40.1 C
Delhi
مئی 22, 2024
Samaj News

محمد بن سلمان کا بھارت دورہ، کیا ہے مقصد؟

نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر محمد بن سلمان آئندہ ماہ بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں۔ انڈونیشیا میں جی-20 کانفرنس میں شرکت سے قبل ان کا یہ دورہ کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔بھارتی خبر رساں ایجنسیوں اور میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد اور مملکت کے وزیر اعظم محمد بن سلمان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے لیے نومبر کے وسط میں نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔ ایک سعودی وزیر نے گزشتہ ہفتے نئی دہلی کا دورہ کیا تھا۔اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان انڈونیشیا کے سیاحتی شہر بالی میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے جب ریاض سے روانہ ہوں گے، تو ان کی پہلی منزل دہلی ہو گی اور بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کرنے کے بعد وہ بالی کے لیے روانہ ہوں گے۔بھارتی میڈیا کے مطابق وزیر اعظم مودی نے ایک مکتوب کے ذریعے انہیں دہلی آنے کی دعوت دی تھی، جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے۔ وہ 14 نومبر کو دہلی پہنچیں گے اور دوسرے ہی روز بالی کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس ملاقات کا اہم مقصد توانائی کی فراہمی کے تحفظ پر بات چیت کرنا ہے۔روس یوکرین جنگ کے بعد توانائی کے تحفظ سے متعلق جو چیلنجز پیدا ہوئے ہیں، اس پس منظر میں مودی اور سعودی ولی عہد کی ملاقات کافی اہم مانی جا رہی ہے۔در اصل روس سمیت اوپیک پلس ممالک کی طرف سے تیل کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے توانائی کی صورتحال کافی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔محمد بن سلمان نے سن 2019 میں بھارت میں تقریبا 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، لیکن اطلاعات کے مطابق اس منصوبے پر اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی ہے۔واضح رہے کہ تیل کی پیداوار میں کمی کے بعد ہی امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی عرب کو نتائج سے متعلق دھمکی بھی دی تھی۔ سعودی عرب کے وزیر توانائی عبدالعزیز بن سلمان نے گزشتہ ہفتے ہی بھارت کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے بھارت کے وزیر تجارت پیوش گوئل اور وزیر صنعت و توانائی سمیت کئی سینیئر وزراء سے بات چیت کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق امریکی دھمکیوں کے بعد ہی توانائی کے بحران پر سعودی وزیر نے چینی حکام سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی اور چونکہ امریکی صدر جو بائیڈن بھی جی ٹوئنٹی اجلاس میں شرکت کریں گے، اس لیے توانائی کے حوالے سے ایک مشترکہ حکمت عملی طے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کے بعد ماسکو پر مغربی ممالک کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے تیل اور گیس کی بین الاقوامی سیاست بھی پیچیدہ ہو گئی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک اور تیل استعمال کرنے والے بڑے ممالک کے درمیان ایک طرح سے رسہ کشی جاری ہے۔انگریزی اخبار ‘دی ہندو کے مطابق سعودی ولی عہد بھارتی دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جاری دیگر دو طرفہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیں گے۔ محمد بن سلمان نے سن 2019 میں بھارت میں تقریبا 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، لیکن اطلاعات کے مطابق اس منصوبے پر اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی ہے۔

Related posts

آسام بچپن شادی معاملہ: گرفتارلوگوں کو فوراً رہا کرنے کا حکم، حکومت کو عدالت سے جھٹکا

www.samajnews.in

مسلم افراد کے بیشتر معاملات میں سرکاری مشینری کی منفی سوچ انصاف کے حصول میں بڑی رکاوٹ:سینئر ایڈوکیٹ محمد علی

www.samajnews.in

دہلی کو ملے دو نئے وزراء، آتشی اور سوربھ بھاردواج بنے وزیر

www.samajnews.in