42.1 C
Delhi
مئی 19, 2024
Samaj News

مظفرنگر فسادات: سزا یافتہ بی جے پی لیڈر وکرم سنگھ سینی کی اسمبلی رکنیت منسوخ

مظفرنگر،سماج نیوز: سال 2013 میں اترپردیش کے مظفر نگر میں رونما ہونے والے فسادات کے سلسلہ میں قصوروار دیئے گئے بی جے پی لیڈڑ وکرم سنگھ سینی کی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔ رکن اسمبلی کے ساتھ 12 دیگر لوگوں کو بھی سزا سنائی گئی ہے۔ 2 سال کی اس سزا کے علاوہ ان سبھی کو 10-10 ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ اس حادثے میں تقریباً 65لوگوں نے اپنی جان گنوائی تھی اور 50ہزار سے زائد لوگ گھر سے بے گھر ہوگئے تھے۔ خیال رہے کہ کوال کے رہائشی اور کھتولی سیٹ سے رکن اسمبلی وکرم سینی کو مظفر نگر ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے 11 اکتوبر کو 2 سال قید کی سزا سنا سنائی تھی۔ وکرم سینی کو یہ سزا کوال میں لوگوں کو مشتعل مسلمانوں کے خلاف مشتعل کرنے اور سرکاری کام میں رخنہ پہنچانے کے لیے سنائی گئی ہے۔

مظفرنگر فسادات میں 65سے زائد افراد مارے گئے تھے

اور تقریباً 50ہزارسے زائد افراد بے گھر ہوگئے تھے

مظفر نگر کی عدالت سے سزا سنائے جانے کے بعد جمعہ کے روز اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے وکرم سینی کی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔ اسمبلی سیکریٹریٹ نے کھتولی سیٹ کے حوالہ سے محکمہ انصاف کی رپورٹ آنے کے بعد ہی فیصلہ لیا جائے گا اور اس کے بعد سیٹ کو خالی قرار دیا جائے گا۔اسمبلی سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ رکنیت دو یا اس سے زیادہ کی سزا سنائے جانے پر خود بخود ہی ختم ہو جاتی ہے۔ محکمہ انصاف سے رائے طلب کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم دو سال کی سزا پر نافذ ہوتا ہے یا دو سال سے زیادہ پر ہی نافذ ہوگا۔ وکرم سینی وہی لیڈر ہیں جو لگاتار متنازعہ بیانات دیتے رہے ہیں۔ وہ کھتولی اسمبلی سے دوسری بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ حالانکہ سزا سنائے جانے کے کچھ وقت بعد ہی جب وکرم سینی نے جرمانہ ادا کر دیا تو اس کے بعد عدالت نے انھیں ضمانت دے دی۔غورطلب ہے کہ جس وقت مظفرنگر فسادات ہوئے تھے تو وکرم سنگھ سینی اس کوال گاؤں کے پردھان تھے جہاں سے فرقہ وارانہ تشدد کی شروعات ہوئی تھی۔ مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے تین افراد کے قتل کے بعد مظفرنگر ضلع میں تشدد کی آگ بھڑگ گئی تھی اور مہینے بھر تک جھڑپیں ہوی رہی تھیں۔بی جے پی لیڈر وکرم سنگھ سینی نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسپیشل ایم پی/ایم ایل اے کورٹ سے دو سال کی سزا کے سلسلے میں ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔

Related posts

کرناٹک کی تمام سیٹوں پرMEPلڑے گی الیکشن

www.samajnews.in

کووڈ ویکسین سے بڑھا ’’ہارٹ اٹیک اموات‘‘ کا خطرہ

www.samajnews.in

ایک ارب نوجوانوں کی قوت سماعت ہوسکتی ہے متاثر؟ تحقیق میں انکشاف

www.samajnews.in