Samaj News

سعودی عرب کا دعوتی مشن: تبلیغ دین کا قابلِ تقلید کارنامہ

مملکتِ سعودی عرب: عالمی دعوتی مشن کا روشن مینار
دعوتِ دین اور سعودی عرب: ایک تاریخی اور بے مثال کردار
سعودی عرب کی دعوتی خدمات: اعداد و شمار کے آئینے میں
حرمین شریفین سے دنیا تک: اسلام کے آفاقی پیغام کا سفر
دورِ حاضر میں تبلیغِ اسلام کا سب سے بڑا ریاستی ماڈل
قرآنی تعلیمات کی عالمی ترویج اور سعودی عرب کا کردار
عصرِ حاضر کے دعوتی چیلنجز اور سعودی حکمت عملی

زاہد اختر

’’اُدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ‘‘(سورۃ النحل: 125) ترجمہ: ’’(اے نبیﷺ) اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ذریعے دعوت دیجیے، اور ان سے ایسے انداز میں بحث کیجیے جو بہترین ہو۔‘‘
قرآنِ مجید کی یہ آیتِ کریمہ دعوتِ دین کا وہ ابدی منشور ہے جو چودہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی اپنی معنویت اور عملی راہنمائی میں ذرہ برابر ماند نہیں پڑا۔ دعوت محض ایک مذہبی رسم نہیں بلکہ یہ انسانی ضمیر کو روشن کرنے کا وہ مقدس فریضہ ہے جو حکمت، خیرخواہی اور خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔ تاریخِ عالم میں جب بھی یہ سوال اٹھایا گیا کہ عصرِ حاضر میں کون سی ریاست اس قرآنی فریضے کو سب سے منظم، وسیع اور مؤثر انداز میں ادا کر رہی ہے، تو جواب میں ایک ہی نام سرِ فہرست نظر آتا ہے اور وہ مملکتِ سعودی عرب ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں وحیِ ربانی کا نزول ہوا، جہاں کعبۃ اللہ اور روضۂ رسولِ اکرمﷺ کی روحانی کشش آج بھی کروڑوں دلوں کو اپنی جانب کھینچتی ہے، اور جہاں سے اسلام کی کرنیں پہلی بار روئے زمین پر پھیلی تھیں۔ لیکن مملکت کی عظمت صرف اس تاریخی ورثے میں نہیں بلکہ اس کا حقیقی اعزاز یہ ہے کہ اس نے اس ورثے کو ایک جدید، مربوط اور ہمہ جہت دعوتی نظام کی صورت دے کر دنیا کے سامنے ایک ایسا نمونہ پیش کیا ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی میں کم ہی ملتی ہے۔
یہ دعوتی انقلاب کسی اچانک لہر کا ثمر نہیں بلکہ اس کی جڑیں سات دہائیوں کی مسلسل محنت، حکمتِ عملی اور قومی عزم میں پیوست ہیں۔ 1961ء میں جامعۂ اسلامیہ مدینۂ منورہ کا قیام اس تاریخ ساز سفر کا پہلا سنگِ میل تھا۔ یہ جامعہ محض ایک علمی درس گاہ نہ تھی بلکہ ایک ایسا عالمی مرکزِ دعوت تھا جو دنیا کے مختلف ممالک سے طلبہ کو بلا کر انہیں قرآن و حدیث، فقہ و تفسیر اور دعوت کے اصولوں سے آراستہ کرتا اور پھر انہیں اپنے اپنے ممالک میں دین کے علمبردار بنا کر واپس بھیجتا۔ آج یہ جامعہ 180 سے زائد ممالک کے طلبہ کو زیرِ تعلیم رکھتی ہے جن کی زبانیں پچاس سے زیادہ ہیں اور یہ بالواسطہ دعوت کا ایک ایسا نظام ہے جس کے ثمرات نائیجیریا سے انڈونیشیا تک، اور بوسنیا سے برازیل تک ہر جگہ محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اگلے سال یعنی 1962ء میں مکۂ مکرمہ میں رابطۃ العالم الاسلامی کی تاسیس نے اس مشن کو ایک عالمی تنظیمی ڈھانچہ عطا کیا اور پھر شاہ فیصل رحمہ اللہ کے دورِ حکومت میں جب تیل کی دولت نے مملکت کو اقتصادی استحکام دیا تو انہوں نے اس دولت کا ایک نمایاں حصہ دعوتِ دین کے لیے وقف کر دیا جو کہ وہ دور اندیش فیصلہ تھا جس نے آئندہ کی تمام دعوتی پیش رفتوں کی بنیاد رکھی۔ 1984ء میں شاہ فہد کمپلیکس برائے طباعتِ قرآنِ مجید کا قیام اس سفر کا ایک اور یادگار اور تاریخ ساز مرحلہ ثابت ہوا۔
ان تاریخی بنیادوں پر قائم دعوتی عمارت کا موجودہ قد و قامت دیکھا جائے تو جو اعداد و شمار سامنے آتے ہیں وہ نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ گہرے تجزیے کی دعوت دیتے ہیں۔ وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد نے جنوری 2024ء میں سعودی اخبار کے ذریعے باضابطہ اعلان کیا کہ مملکت میں قائم دعوتی مراکز کے توسط سے گزشتہ پانچ برسوں (2019ء تا 2023ء) میں 3 لاکھ 47 ہزار 6 سو 46 افراد نے اسلام قبول کیا۔ لیکن ان اعداد کو محض تعداد کے طور پر دیکھنا انصاف نہیں بلکہ اگر سالانہ رجحان کا تجزیہ کیا جائے تو ایک انتہائی اہم کہانی سامنے آتی ہے۔ 2019ء میں 21 ہزار 6 سو 54، 2020ء میں 41 ہزار 4 سو 41، 2021ء میں 27 ہزار 3 سو 33، 2022ء میں 93 ہزار 8 سو 99 اور 2023ء میں یکایک 1 لاکھ 63 ہزار 3 سو 19 افراد دامنِ اسلام سے وابستہ ہوئے۔ 2020ء اور 2021ء میں نسبتاً کم تعداد اس لیے تھی کیونکہ کووڈ 19 کی عالمی وبا نے سفر اور اجتماعات پر سخت پابندیاں لگا دی تھیں، تاہم 2022ء اور 2023ء میں تعداد میں حیران کن اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت نے وبا کے بعد اپنی دعوتی سرگرمیوں کو نہ صرف بحال کیا بلکہ انہیں پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور منظم بنا دیا۔ اس عظیم کام میں وزارت کے 423 غیر ملکی داعیان اور ملک بھر میں پھیلی ہوئی 457 دعوتی انجمنیں برابر کی شریک ہیں۔


