41.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

ادب کا نوبل انعام فرانسیسی مصنفہ اینی ارنو کے نام

فرانسیسی مصنفہ اینی ارنو نے اپنی یادداشتوں پرمبنی سماجی عدم مساوات کا جائزہ لینے والی سوانح عمری کی کُتب میں’’جرآت اور کلینیکل تیز رفتاری‘‘ پر2022 کا ادب کا نوبل انعام جیت لیا ہے۔سویڈش اکیڈمی نے بدھ کو اپنے انتخاب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 82 سالہ ارنو مسلسل اور مختلف زاویوں سے ایک ایسی زندگی کا جائزہ لیتی ہیں جس میں صنف، زبان اور طبقے کے حوالے سے سخت تفاوت پایا جاتا ہے۔وہ ادب کا نوبل انعام جیتنے والی پہلی فرانسیسی خاتون ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ اعزازایک ذمہ داری کامتقاضی ہے۔ارنو نے سویڈش براڈکاسٹر ایس وی ٹی کو بتایا:’’میں بہت حیرت زدہ ہوں، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک مصنفہ کے طور پرمجھے اس اعزاز سے نوازا جائے گا۔یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے … گواہی دینے کے لیے، ضروری نہیں کہ میری تحریر کے لحاظ سے، لیکن دنیا کے سلسلے میں ٹھیک ٹھیک اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے کی بناپر یہ ایک ذمہ داری ہے‘‘۔وہ پہلے بھی کَہ چکی ہیں کہ لکھنا ایک سیاسی عمل ہے، جس سے سماجی عدم مساوات کے لیے ہماری آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ اکیڈمی کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے وہ زبان کو’’چاقو‘‘ کے طور پر استعمال کرتی ہیں، جیسا کہ وہ خود کہتی ہیں:وہ ’زبان کو تخیل کے پردے کو توڑنے کے لیےاستعمال کرتی ہیں‘‘۔ان کا پہلا ناول’’لیس آرموائرس وائڈز‘‘1974 میں شائع ہواتھا لیکن انھیں 2008 میں’’لیس اینیس‘‘ کی اشاعت کے بعد بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی تھی۔ اس کا ترجمہ 2017 میں شائع ہوا تھا۔اکیڈمی نے اس کتاب کے بارے میں کہا:’’یہ ان کا سب سے خوش امیدی پر مبنی منصوبہ ہے، جس نے انھیں بین الاقوامی شہرت دی ہے اور انھیں پیروکاروں اور ادبی شاگردوں کی ایک بڑی تعداد بھی دی ہے‘‘۔فرانس کے شمالی شہرنارمنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک معمولی خاندان میں پیدا ہونے والی ارنو نے اپنے طبقے کے بارے میں لکھا اور بتایا کہ کس طرح وہ اپنے محنت کش طبقے کے پس منظر پر قائم رہتے ہوئے فرانسیسی بورژوازی کے ضابطوں اور عادات کو اپنانے کے لیے جدوجہد کرتی تھیں۔
ارنو کاسنہ 2000 میں شائع شدہ ناول ’ہیپننگ‘ 1960ء کی دہائی میں فرانس میں اسقاط حمل کو غیر قانونی قراردینے اور اس دوران میں ان کے ااسقاط حمل کے ایک اپنے تجربے کے بارے میں ہے۔اس پرمبنی فلم نے 2021 میں وینس فلمی میلے میں گولڈن شیر جیتا تھا۔اکیڈمی کا کہنا ہے کہ کتاب میں ایک 23 سالہ راوی کے غیرقانونی اسقاط حمل کے بارے میں ان کا ’’طبی طور پرمحدود بیانیہ‘‘ان کی تخلیقات میں ایک شاہکار ہے۔اکیڈمی کے مطابق’’یہ ایک بے رحمانہ مگرایماندارانہ متن ہے، جہاں قوسین میں وہ ایک انتہائی واضح آواز میں عکاسی شامل کرتی ہیں، خود کو اور قارئین کو ایک اور ہی بہاؤ میں خطاب کرتی ہے‘‘۔
فرانس کی سابق وزیر ثقافت روزلین بیچلوٹ نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’’ارنو ایک ایسی مصنفہ ہیں جنھوں نے سوانح عمری کے انداز کو اپنے کیریئر میں مرکزی حیثیت دی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی ان کے سیاسی خیالات سے متفق نہ ہو لیکن ہرکسی کو ان کےایک طاقتور اور متحرک کام کو سلام کرنا چاہیے‘‘۔سائنس، ادب اور امن کے شعبے میں کامیابیوں پر انعامات سویڈش کیمیادان اور انجینئر الفریڈ نوبل کی وصیت پر قائم کیے گئے تھے، جن کی ڈائنامائٹ کی ایجاد نے انھیں امیر اور مشہور بنا دیا تھا۔ادب میں نوبل اانعام 1901 سے دیا جا رہا ہے۔اس انعام کی مالیت ایک کروڑ سویڈش کراؤن (915,000 ڈالر) ہے۔اگرچہ اس سے قبل ماضی میں ادب میں نوبل انعام حاصل کرنے والےلکھاریوں کویہ اعزاز ملنے سے پہلے ہی بڑے پیمانے پر پڑھاجا چکا تھا ، لیکن یہ ایوارڈ میڈیا کی زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے اور ادبی سپراسٹارز کے لیے بھی کتابوں کی فروخت کو فروغ دیتا ہے جس سے کم معروف مصنفین بھی عالمی شہرت کی بلندیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔اب تک کچھ انعامات مرکزی دھارے کی ادبی اصناف سے باہر کے مصنفین کو بھی دیے گئے ہیں۔ان میں 1927 میں فرانسیسی فلسفی ہنری برگساں ، 1953 میں برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل اور 2016 میں امریکی گلوکار و نغمہ نگار باب ڈیلن شامل ہیں۔ادب کے نوبل ایوارڈ کے فاتح کی درست پیشین گوئی کرنا مشکل ہوتا ہے اوراس سال کے انعام کوجیتنے کے لیے پسندیدہ مصنفین کی ایک طویل فہرست شامل ہے۔اس سال نوبل انعام کے امیدواروں کی فہرست میں فرانسیسی مصنف مائیکل ہولی بیک بھی شامل تھے ، جنھوں نے 1998 میں اپنے ناول ‘ایٹمائزڈ سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی تھی۔ان کےعلاوہ کینیا کے نگوگی وا تھیونگو ، کینیڈا کی شاعرہ این کارسن اور ہندوستان میں پیدا ہونے والے سلمان رشدی بھی اس دوڑ میں شریک تھے۔توہین رسالت کے مرتکب رشدی کو اگست میں ریاست نیو یارک میں اس وقت چاقو کے وار سے ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی تھی جب وہ ایک لیکچر دینے کی تیاری کر رہے تھے۔وہ اس حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔گذشتہ سال ادب میں نوبل انعام تنزانیہ کے ناول نگار عبدالرزاق غرناہ نے جیتا تھا۔

Related posts

سعودی حکومت کے نمایاں خدمات کی ایک اہم کڑی، پوری دنیا سے ایک ہزار لوگوں کو عمرہ کی سعادت

www.samajnews.in

نیپال میں حفظ قرآن کریم کا ایک عظیم الشان مسابقہ کا انعقاد

www.samajnews.in

فیفا ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب کے 5یادگار لمحات

www.samajnews.in