45.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

آہ!عامر سلیم خان ’’بہت یاد آؤ گے‘‘

نئی دہلی، سماج نیوز: اردو کے معروف صحافی اورروزنامہ ’ہمارا سماج‘ کے ایڈیٹر عامر سلیم خان کا 12دسمبر 2022کو دہلی کے جے بی پنت اسپتال میں ایک بجکر چار منٹ پر انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 50سال کے قریب تھی۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے ہیں اور تینوں نابالغ ہیں۔ جناب عامر سلیم خان کا دوروز قبل (جمعہ کی شب تقریباً ایک بجے) دل کا دورہ پڑا تھا۔ فوراً دہلی کے جی پی پنت اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

اطلاع کے مطابق اتوار کو طبیعت میں کچھ بہتری ہوئی تھی لیکن شام 7بجے کے قریب اچانک پھر طبیعت بگڑ گئی اور پیر کے روز ایک بجکر چار منٹ پر اپنے خالق حقیقی سے جاملے اور اس دار فانی کو الوداع کہہ دیا۔ عامر سلیم خان بہترین رپورٹنگ کرتے تھے، خبروں پر کافی پکڑ تھی وہ طویل عرصہ سے روزنامہ ’’ہمارا سماج‘‘ سے وابستہ تھے اور ایڈیٹر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ وہ ایڈیٹوریل بھی تحریر کرتے تھے۔ نئے مسائل، نئی خبر پر ان کی گہری نظر رہتی تھی، ملی مسائل پر بھی وہ بے باک انداز میں لکھتے تھے۔ ان کے انتقال سے صحافی برادری میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس اندوہناک واقعہ پر کسی کو یقین نہیں ہورہا ہے۔ روزنامہ ہمارا سماج اور اردو صحافت کیلئے ناقابل تلافی خسارہ ہے۔پیر کی شام مہندیان کی قبرستان میں نماز جنازہ رات 8:30ہزاروں افراد کی موجودگی میں پڑھی گئی اور تدفین بھی مہندیان قبرستان میں کی گئی۔

واضح رہے کہ ممتاز صحافی عامر سلیم دہلی کے علمی ادبی صحافتی حلوں میں کتنے محبوب و مقبول تھے اس کاہوجائے اندازہ گزشتہ شب ان کے جنازے پر ہوا جس میں ہر مکتب فکر کے ادیب شاعر صحافی، سیاسی مذہبی سماجی اور عام شہریوں کی بہت بڑی تعداد نم آنکھوں سے انہیں اس فانی دنیا سے رخصت کرنے کے لئے موجود تھی۔ عامر سلیم مرحوم نہ صرف ایک ذہین، اعلیٰ علمی صلاحیت رکھنے والے صحافی اور قلمکار تھے بلکہ اپنے حسن اخلاق کی وجہ سے ہر حلقے میں عزت اور محبت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ میرا ان کا ساتھ دو سال تک اس عرصہ میں رہا جب میں ہمارا سماج (دہلی پٹنہ) میں جواہر عظیم آباد لکھ رہا تھا۔ دہلی کے تقریباً سبھی سینئر جونیئر صحافیوں سے میرے محبتانہ تعلقات رہے اور ہیں لیکن عامر سلیم جیسی خوبیوں والے بہت کم نوجوان دیکھنے کو ملے۔ وہ ملی مسائل پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ان کی پرمغز تحریریں پڑھنے اور ان سے اکثر طویل تبالۂ خیال کے باوجود کبھی ان کے شخصی مسلک کا اندازہ نہیں ہوا۔ نہ کسی مذہبی ملی رہنما کے بارے میں ان کی زبان سے ایسا کوئی لفظ سنا جس سے اس کی شان میں کمی آتی ہو۔ افسوس کہ ایسے کشادہ ذہن اور صاحب بصیرت صحافی کی نماز جنازہ کے موقع پر ملت میں مسلکی تفریق کا ایسا واقعہ پیش آیا جس پر عامر کی ناوقت موت کا غم اور گہرا ہوگیا۔ سلفی عقیدے کے امام صاحب نے اس وقت جب صفیں تیار تھیں۔

نہایت عالمانہ انداز میں حیات و موت کی اسلامی شعائر پر تقریر شروع کردی۔ تقریر طویل ہوتی جارہی تھی۔ میں نے سوچ لیا تھاکہ خواہ کتنی ہی دیر ہوجائے خاموشی سے سنتا رہوں گا۔ حضرت نے قبر پر مٹی ڈالتے ہوے منہا خلقناکم……. پڑھنے کو حدیث شریف کی دلیل کے ساتھ غلط بتایا۔ دوسری افسوس ناک بات ان سے اختلاف کرنے والوں کے کرخت اور غیر مہذب انداز سے ہوئی۔ تدفین کے بعد راستے بھر سوچتا رہا کہ مسلکی تفریق نے ملت اسلامیہ کو کس طرح منتشر کردیا ہے۔؟ اللہ کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ آمین

Related posts

نفرت کو شکست دے گا ’’انڈیا‘‘

www.samajnews.in

دہلی گورنمنٹ اسکول میں فیل ہونیوالے 9ویں اور 11ویں کے 80 فیصد طلبا تعلیمی نظام سے غائب:رپورٹ

www.samajnews.in

ہیراگروپ کی قانونی جنگ

www.samajnews.in