اس ضمن میں دعوتِ دین کی ایک انسانی تصویر پیش کرنا بھی ضروری ہے جو خشک اعداد و شمار کو روح عطا کرتی ہے۔ مملکت کے مختلف شہروں میں قائم دعوتی مراکز میں ہزاروں ایسے افراد آتے ہیں جو مختلف ممالک سے محنت و روزگار کی تلاش میں یہاں آئے اور یہاں آ کر انہیں وہ روحانی سکون ملا جو مادی فراغت سے کبھی نہیں ملتا۔ جدہ دعوتی مرکز ایسا ہی ایک مرکز ہے جہاں عربی، انگریزی، فرانسیسی، اردو، ملیالم، انڈونیشین، تامل اور بنگالی سمیت متعدد زبانوں میں اسلامی تعلیمات دی جاتی ہیں۔ یہ مراکز نہ صرف دعوت کا کام کرتے ہیں بلکہ نئے مسلمانوں کی دینی تربیت، ان کے سوالات کا تسلی بخش جواب اور انہیں اسلامی طرزِ حیات سے روشناس کرانے کا بھی اہتمام کرتے ہیں اور درحقیقت یہ وہی منہجِ نبویؐ ہے جس میں دعوت کے بعد تربیت اور تربیت کے بعد معاشرت کو ایک مربوط سلسلے میں پرویا گیا ہے۔
اگر سعودی دعوتی نظام کو عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی انفرادیت اور برتری مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔ ترکی کی دیانت فاؤنڈیشن بنیادی طور پر یورپ میں مقیم ترک نژاد مسلمانوں کی دینی ضروریات پوری کرتی ہے اور اس کا دعوتی کام غیر مسلموں کے درمیان محدود ہے۔ ملیشیا کے اسلامی دعوتی ادارے اپنے ملک کی حد تک مؤثر ہیں لیکن عالمی سطح پر ان کی رسائی اور وسائل سعودی نظام کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ مصر کی جامعہ ازہر علمِ دین کا ایک قدیم اور معزز مرکز ہے لیکن اس کی بنیادی توجہ تعلیم و تحقیق پر ہے نہ کہ منظم دعوتی مشن پر۔ اس کے برعکس مملکتِ سعودی عرب کا دعوتی نظام ایک ہی وقت میں افریقہ کے دور دراز قبائلی علاقوں میں اور یورپ کے جدید شہروں میں، ایشیا کی گنجان آبادیوں میں اور لاطینی امریکہ کے پہاڑی دیہاتوں میں کام کر رہا ہے اور یہ سب کچھ بیک وقت درجنوں زبانوں اور سینکڑوں ثقافتوں کو مخاطب کر کے انجام پا رہا ہے۔
دعوتِ دین کے اس عالمی کارواں میں قرآنِ مجید کی اشاعت اور ترسیل کا باب ایک ایسا درخشندہ باب ہے جس کی مثال کسی بھی مذہبی کتاب کی اشاعت کی پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ مدینۂ منورہ میں 1984ء میں قائم شاہ فہد کمپلیکس برائے طباعتِ قرآنِ مجید نے عرب اخبارات اور سرکاری ذرائع کے مطابق 2017ء تک 29 کروڑ 17 لاکھ سے زائد نسخے تقسیم کر دیے تھے اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے حتیٰ کہ آج 2026ء میں یہ تعداد تیس کروڑ کی حد عبور کر چکی ہوگی۔ اس کمپلیکس نے قرآنِ مجید کے مفہوم کو سعودی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق 77 مختلف زبانوں میں منتقل کیا ہے جن میں ایشیائی، یورپی اور افریقی زبانیں شامل ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص بھی جو عربی کا ایک لفظ نہیں جانتا اپنی مادری زبان میں کلامِ الٰہی کی حکمتوں سے سیراب ہو سکتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو دعوت کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ زندہ رکھتی ہے۔ اسی روشن روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 2025ء کے رمضانِ مبارک میں 12 لاکھ قرآنِ مجید کے نسخے 45 ممالک میں تقسیم کرنے کی منظوری دی جو 79 زبانوں میں تراجم و تفاسیر کے ساتھ تھے جبکہ یہ ماہِ رمضان کا انتخاب بھی بے محل نہ تھا کیونکہ یہی وہ مبارک مہینہ ہے جب لاکھوں غیر مسلم حاجی اور زائرین حرمین شریفین میں موجود ہوتے ہیں اور ان کے دلوں میں روحانی تشنگی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔


