33.1 C
Delhi
جولائی 25, 2024
Samaj News

بالی ووڈ کے چیلنجنگ ہیرو’’نواز الدین صدیقی ‘‘

نوازالدین صدیقی فیکٹری ورکر سے اداکار کیسے بنے؟
نوازالدین صدیقی اداکار کہلانے سے زیادہ فنکار کہلوانا پسند کرتے ہیں۔وہ ایک فنکار کے طور پر پہچانا جانا چاہتے ہیں۔ایک چھوٹے سے گاؤں سے آنے والے نوازالدین صدیقی کے لیے بالی ووڈ میں اپنی پہچان بنانا اتنا آسان نہیں تھا۔لیکن ممبئی آنے سے پہلے ہی ان کے چیلنجز شروع ہو گئے۔ ان کی والدہ کے علاوہ ان کے گھر میں کسی کو یقین نہیں تھا کہ وہ اداکار بن سکتے ہیں۔
یہ سفر کیسے شروع ہوا؟
بہت سے دوسرے اداکاروں کے برعکس نوازالدین صدیقی کا سنیما کی دنیا میں قدم رکھنے کا کوئی خواب نہیں تھا۔ ایک بہت ہی دیہاتی، عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے نواز نے ہمیشہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوکری کرنے کا سوچا۔اپنے کالج کے دنوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز کہتے ہیں کہ ’سائنس میں گریجویشن کرنے کے بعد میں کافی دیر تک گھومتا رہا، فیکٹریوں میں کام کیا اور اس دوران کسی نے مجھے تھیٹر کے بارے میں بتایا اور اس دوران میں نے محسوس کیا کہ اداکاروں اور سامعین کی کیمسٹری حیرت انگیز ہے۔ میرے ذہن میں آیا کہ اس سے زیادہ خوبصورت کوئی میدان نہیں ہو سکتا۔ ‘
تھیٹر کے وہ ابتدائی دن؟
نواز تھیٹر کے ابتدائی دنوں کے بارے میں بتاتے ہیں کہ شروع میں انھوں نے تھیٹر میں صفائی کا کام بھی کیا۔ لوگوں کو چائے پلائی اور تقریباً ہر قسم کا کام کیا۔نواز بتاتے ہیں، ’سٹیج کے پیچھے کام کرتے ہوئے، لوگوں کو چائے پیش کرتے ہوئے، ایک دن مجھے ایک بہت چھوٹا کردار ملا۔ پہلا کردار صرف ایک لائن کا تھا۔ اس کے بعد مجھے دو لائنیں ملیں، یہ سب کام۔ وڈودرا میں چل رہا تھا اور پھر وہاں سے این ایس ڈی چلا گیا۔‘’این ایس ڈی میں جا کر مجھے معلوم ہوا کہ اداکاری کیا ہوتی ہے۔‘
گھر میں لوگوں کو سمجھانا کتنا مشکل تھا؟
نواز بتاتے ہیں کہ ایک بار انھوں نے اپنی والدہ سے کہا تھا کہ وہ اداکار بننا چاہتے ہیں۔’اس وقت ان کا ایک رشتہ دار بھی موجود تھا۔ اس نے میری والدہ سے کہا کہ یہ کیسی بکواس کر رہا ہے کوئی اسے سمجھائے۔ معذرت، لیکن اپنے بچے کی شکل دیکھو۔‘نواز بتاتے ہیں کہ انھوں نے یہ سب باتیں کھڑکی کے پیچھے سے سنی تھیں۔وہ کہتے ہیں ’مجھے بہت عجیب لگا اور میں سوچنے لگا کہ میرے چہرے کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔ میں نے مان لیا کہ میں خوبصورت نہیں ہوں لیکن ساتھ ہی میں نے یہ بھی فیصلہ کر لیا کہ بھلے میں خوبصورت نہ ہوں اس کے باوجود میں اداکار رہوں گا۔‘خوابوں کو پورا کرنے کی ضد ممبئی لے آئی۔این ایس ڈی کے بعد نواز کی اگلی منزل ممبئی تھی۔نواز بتاتے ہیں کہ ان کے لیے ممبئی میں رہنا سب سے مشکل تھا۔وہ کہتے ہیں کہ ’وہ وقت اتنا مشکل تھا کہ میں اس وقت کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا۔ میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ اچھا ہوا کہ وقت گزر گیا،‘’کسی دن رات کا کھانا مل جاتا، اور میں سوچتا کہ صبح کا کھانا کیسے ملے گا؟‘وہ بتاتے ہیں کہ ’حالات ایسے تھے کہ جب ہمیں گورگاؤں سے باندرہ جانا ہوتا تھا تو ہمارے پاس آٹو کے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے۔ہم پیدل ہی چلتے تھے۔‘
وہ لمحہ جب لگتا تھا کہ سب کچھ بکھر گیا ہے:
