33.1 C
Delhi
جولائی 25, 2024
Samaj News

کمزور دِل کا مضبوط صحافی

ودود ساجد
عامر سلیم کو رخصت کرکے ابھی واپس لوٹا ہوں ۔ ایک خلق خدا اس بے نیاز اور قلندر صفت صحافی کو مِٹّی دینے پہنچی تھی ۔ ایسے موقع پر دشمن بھی شریک ہوجاتے ہیں ۔ لیکن عامر سلیم کا کوئی دشمن تھا ہی نہیں ۔ شاید کوئی مخالف بھی نہ ہو۔ اس بندہ خدا نے کبھی کسی سے اختلاف کیا بھی نہیں۔نہ مسلکی نہ پیشہ ورانہ ۔اپنی زندہ دلی اور خندہ پیشانی سے کسی کو محسوس تک نہ ہونے دیا کہ عامر سلیم اتنا بڑا عارضہ قلب و جاں لئے گھوم رہے ہیں۔ اب معلوم ہوا ہے کہ عامر سلیم کا دل بہت کمزور تھا اور محض 35 فیصد کام کرتا تھا ۔۔ لیکن ہم نے تو عامر سلیم کو ہمیشہ بڑے اور مضبوط دل کا پایا۔

دہلی میں نامہ نگاروں کی ایک جوڑی تھی۔ میں ان دونوں کو ’’سلیمین‘‘ کہا کرتا تھا۔ سلیم صدیقی (مرحوم) اور عامر سلیم۔ دونوں دو مختلف اخبارات کی نمائندگی کرتے تھے ۔ دونوں کے مزاج مختلف تھے۔ دونوں کی عمروں میں بھی فرق تھا۔ مگر دونوں ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم سے ہوگئے تھے ۔ جب کبھی لودھی روڈ آتے تو دونوں میرے پاس بھی آتے۔ چائے کہہ کر منگواتے۔ جتنے وقفہ میں چائے آتی دونوں کی فرینڈلی "تکرار” شروع ہوجاتی۔ ابتدا سینئر سلیم یعنی سلیم صدیقی کرتے۔ کچھ چھیڑ چھاڑ کرتے۔ عامر سلیم سنجیدگی کے ساتھ جواب الجواب میں ’’ملوث‘‘ ہوجاتے۔ سلیم صدیقی بیچ بیچ میں کنکھیوں سے ظاہر بھی کرتے کہ وہ مذاق کر رہے ہیں لیکن عامر سلیم مزید سنجیدہ ہوجاتے۔ مگر ایک بڑا فرق بھی تھا۔ یہ کہ سلیم صدیقی کا لہجہ مذاق کرتے ہوئے بھی سخت اور تند ہوجاتا جبکہ عامر سلیم سنجیدہ ہوکر بھی مسکراتے رہتے۔ کبھی آپے سے باہر نہ ہوتے۔ جب محفل برخاست ہوتی تو دونوں اس طرح ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اٹھتے جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔عامر سلیم دوستوں کی مشکلات دیکھ کر تڑپ اٹھتے تھے۔ مگر انہوں نے کبھی اپنی مشکل کا اظہار کیا ہی نہیں ۔ وہ بہت فدویانہ اور مہذب مزاج رکھتے تھے ۔ وہ ہر محفل میں میرا تعارف اپنا سینئر اور صحافت میں اپنا استاذ کہہ کر کراتے تھے ۔ میں نے انہیں کچھ نہیں سکھایا۔ وہ صحافتی عناصر کا خداداد مجموعہ تھے ۔

راشٹریہ سہارا میں رہتے ہوئے ایک بار جب مجھے رپورٹنگ سیکشن کا انچارج بناکر کناٹ پلیس پر واقع بیورو کے دفتر بھیجا گیا تو عامر سلیم کو جز وقتی نامہ نگار کے طور پر وہیں پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ کسی پروگرام یا پریس کانفرنس سے آکر مجھے روداد سناتے اور پوچھتے کہ سر کہاں سے ابتداء کروں ۔ آج جب وہ اپنی حیات مستعار کی انتہا کر گئے ہیں تو اندازہ ہوا کہ ان کے اتنے دنوں تک چلتے پھرتے رہنے کا راز کیا تھا۔۔ انہیں ہر مکتب فکر کی محبت اور شفقت حاصل تھی۔ ان کے چاہنے والوں میں کوئی ہوگا جو ان کی تدفین میں نہ آیا ہو۔۔ انہوں نے اپنی عمر کی نصف صدی بھی مکمل نہیں کی تھی۔۔ معلوم ہوا ہے کہ ان کے بچے ابھی چھوٹے ہیں ۔ انہوں نے جس صبر و قناعت سے زندگی گزاری اس کی روشنی میں نہیں لگتا کہ کچھ پس انداز بھی کیا ہوگا۔۔ کیا ہی اچھا ہو کہ انہیں قبر تک پہنچاکر آنے والی اتنی بڑی جماعت کچھ اس طرف بھی توجہ دے۔ہاں آج جب میں نے ان کا چہرہ دیکھا تو وہی تبسم تھا جو زندگی میں بکھرا رہتا تھا ۔۔ الله تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل۔ انا للہ واناالیہ راجعون

Related posts

ازدواجی، صحت اور تعلیمی شعبوں میں ضرورتمندوں کو غیر متزلزل مدد فراہم کرنے کا عہد کرتی ہیں عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ

www.samajnews.in

ماب لنچنگ کے پیچھے کا چھپا سچ اور ذہنیت کیا ہے؟

ذلیل ہونے کی وجہ اور سبب تلاش کرنا ہو گا: مطیع الرحمٰن عزیز:

www.samajnews.in

ہندوستان پہنچا اومیکرون بی ایف 7

www.samajnews.in