنجر آر این اے لیپڈ فارمولیشن سے کور ہوتا ہے۔ اسی کو جسم میں انجیکٹ کیا جاتا ہے۔ جسم کے خلیات میں یہ اسپائک پروٹین بناتا ہے۔ اسپائک پروٹین کورونا سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈی بناتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں پونے واقع جنیوا بایو فارماسیوٹیکل کمپنی کی میسنجر آر این اے ویکسین جیمکووا-19 کے ایمرجنسی استعمال کو منظوری دے دی گئی ہے۔ میسنجر آر این اے ویکسین 18 سال سے زیادہ عمر والے طبقہ کے لوگوں کو لگائی جا سکتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ویکسین 2 سے 8 ڈگری سلسیس پر موجود رہتی ہے۔ اس کی ایک وائل میں پانچ خوراک ہیں، جو انٹرامسکولر انجکشن کے ذریعہ جسم میں لگائی جائیں گی۔ پہلی خوراک کے 28 دن کے فرق پر دوسری خوراک لگے گی۔

Related posts

ازدواجی، صحت اور تعلیمی شعبوں میں ضرورتمندوں کو غیر متزلزل مدد فراہم کرنے کا عہد کرتی ہیں عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ

www.samajnews.in

کمزور دِل کا مضبوط صحافی

www.samajnews.in

جوشی مٹھ میں ہر سال 2.5انچ دھنس رہی ہے زمین :رپورٹ

www.samajnews.in