33.1 C
Delhi
جولائی 24, 2024
Samaj News

دہلی میں خطرناک سطح پر پہنچی آلودگی، اسکول بند

نئی دہلی،سماج نیوز: دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے اعلان کیا ہے کہ راجدھانی دہلی کے پرائمری اسکول کل 5 نومبر سے بند رہیں گے۔ اس کے علاوہ پانچویں جماعت سے اوپر کی کلاسوں کے لیے تمام بیرونی سرگرمیوں پر بھی پابندی ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ دہلی میں گاڑیوں کے لیے طاق و جفت فارمولہ کے نفاذ پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ کجریوال نے یہ اعلان پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔اس پریس کانفرنس میں اروند کجریوال نے پنجاب اور دہلی میں بڑھتی ہوئی آلودگی پر کہا کہ ایک ریاست کی آلودہ ہوا ایک ریاست میں نہیں رہتی بلکہ ہر ریاست میں جاتی ہے۔ کجریوال نے کہا کہ آلودگی صرف دہلی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہریانہ، یوپی اور پورے شمالی ہندوستان میں ہوا کی حالت خراب ہے۔ ایسے میں یہ وقت ایک دوسرے پر الزامات لگانے کا نہیں ہے۔ مرکز کو آگے آ کر قدم اٹھانے ہوں گے تاکہ شمالی ہندوستان کو اس سے بچایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اور دہلی میں ہماری حکومت ہونے کے باوجود یہ ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کا وقت نہیں ہے۔ اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کجریوال نے کہا کہ پنجاب میں پرالی جلائی جا رہی ہے، جس کے لئے صرف کسان ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ہم ہیں۔ ہم کوئی الزام تراشی کا کھیل نہیں کھیلنا چاہتے۔ پرالی کے لئے ہمیں کسانوں کو کوئی راستہ فراہم کرنا ہوگا، کیونکہ ان کے پاس اسے جلانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ کجریوال نے کہا کہ پرالی جلانے میں 22 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو خطرناک ہے۔ ہم عدالت سے استدعا کرتے ہیں کہ آج یا کل اس معاملہ کی سماعت کی جائے۔

طاق و جفت فارمولہ بھی نافذ ہونے کا امکان، پرائمری اسکول آج سے بند، باقی کلاسوں کیلئے تمام بیرونی سرگرمیوں پر پابندی

کجریوال نے کہا کہ ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مرکز کو بھی آگے بڑھنا ہوگا۔ وزرائے اعلیٰ کا مشترکہ اجلاس اور ماہرین سے مشاورت ضروری ہے۔ راجستھان کے بھیواڑی میں اے کیو آئی تشویشناک سطح پر ہے۔ موتیہاری، بہار میں ہوا کا معیار خراب ہے۔ راجستھان اور بہار میں ہوا کے خراب معیار کے لیے پنجاب کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ یہ پورے شمالی ہندوستان کا مسئلہ ہےانہوں نے کہا کہ اگلے سال تک پرالی جلانے میں کمی آئے گی، کسانوں کے ساتھ مل کر سخت اقدامات کریں گے۔ پنجاب میں ہماری حکومت کو صرف 6 ماہ ہوئے ہیں، ہمیں کچھ وقت دیں۔ بھگونت مان کی حکومت پہلے ہی کئی اقدامات کر چکی ہے۔ ان میں سے کچھ کا اثر ہوا، کچھ کا نہیں ہوا۔اس دوران کجریوال نے یہ بھی کہا کہ آلودگی کے پیش نظر دہلی میں پرائمری اسکول کل سے بند رہیں گے اور طاق ٹریفک کے پلان پر بھی غور کیا جائے گا۔بڑھتی ہوئی آلودگی کی وجہ سے گوتم بدھ نگر (نوئیڈا) میں پہلی سے آٹھویں جماعت کے لیے 8 نومبر تک اسکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسکولوں کو سینئر کلاسز کے لیے آن لائن کلاسز منعقد کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے اور تمام آؤٹ ڈور سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ مسٹر کجریوال نے کہا کہ دہلی میں ہوا کا معیار سنگین زمرے میں پہنچ گیا ہے اور لوگوں کو سانس لینا مشکل ہو رہا ہے ۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔ یہ مسئلہ صرف دہلی کا نہیں بلکہ پورے شمالی ہندوستان کا ہے ۔ راجستھان میں دہلی، چرخی دادری، روہتک، بھیوانی، گڑگاؤں، بہادر گڑھ، جند، مانیسر، نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، غازی آباد اور بھیواڑی میں ہوا کا معیار سنگین درجہ میں پہنچ گیا ہے ۔ دہلی کی فضا جتنی خراب ہے ، ان تمام شہروں میں بھی اتنی ہی خراب ہے ۔ اس کے علاوہ کیتھل، پانی پت، بلب گڑھ، فرید آباد، سونی پت، نارنول، کروکشیتر، باغپت، میرٹھ، کانپور اور بہار میں موتیہاری، بیتیا اور کٹیہار میں ہوا انتہائی خراب زمرے میں ہے ۔ آلودگی کا یہ مسئلہ پورے شمالی ہندوستان کا ہے ۔ ظاہر ہے اس کیلئے نہ صرف عام آدمی پارٹی یا کجریوال ذمہ دار ہیں۔ اس کیلئے نہ صرف دہلی اور پنجاب کی حکومت ذمہ دار ہے بلکہ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ بہت سی مقامی وجوہات ہیں اور بہت سی علاقائی وجوہات۔ ایک ریاست کی ہوا ایک ہی حالت میں نہیں رہتی۔ یہاں سے ہوا وہاں جاتی ہے اور وہاں سے ہوا یہاں آتی ہے۔ اس معاملے میں مرکزی حکومت کو آگے آنا ہوگا اور اس پر خصوصی قدم اٹھانا ہوگا تاکہ پورے شمالی ہندوستان کو آلودگی سے بچایا جاسکے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پرائمری اسکول تب تک بند رہیں گے جب تک دہلی میں ہوا کا معیار بہتر نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ جفت۔طاق پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانچویں جماعت سے اوپر کی کلاسوں کی آؤٹ ڈور سرگرمیاں بند رہیں گی۔ طلباء کو کھیلوں اور بیرونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی۔

Related posts

امیزون کمپنی 9000 ملازمین کی کرے گا چھنٹنی

www.samajnews.in

ترکی اور شام میں زلزلے سے اموات 25ہزار سے متجاوز

www.samajnews.in

حج2024 کی تیاریاں پورے شباب پر

www.samajnews.in