33.1 C
Delhi
جولائی 25, 2024
Samaj News

چین کررہا ہے جنگ کی تیاری اور حکومت سو رہی ہے: راہل گاندھی

نئی دہلی: کانگریس کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کنیا کماری سے شروع ہونے کے بعد اب تک کئی ریاستوں سے گزرتے ہوئے بالآخر راجستھان میں چل رہی ہے اور راجستھان میں راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ کے 100 دن مکمل ہو گئے ہیں۔ اس یاترا کے دوران راہل گاندھی اور دیگر یاتریوں نے 2800 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کیا ہے۔ بھارت جوڑو یاترا کے 100 دن مکمل ہونے پر راہل گاندھی نے جمعہ کو جے پور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ چین مسلسل جنگ کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ حکومت اسے سمجھنے کی بجائے سو رہی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہماری حکومت چینی تیاریوں کی معلومات چھپا رہی ہے۔ حکومت ہند حکمت عملی سے کام نہیں کرتی، وہ واقعہ کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔ جب بات جغرافیائی سیاست کی ہو تو واقعات وہاں کام نہیں کرتے۔ وزیر خارجہ کے بیانات آتے رہتے ہیں لیکن انہیں اپنی سمجھ کو اور گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔ راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کے دوران حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین پر کوئی سوال نہیں پوچھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے 2000 مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا، 20 فوجیوں کو شہید کیا، اروناچل پردیش میں ہمارے فوجیوں کو مار رہا ہے، لیکن میڈیا خاموش ہے اور ایک سوال بھی نہیں پوچھ رہی۔ حالانکہ بعد میں میڈیا کی جانب سے اٹھائے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت سو رہی ہے، چین جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

گجرات کے انتخابی نتائج پر راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی کے انتخابات جیتنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ ان کے پاس بہت پیسہ ہے، وہ لوگوں کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ ہم ایسا نہیں کرتے اور ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں۔ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ وہ نفرت پھیلاتے ہیں، ملک کو تقسیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی سوچ واضح ہے۔ جس دن کانگریس سمجھ جائے گی کہ وہ کیا ہے، اس دن کانگریس ہر الیکشن جیتے گی۔ علاقائی جماعت کے پاس ملک کا ویژن نہیں ہے۔ علاقائی پارٹیاں ذات، طبقے، ریاست کی نمائندگی کرتی ہیں۔کانگریس میں گروپ بندی کے سوال پر بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ہماری پارٹی میں کوئی آمریت نہیں ہے۔ کانگریس میں بیان بازی چلتی رہتی ہے اور چھوٹی موٹی بحثیں ہوتی رہتی ہیں، جو اچھی بات ہے۔ صرف راجستھان میں ہی نہیں، بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی ایسا ہوتا ہے۔ عام نظریہ یہ ہے کہ اگر پارٹی والے بولنا چاہیں تو انہیں ڈرا دھمکا کر خاموش نہ کیا جائے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اگلے انتخابات کس کی قیادت میں ہوں گے، راہل گاندھی نے اس سوال کو ٹال دیا اور کہا کہ یہ سوال کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سے پوچھا جانا چاہیے۔ وہ صدر ہیں، میں نہیں۔

راہل گاندھی نے کہا کہ اس یاترا سے انہیں ذاتی طور پر کافی فائدہ ہوا ہے۔ مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا، عوام سے میری کچھ دوری تھی، وہ ختم ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ لیڈروں اور عوام کے درمیان خلیج پیدا ہو گئی ہے۔ میں نے سوچا کہ عوام اور لیڈروں کے درمیان فاصلہ ختم ہونا چاہیے۔ دورے کا مقصد بھی عوام کے درد کو سمجھنا تھا۔ مجھے عوام کی طرف سے بہت پیار ملا ہے، میں آپ کو بیان نہیں کر سکتا۔ ہماری یاترا کرنے کا ایک اور طریقہ ہے۔ یہ گاندھی جی کا طریقہ ہے، راجستھان میں اس یاترا کو بہترین ردعمل ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنیا کماری سے راجستھان تک ایک بات سمجھ میں آئی ہے کہ کارکنوں کی کوئی کمی نہیں ہے، کیونکہ لوگ کانگریس پارٹی سے پیار کرتے ہیں۔

Related posts

جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ آندھراپردیش​ میں داخلے جاری

www.samajnews.in

سید عابد حسین سینئر سکینڈری اسکول، جامعہ ملیہ کی ٹیچر وافسانہ نگار ڈاکٹر رخشندہ روحی مہدی ’حامد سعید خان ایوارڈ‘ سے سرفراز

www.samajnews.in

کعبہ کے بغیر دُنیا رُک جائے گی، نئی تحقیق میں خلاصہ

www.samajnews.in