45.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

شرپسندوں کا مسجد پر حملہ اور لوٹ مار

یہ واقعہ بھارتی دارالحکومت دہلی کے مضافات میں واقع گروگرام کا ہے جہاں متعدد ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر بھی ہیں۔ بدھ کی رات کو تقریباً 200 افراد پر مشتمل ہندوؤں کے ایک ہجوم نے مسجد پر اس وقت حملہ کر دیا جب گاؤں کے لوگ عشا ء کی نماز ادا کر رہے تھے۔اطلاعات کے مطابق ہندوؤں کے ہجوم نے مسجد میں گھس کر پہلے توڑ پھوڑ کی اور پھر نمازیوں پر حملہ کر دیا۔ مار پیٹ کرنے کے بعد مسلمانوں کو گاؤں سے نکال دینے کی دھمکی دی گئی۔پولس نے بھورا کلاں گاؤں کی مسجد پر حملے کے معاملے میں ایک کیس درج کیا ہے، تاہم ابھی تک کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ صوبیدار نذر محمد کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق بھورا کلاں گاؤں میں مسلم خاندانوں کے صرف چار گھر ہیں۔

ہندوؤں سے ہتھیار اٹھانے کی اپیل

گروگرام علاقے کے ایک سرگرم صحافی صابر قاسمی نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت میں کہا کہ اس علاقے کی سخت گیر ہندو تنظیمیں مسلمانوں کو کھلے میں نماز ادا کرنے سے پہلے ہی روکتی رہی ہیں، تاہم مسجد کے اندر گھس کر مقتدیوں کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ان کا کہنا تھا’’اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں ہے، کیونکہ ہندوؤں نے کچھ دن پہلے ہی ایک پنچایت کی تھی اور اس میں نوجوانوں سے کہا گیا تھا کہ اب باتوں سے کام نہیں چلنے والا، انہیں ہتھیار اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ سخت گیر ہندو تنظیمیں بھارت میں مسلمانوں کے خلاف کافی دنوں سے مہم چلا رہی ہیں اور اب ان کی مساجد و مدارس ان کے نشانے پر ہیں۔ جو پورے ملک میں چل رہا ہے، یہ حملہ بھی اسی کا حصہ ہے۔
معاملہ کیا ہے؟


صوبیدار نذر محمد کا کہنا ہے کہ اصل میں ہنگامہ بدھ کی صبح اس وقت شروع ہوا، جب مبینہ طور پر راجیش چوہان عرف بابو، انیل بھدوریا، اور سنجے ویاس کی قیادت میں تقریباً 200 لوگوں پر مشتمل ہندوؤں کے ایک ہجوم نے مسجد کا محاصرہ کر لیااور پھر اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے مقامی نمازیوں کو گاؤں سے نکالنے کی دھمکی دی۔پولس حکام کے مطابق نذر محمد نے اپنی شکایت میں کہا’’رات کے وقت ایک بار پھر، جب ہم مسجد کے اندر نماز پڑھ رہے تھے، ہجوم نے آ کر نمازیوں پر حملہ کر دیا اور پھر مسجد کو باہر سے تالا لگا دیا۔ انہوں نے ہمیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی‘‘۔گاؤں کے بعض مسلمانوں نے پولس کو اطلاع دی تاہم اس کے پہنچنے تک ملزمان وہاں سے فرار ہو چکے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ہندوؤں کے ہجوم نے مسجد میں رکھے قرآن کے نسخوں اور دیگر مذہبی کتابوں کو پھاڑ دیا اور باقی دیگر سامان لوٹ کر اپنے ساتھ لے گئے۔پولس حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے جائے واردات سے ایک موبائل فون برآمد کیا ہے جو حملہ آور ہجوم میں شامل کسی شخص کا ہو سکتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ نذر محمد کی شکایت پرراجیش چوہان، انیل بھدوریا، سنجے ویاس اور کئی دیگر کے خلاف بلاس پور پولس اسٹیشن میں فسادات، مذہبی جھگڑے کی کوشش کرنے اور غیر قانونی اجتماع کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
سینئر پولس انسپکٹر گجیندر سنگھ کا کہنا تھا’’شکایت کے مطابق ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ہم حقائق کی تصدیق کر رہے ہیں۔ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی‘‘۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ ریاست ہریانہ یا گروگرام میں مسلمانوں کی عبادت گاہ کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ ماضی میں اس طرح کے واقعات کئی بار پیش آ چکے ہیں۔ گزشتہ برس اسی علاقے میں ہندو تنظیموں نے مقررہ میدان کے اندر جمعے کی نماز ادا کرنے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا تھا۔کئی ماہ تک جاری رہنے والے اس احتجاج کو پولس نے حل کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم ہندو تنظیموں نے ماننے سے انکار کر دیا اور اس طرح کئی علاقوں میں مسلمانوں نے نماز پڑھنا بند کر دی تھی۔بھارت میں مسلمانوں کے خلاف اب اس طرح کا رویہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ چند روز پہلے ہی کی بات ہے، دارالحکومت دہلی میں منعقدہ ہندوؤں کے جلسے میں مسلم مخالف اور انتہائی منافرت آمیز تقریریں کی گئی تھیں۔ اس جلسہ عام میں حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان پرویش سنگھ ورما نے مسلمانوں کا مکمل سماجی اور اقتصادی بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی اور وہاں موجود لوگوں سے اس کا حلف بھی لیاتھا۔(بشکریہ ڈی ڈبلیو)

Related posts

آئی سی سی ورلڈ کپ 2023: ورلڈ کپ کا نیا شیڈول جاری

www.samajnews.in

پرینکا نے ہماچل میں پھونکا بگل

www.samajnews.in

دارالعلوم دیوبند غیر تسلیم شدہ مدرسہ

www.samajnews.in