45.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

دہلی میں حکومت کے انتخاب کی کیا ضرورت؟ سپریم کورٹ کا مرکز سے سوال

نئی دہلی: دہلی حکومت اور مرکزی حکومت کے مابین ٹکراؤ شروع دن سے چلا آرہاہے۔ راجدھانی دہلی کی کجریوال سرکار جہاں دہلی میں مکمل حکومت کیلئے لڑرہی ہے تو وہیں مرکزی سرکار بھی لاء اینڈ آرڈر جیسے ایشو کو لے کر کجریوال سرکار سے راضی نہیں ہے۔ اروند کجریوال کی سرکار نے شروع سے سپریم کورٹ میں کئی ایشوز کو لے کر معاملہ داخل کررہی ہے تو وہیں جمعرات کو سپریم کورٹ نے قومی راجدھانی کو یونین کا توسیعی علاقہ قرار دینے کی مرکز کی درخواست پر دہلی میں ایک منتخب حکومت کی ضرورت پر سوال اٹھایا۔ قومی راجدھانی میں خدمات کے کنٹرول کو لے کر مرکز اور دہلی حکومت کے درمیان تنازعہ پر تیسرے دن سماعت کرنے والی آئینی بنچ کے سامنے مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ قومی راجدھانی ہونے کے ناطے، دہلی کی ایک ’منفرد حیثیت‘ بھی ہے اور یہاں رہنے والی تمام ریاستوں کے شہریوں میں اپنے پن کا احساس ہونا چاہیے۔چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی سربراہی میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے لا افسر نے کہا ’’دہلی ایک میٹروپولیٹن شہر ہے اور یہ ایک منی انڈیا کی طرح ہے۔‘‘ بنچ میں جسٹس ایم آر شاہ، جسٹس کرشنا مراری، جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس پی ایس نرسمہا بھی شامل تھے۔دن بھر کی سماعت کے دوران، بنچ نے ان موضوعات کا حوالہ دیا جن پر دہلی حکومت قانون سازی کرنے میں ناکام رہی ہے اور قومی راجدھانی میں خدمات کے ریگولیشن کے سلسلے میں قانونی اور آئینی پوزیشن کے بارے میں پوچھا۔بنچ نے کہا ’’ایک وسیع اصول کے طور پر پارلیمنٹ کو ریاست کے اندراجات اور کنکرنٹ لسٹ (7ویں شیڈول کی) پر قانون سازی کرنے کا اختیار ہے۔ دہلی قانون ساز اسمبلی کو ریاستی فہرست کے تحت فہرست 1,2,18,64, 65 (پبلک آرڈر، پولس اور زمین وغیرہ) پر قانون بنانے کا حق نہیں ہے۔بنچ نے پوچھا، "کیا خدمات کی قانون سازی کا داخلہ مرکز کے زیر انتظام علاقے سے متعلق ہے؟” عدالت چاہتی تھی کہ سالیسٹر جنرل اس بات کی وضاحت کریں کہ کس طرح خدمات پر قانون سازی کا کنٹرول دہلی کے قانون سازی کے اختیارات کا کبھی حصہ نہیں تھا۔سالیسٹر جنرل نے کہا، "قومی راجدھانی یونین کا ایک توسیعی علاقہ ہے۔ یونین ٹیریٹری (یو ٹی) کو جغرافیائی علاقہ بنانے کا مقصد یہ ظاہر کرتا ہے کہ یونین اس علاقے پر حکومت کرنا چاہتی ہے۔ اس پر بنچ نے کہا کہ پھر دہلی میں منتخب حکومت کا کیا فائدہ؟ اگر اسے صرف مرکزی حکومت کو ہی چلانا ہے تو پھر حکومت کی کیا ضرورت ہے؟ لاء آفیسر نے کہا کہ کچھ اختیارات مشترکہ ہیں اور افسران پر فعال کنٹرول ہمیشہ مقامی طور پر منتخب حکومت کے پاس رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ’’فنکشنل کنٹرول منتخب حکومت کے پاس ہوگا اور ہمارا مطلب انتظامی کنٹرول سے ہے۔‘‘ اس معاملے کی سماعت 17 جنوری کو دوبارہ شروع ہوگی۔قبل ازیں، سپریم کورٹ نے ’اجتماعی ذمہ داری، مدد اور مشورہ‘ کو جمہوریت کی ’بنیاد‘ قرار دیا اور بدھ کو کہا کہ اسے توازن قائم کرنا ہوگا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ دہلی میں خدمات کو مرکز یا دہلی حکومت کو کنٹرول کرنا چاہیے ورنہ کوئی درمیانی راستہ تلاش کرنا ہوگا۔عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سال 22 اگست کو دہلی میں خدمات کے ضابطے سے متعلق مرکز اور قومی راجدھا علاقہ حکومت کے قانون سازی اور انتظامی اختیارات کے دائرہ کار سے متعلق قانونی مسئلہ کی سماعت کے لیے ایک آئینی بنچ تشکیل دی تھی۔ سپریم کورٹ نے 6 مئی کو دہلی میں خدمات کے ضابطے کے معاملے کو پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے سپرد کیا گیا تھا۔

Related posts

سعودی عرب کا بھارتیوں کو بڑا تحفہ،ویزا کیلئے پولس کلیئرنس سرٹیفکیٹ ختم

www.samajnews.in

بی ایس پی بابا صاحب اور اس کے بانی کانشی رام کے راستے سے ہٹ گئی ہے:اکھلیش یادو

www.samajnews.in

بہنوں کے لیے بھائی ایک نایاب اور قیمتی تحفہ!

www.samajnews.in