نواز بتاتے ہیں، ’زندگی میں ایک جدوجہد چل رہی تھی لیکن اس دن کچھ ایسا ہوا جب میری روح بکھر گئی۔ میرے پاس 10-12 دنوں سے بالکل پیسے نہیں تھے۔‘’میں اپنے ایک سینیئر کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ مجھے پچاس روپے دیں۔ اس نے کہا کہ میرے پاس صرف 100 روپے ہیں، تاہم اس نے اسے کھول کر مجھے پچاس روپے دے دیے، ہم دونوں نے چند لمحے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اس کے فوراً بعد میں گر پڑا، میں اس دن رو پڑا۔‘نواز کا کہنا ہے کہ ایک لمحے کے لیے انھوں نے سوچا کہ انھیں ممبئی چھوڑ دینا چاہیے لیکن وہ رک گئے کیونکہ انھیں اداکاری کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا۔نواز بتاتے ہیں کہ ابتدائی دنوں میں جب وہ آڈیشن کے لیے جاتے تھے تو کاسٹنگ ڈائریکٹر انھیں یہ کہہ کر مسترد کر دیتے تھے کہ وہ اداکار نہیں ہیں۔ اس صورتحال میں زیادہ تر جگہوں سے صرف مسترد کیا گیا۔
آپ کو فلمی پردے پر موقع کیسے ملا؟
نواز نے اپنے کیریئر کا آغاز بہت چھوٹے کرداروں سے کیا۔ کسی فلم میں کوئی سین، کسی میں ڈائیلاگ۔۔۔اپنے ابتدائی کرداروں کے بارے میں بات کرتے ہوئے نواز کہتے ہیں، ’میں نے سرفروش، شول، ایک چلی، آخری لوکل، منا بھائی، دیو ڈی، ان تمام فلموں میں میرا کردار ایک ہی سین کا تھا لیکن اس وقت کام ایک ہی تھا۔ کچھ فلموں کے لیے پیسے ملے اور کچھ فلموں کے لیے پیسے نہیں ملے۔تاہم، ایک وقت کے بعد نواز نے وہ فلمیں کرنے سے انکار کر دیا جس میں ان کا ایک سین کا کردار تھا۔انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب وہ صرف ان فلموں میں کام کریں گے، جن میں انھیں دو سین کا کردار ملے گا۔نواز بتاتے ہیں، ’لیکن اس وقت تک پیپلی لائیو، پتنگ جیسی فلمیں بن رہی تھیں اور مجھے ان میں اچھے اور بڑے کردار ملنے لگے۔ یہ فلمیں فیسٹیول میں جانے لگیں اور لوگ مجھے پہچاننے لگے۔ جیسے جیسے لوگوں کو پتہ چلا اور پھر کام ملنے لگا۔ ‘
ذاتی زندگی کے نواز الدین نے کیا کہا؟
حال ہی میں نواز اور ان کی اہلیہ کے درمیان جھگڑے نے کافی سرخیاں بنائیں۔اس تنازعے اور اپنی خاموشی پر نواز کا کہنا ہے کہ ’میں خاموش رہا اور مجھے اس پر کوئی رنجش نہیں ہے، اس وقت بھی میں صرف یہی چاہتا تھا کہ میرے بچے سکول جائیں اور آج جب وہ جارہے ہیں تو میں بہت خوش ہوں۔‘نواز کا کہنا ہے کہ ’میں ان چیزوں کے بارے میں بات کر کے انھیں دوبارہ نہیں چھیڑنا چاہتا۔‘’میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ اپنی ذاتی زندگی کو اپنے پیشے پر اثر انداز نہ ہونے دوں اور میں نے ایسا ہی کیا۔‘
نواز الدین کون سا کام کرنا چاہتے ہیں؟
نوازالدین صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ بڑے گھر اور گاڑی کو کامیابی میں شمار نہیں کرتے۔ وہ صرف اس بات پر خوش ہے کہ وہ وہ کام کرنے کے قابل ہیں جو وہ کرنا چاہتا ہے۔نواز کا کہنا ہے کہ ’میں شکر گزار ہوں کہ میں وہ کام کرنے کے قابل ہوں جو میں کرنا چاہتا ہوں، میں کسی اور کا کام نہیں کر رہا ہوں۔‘’مجھ پر کوئی دباؤ نہیں ہے کہ مجھے کسی دوڑ میں بھاگنا ہے۔ مجھے اپنی پسند کا کام مل رہا ہے اور میں یہ کرنے کے قابل ہوں۔ میں مستقبل میں بھی یہی کام جاری رکھنا چاہتا ہوں۔‘

Related posts

تعدد ازدواج اورنکاح حلالہ کیخلاف آئینی بنچ ہوگی تشکیل

www.samajnews.in

دوحہ:رنگا رنگ تقریب میں فٹ بال ورلڈ کپ کا آغاز

www.samajnews.in

امریکی پارلیمنٹ کے باہر حملے کیلئے ڈونالڈ ٹرمپ ذمہ دار

www.samajnews.in