39.1 C
Delhi
مئی 22, 2024
Samaj News

مساجد کے حقوق کی ادائیگی میں مسلمانوںکی کوتاہی تشویشناک :مولانا محمد رحمانی

نئی دہلی، سماج نیوز: اللہ رب العالمین نے مساجد کو اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ قرار دیا ہے اوران مسجدوں کے مستقل حقوق اور آداب قرآن وسنت میں وارد ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ مسجد کوآباد کرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جواللہ تعالیٰ پر ایمان کا حق ادا کرتے ہیں ، یوم آخرت پر مکمل یقین اورایمان رکھتے ہیں اور صلاۃ قائم کرتے ہیں، زکاۃ کی ادائیگی کرتے ہیں اوراللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے اور ان صفات کی وجہ سے امید ہے کہ اللہ انہیں عنقریب ہدایت یافتہ لوگوںمیں شامل فرمائے گا ۔ آج مسلمانوں میں ایسے افراد کثرت سے پائے جاتے ہیں جومساجد کے حقوق میں سخت کوتاہی کا شکار ہیں اور مساجد کی توہین وتنقیص تک کا جرم سرانجام دیتے ہیں جبکہ مسجدیں اللہ کا گھر اوراللہ کے پسندیدہ مقامات ہیںاوربازار اللہ کے نزدیک سب ناپسندیدہ اوربرا مقام ہے لیکن بدقسمتی سے آج مسلمان بازاروں میں زیادہ اور مسجدوں میں کم نظر آتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر ، نئی دہلی کے صدر مولانا محمد رحمانی سنابلی مدنی حفظہ اللہ نے سنٹر کی جامع مسجد ابوبکرصدیق،جوگابائی ، نئی دہلی میں خطبۂ جمعہ کے دوران کیا ۔ مولانا مساجد کے حقوق وآداب سے متعلق خطاب فرمارہے تھے ۔ مولانا نے سورۂ جن کی آیت نمبر 18کی روشنی میں مسجدوں کا پہلا حق ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ مسجد اللہ کے ذکر واذکار کے لیے ہیں ان میں دنیاوی گفتگو اورفضول باتیں نہیں ہونی چاہیے ۔ دوسرا حق یہ ہے کہ ہم مادی طور پر مسجدوں کے وسائل اور مسجدوں کی تعمیر میں حصہ لیں اورمعنوی طورپر مسجدوں کا حق ادا کرتے ہوئے انہیں آباد رکھیں اوربالخصوص صلاۃ فجر میں ضرور حاضر ہوں۔مساجد کے حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا رحمانی نے مزید فرمایا کہ مسجدوں کا تیسرا حق یہ ہے کہ مسجدوں کے لیے زینت اختیار کی جائے اورمساجد میں جانے سے پہلے صفائی ، پاکی اور اچھے اورساتر لباس کا اہتمام کیا جائے۔ کوشش کی جائے کہ کرتا پہن کر مسجد جائیں، تنگ ا ورباریک لباس سے پرہیز کریں، ایسی پینٹ اورشرٹ ہرگزنہ پہنیں جواتنی تنگ ہوکہ رکوع اور سجدہ میں کمر کھل جائے ۔اللہ رب العالمین نے سورۂ اعراف میں مساجد کے لیے زینت اختیار کرنے کا حکم آیت نمبر 31میں دیا ہے۔ مساجد کا چوتھاحق یہ ہے کہ مسجد میں داخل ہونے پر تحیۃ المسجد یعنی مسجد کے نذرانہ کی دو رکعت کا خصوصی اہتمام کیا جائے ۔ مساجد کا پانچواں حق یہ ہے کہ مسجد میں آنے سے پہلے پیاز ، لہسن اوربدبودار چیزوں کے استعمال سے پرہیز کیا جائے ، بیڑی، سگریٹ بھی اسی ضمن میں ہیں بلکہ یہ تو سرے سے حرام ہیں ان سے بھی بدبو پیدا ہوتی ہے لہٰذا ان کے استعمال کے بعد بھی مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں۔مسجد کا چھٹا حق یہ ہے کہ مسجد میں غائب چیزوں کو تلاش کرنے کا اعلان ا ورخرید وفروخت کرنا بھی جائز نہیں ہے لہٰذا اس سے مکمل پرہیز کیا جانا چاہیے۔ ساتواں حق یہ ہے کہ اذان ہونے کے بعد مسجد سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اذان کے وقت مسجد کا دروازہ کھلتے ہی مسجد کے بیت الخلا کواستعمال کرکے نماز پڑھے بغیر نکل جانے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جوکہ مسجد کی توہین ہے اورایسا کرنے والے ٹوکنے اور سمجھانے کی صورت میں لڑائی جھگڑے پر بھی اتر جاتے ہیں جو کہ ایک المیہ ہے۔ مسجد کا آٹھواں حق یہ ہے کہ مسجد کے اندر سکون واطمینان کا ماحول بنایا جائے اور شور وغوغہ سے پرہیز کیا جائے ، مسجد میں دنیاوی باتیں قطعا نہ کی جائیں ۔ نواں حق یہ ہے کہ دیر سے آنے والے لوگوں کے گندھے پھلانگنے سے پرہیز کریں اورپہلے سے جگہ پر قبضہ نہ کیا جائے بلکہ جوپہلے آئے وہ آگے بیٹھے اور دیر سے آنے والا پیچھے بیٹھے۔خطیب محترم نے دسویں چیز کا ذکر کرتے ہوئے موبائل فون کے استعمال کا تذکرہ کیا اورفرمایا کہ بہت خطرناک چیز ہے جس نے مساجد سے سکون کو غارت کر ڈالا ہے ہمیں اس سے ممکنہ حد تک بچنا چاہیے اب تو مسجدوں میں موبائل کے ذریعہ میچ دیکھنے کے واقعات بھی آرہے ہیں جوتشویش ناک ہے اور ایک حق یہ بھی ہے کہ مسجد کا سامان اُٹھا کر لے جانا بھی جائز نہیں بلکہ وہ مسجد کے لیے خاص ہے ۔خطیب محترم نے مسجد کے حق کوادا نہ کرنے والوں کو سب سے بڑا ظالم بتایا اور فرمایا کہ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 114میں فرمایا ہے اورمسجدوں کا حق ادا کرنے والے سب سے افضل لوگ ہیں جس کا تذکرہ سورۂ نور کی آیت نمبر 37میںہوا ہے ۔اخیر میں دعائیہ کلمات اورمساجد کے حقوق کی ادائیگی کے اہتمام کی اپیل پر خطبہ ختم ہوا۔

Related posts

نئے انداز میں نظر آئے راہل گاندھی، چھوٹی کرائی داڑھی

www.samajnews.in

’ایشیا کپ کی چمپئن ’ٹیم انڈیا

www.samajnews.in

اپنے والد کے نقش قدم پر چلنا ہی ملک و قوم کی خدمت ہے:وپن شرما

www.samajnews.in