42.1 C
Delhi
مئی 19, 2024
Samaj News

‘ماہواری کی ’شرم

لاکھوں بھارتی لڑکیاں اسکول جانے سے قاصر

بھارت میں خواتین کے مخصوص ایام یعنی ماہواری کے دنوں سے متعلق حفظان صحت کی تربیت میں کمی کی وجہ سے بہت سی لڑکیاں اسکول کو مکمل طور خیرباد کہنے یا کم ازکم اپنے مخصوص ایام کے دوران سکول ترک کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسا بھارت کے دیہی علاقوں کے بڑے حصوں میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں اسکول جانے والی لڑکیوں میں ماہواری سے متعلق حفظان صحت کے بارے میں آگاہی اور تربیت کی کمی پائی جاتی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال’ یونیسیف‘ کی ایک حالیہ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں 71 فیصد نوعمر لڑکیاں اس وقت تک حیض سے لاعلم رہتی ہیں جب تک کہ انہیں پہلی ماہواری نہیں آ جاتی اور جب ان لڑکیوں کو اس بارے میں معلوم ہوتا ہے تو ان میں بہت سی اسکول جانا چھوڑ دیتی ہیں۔ایک اور غیر سرکاری تنظیم ’’دسرا‘‘ کی 2019 ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق حیض کے دوران حفظان صحت کی مناسب سہولیات کی کمی کی وجہ سے سالانہ 23 ملین لڑکیاں اسکول جانا چھوڑ دیتی ہیں۔ ان مسائل میں سینٹری پیڈز کی عدم دستیابی اور حیض کے بارے میں معلومات کا نہ ہونا شامل ہیں۔اس شعبے میں کام کرنے والے صحت کے ماہرین اور این جی اوز بھی بنیادی سہولیات کی کمی کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جیسا کہ بیت الخلا اور صاف پانی تک رسائی کا نہ ہونا۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی بدنامی، ہراسانی اور ماہواری سے جڑے معاملات پر بات چیت نہ کرنا شامل ہے۔ عملی طور پر نوجوان لڑکیوں کو ان کی پہلی ماہواری سے پہلے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ بچوں کی صحت سے متعلق کام کرنے والی ایک پبلک ہیلتھ پروفیشنل وندنا پرساد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا’ہم نے نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جب انہیں پہلی بار حیض آیا تو وہ اس بارے میں یہ سوچ کر کتنی فکر مند تھیں کہ شاید وہ پہلی بار کسی جان لیوا بیماری کا شکار ہوگئی ہیں۔ اس بارے میں انہیں عام طور پر اپنی ساتھیوں کے ‌ذریعے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں وہ اکثر نامکمل اور غلط ہوتی ہیں۔‘‘ذہنی اور نفسیاتی تناؤ کے ساتھ ساتھ سینیٹری پیڈ پکڑنے، ان کو ٹھکانے لگانے اور خود کو خشک اور صاف رکھنا بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔ یہ خاص طور پر اسکول جانے والی نوعمر لڑکیوں کو متاثر کرتا ہے۔ وندنا پرساد نے کہا، یہ سب مجموعی طور پر ان غریب لڑکیوں اور عورتوں کے لیے مسائل کا ایک ماہانہ اضافی بوجھ ہے، جو ان کی پسماندگی میں اضافہ کرتا ہے اور انہیں پہلے سے ہی درپیش صحت، غذائیت، تعلیم اور سماجی حیثیت کی خراب صورتحال میں اضافی نقصان پہنچاتا ہے۔‘‘ماہواری سے جڑا خاموشی کا یہ کلچر خاندانوں اور برادریوں میں شرمندگی پیدا کرتا ہے۔ خواتین کے مسائل پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم جاگوری کی ڈائریکٹر جیا ویلنکر کا ماننا ہے کہ ثقافتی اور مادی دونوں وجوہات کی بنا پر نوعمر لڑکیوں کا حیض کے دوران اسکول نہ جانا بہت عام سی بات ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو ان سماجی خدشات کے بارے میں بتایا جو بیٹیوں کے حیض آنے کے بعد ُان کے خاندانوں میں پیدا ہوتے ہیں، بہت سی لڑکیوں کے لیے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، ماہواری کا آغاز ان کی اسکول کی تعلیم کا اختتام بن جاتا ہے کیونکہ والدین کے ذہن میں دوہرا خوف ہوتا ہے۔انہیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کی بچی جنسی تشددکا شکار ہو سکتی ہے۔ انہیں یہ ڈر بھی ہوتا ہے کہ لڑکیاں جنسی طور پر سرگرم ہونے کے بعد تعلقات قائم کر سکتی ہیں اور انہیں اصل خوف یہ بھی ہوتا ہے کہ کہیں لڑکیاں ‘نچلی ذات‘ کے لڑکوں سے پیار نہ کر بیٹھیں۔‘‘کچھ ماہرین جنہوں نے اس مسئلے کا قریب سے مطالعہ کیا ہے ان کا خیال ہے کہ عمر کے لحاظ سے مناسب ، معیاری جنسی تعلیم ضروری حل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنسی تعلیم نہ صرف حیض جیسے جسمانی عمل کے بارے میں سائنسی معلومات فراہم کرتی ہے بلکہ مباشرت، صنفی شناخت، جنسی رجحان اور سب سے اہم بات، رضامندی کی اہمیت اور مانع حمل ادویات سمیت ذمہ داریوں سے لے کر متعدد امور کا بھی احاطہ کرتی ہے۔

Related posts

ہمیشہ سرخیوں میں رہیں ثانیہ مرزا

www.samajnews.in

دہشت گردی سمیت منظم جرائم پر کارروائی کرے انٹرپول:مودی

www.samajnews.in

یونیفارم سول کوڈ کے بہانے مسلم پرسنل لاء کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش ہمیں منظور نہیں: مولانا محمود مدنی

www.samajnews.in