42.1 C
Delhi
مئی 19, 2024
Samaj News

رشی سُنک برطانیہ کے وزیر اعظم

کنگ چارلس سوئم سے کی ملاقات، رِشی سنک نے برطانیہ کے مسائل کو حل اور معاشی بحران سے نمٹنے کا عوام کو بھروسہ دلایا

لندن: کنزرویٹو پارٹی کے نئے لیڈر رشی سوناک کو برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوئم نے آج برطانیہ کا نیا وزیر اعظم مقرر کر دیا۔ رِشی سُنک نے 25 اکتوبر کو لندن کے بکنگھم پیلس میں بادشاہ چارلس سوئم سے ملاقات کی۔ وہاں بادشاہ چارلس سوئم نے انہیں حکومت سازی کے لیے مدعو کرتے ہوئے ملک کا نیا وزیر اعظم مقرر کیا۔قابل ذکر ہے کہ برطانیہ کے سابق وزیر مالیات رشی سوناک ہند نژاد ہیں اور وہ گزشتہ 210 سال میں برطانیہ کے سب سے کم عمر کے وزیر اعظم ہیں۔ بادشاہ چارلس سوئم سے ملاقات کے بعد رشی سوناک نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ ’میں غلطیوں کی اصلاح کیلئے منتخب کیا گیا ہوں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں ایمانداری اور انکساری کے ساتھ آپ کی خدمت کروں گا اور برطانیہ کے لوگوں کی لگاتار خدمت کروں گا۔ ہم ساتھ مل کر حیرت انگیز چیزیں حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم لائق مستقبل کی تعمیر کریں گے‘۔ رشی سُنک نے اپنے خطاب میں عوام کو یقین دلایا کہ وہ برطانیہ کو خوشحال بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت ہر سطح پر ایمانداری اور جوابدہی کے ساتھ آگے بڑھے گی۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’اعتماد حاصل کیا جاتا ہے، اور میں آپ سب کا یقین کماؤں گا۔ برطانیہ ایک عظیم ملک ہے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ملک ایک سنگین معاشی چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔ آگے مشکل فیصلے لیے جائیں گے۔ اس وقت ہمارا ملک گہرے معاشی بحران سے نبرد آزما ہے‘۔ معاشی اور سیاسی بحران کے شکار برطانیہ کے نو منتخب وزیر اعظم رشی سوناک نے کہا ہے کہ وہ سابقہ حکمرانوں کے چھوڑے گئے خرابیوں کو درست کرنے ، سیاست پر اعتماد بحال کرنے اور سنگین معاشی بحران سے نمٹنے کی کوشش کریں گے جب کہ انہوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ اس صورتحال کی بہتری کیلئے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے ۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق رشی سوناک 2 ماہ کے دوران برطانیہ کے تیسرے وزیر اعظم بن گئے جنہیں سنگین ہوتے معاشی بحران، باہمی اختلافات کی شکار سیاسی جماعت اور ملک کو درپیش شدید تفریق اور تقسیم کے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔42 سالہ سابق وزیر خزانہ نے شاہ چارلس سے ملاقات کی جہاں انہوں نے نومنتخب رہنما کو حکومت بنانے کیلئے کہا۔ڈان کی رپورٹ کے مطابق ڈاؤننگ سٹریٹ آفس کے سامنے کھڑے ہو کر نومنتخب وزیر اعظم رشی سوناک نے قوم سے خطاب کے دوران اپنی پیش رو لِز ٹرس کو خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ لز ٹرس کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں، ان کے دور میں کچھ غلط فیصلے ضرور ہوئے ہیں لیکن ان فیصلوں اور اقدامات کے پیچھے کسی قسم کی بد نیتی یا برے ارادے نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنی پارٹی کا لیڈر اور آپ کا وزیر اعظم منتخب کیا گیا، ان غلطیوں کو ٹھیک کرنے کیلئے کام ابھی سے شروع ہے ، میں معاشی استحکام لاؤں گا، حکومت پر اعتماد کی بحالی ایجنڈے کا مرکزی نکتہ ہوگا، اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں مشکل فیصلے ہوں گے۔ واضح رہے کہ رشی سوناک ڈاؤننگ اسٹریٹ سے قوم سے خطاب کے بعد سینئر رہنماؤں پر مشتمل وزرا کی کابینہ کی تشکیل دیں گے۔ پارلیمنٹ کے امیر ترین اراکین میں سے ایک رشی سوناک کو معاشی سست روی، قرض لینے کے زیادہ اخراجات اور 6 ماہ کے توانائی کے بلوں کے امدادی پروگرام کی وجہ سے عوامی مالیات میں تخمینہ 40ارب پاؤنڈ (45ارب ڈالر) کے خلا کو پر کرنے کیلئے ملکی اخراجات میں بڑی کٹوتیاں کرنا ہوں گی۔رشی سوناک کو پارٹی کی گرتی مقبولیت کے دوران انتخابات کے بڑھتے مطالبات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا اگر وہ 2019میں کنزرویٹو پارٹی کو منتخب کرنے والے پالیسی منشور سے بہت دور چلے جاتے ہیں جب کہ اس وقت کے رہنما بورس جانسن نے ملک میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔معاشی ماہرین اور سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ رشی سوناک کے تقرر سے مارکیٹوں میں استحکام نظر آئے گا، جب کہ لاکھوں لوگ مہنگائی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں تو نومنتخب وزیر اعظم کے پاس کچھ آسان آپشنز موجود ہیں۔ اسکوپ ریٹنگ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایکو سیورٹ نے رائٹرز کو بتایا کہ 2023میں کساد بازاری میں تیزی کے امکان اور آئندہ عام انتخابات صرف 2 سال کا رہنے کی وجہ سے رشی سوناک کو چیلنجنگ پریمیئر شپ کا سامنا ہوسکتا ہے۔چند مہینوں کے دوران ہی وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں دوسری بار شامل ہوتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ میں اپنی معیشت کو ٹھیک، پارٹی کو متحد اور اپنے ملک کیلئے ڈیلیور کرنا چاہتا ہوں۔محترمہ لز ٹرس کو برطانوی وزیر اعظم کے منصب پر آنے کے صرف 6ہفتوں بعد ہی معاشی پروگرام میں ناکامی کی وجہ سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا جب کہ ان سے قبل بورس جانسن نے رواں برس جولائی میں اس وقت اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا جب وزیر خزانہ رشی سوناک نے اپنا عہدہ چھوڑا تھا جس پر بڑے پیمانے پر ہلچل مچ گئی تھی اور بورس جانسن کے وزرا نے اجتماعی طور پر استعفے دیے تھے۔

Related posts

کووڈ ویکسین سے بڑھا ’’ہارٹ اٹیک اموات‘‘ کا خطرہ

www.samajnews.in

ایک سال میں آٹے کی قیمت میں 40 فیصد کا اضافہ

www.samajnews.in

محمد سمیع کو ارجن ایوارڈ

www.samajnews.in