رابطۃ العالم الاسلامی کا دعوتی کردار اس پورے مشن کا ایک مرکزی اور ناگزیر ستون ہے۔ 1962ء میں مکۂ مکرمہ میں قائم ہونے والی یہ تنظیم آج دنیا کے وسیع خطوں میں اپنے دفاتر، نمائندگان اور تربیت یافتہ داعیان کے ذریعے سرگرمِ عمل ہے۔ رابطہ کی ایک مدتی رپورٹ کے مطابق محض دو ماہ کی مدت میں 27 ممالک میں 4 لاکھ 31 ہزار سے زائد افراد کو اسلام کی تعلیمات سے روشناس کرایا گیا جس میں 406 تربیت یافتہ داعیان سرگرمِ عمل تھے۔ یہ سرگرمیاں افریقہ، ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکہ کے ممالک میں بیک وقت جاری تھیں۔ رابطہ کے طریقۂ کار کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ یہ تنظیم دعوت کو صرف تقریر اور تحریر تک محدود نہیں رکھتی بلکہ انسانی فلاح کے کاموں، تعلیمی پروگراموں اور سماجی خدمات کے ذریعے بھی اسلام کی رحمتِ عالم والی شبیہ دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔ یہی وہ اسلوبِ دعوت ہے جس کی تعلیم قرآنِ مجید نے حکمت اور موعظۂ حسنہ کے الفاظ میں دی ہے کہ یہ محض زبانی دعوت نہیں بلکہ کردار، خدمت اور اخلاق کے ذریعے دلوں کو فتح کرنا ہے۔
حرمین شریفین کا مقامِ بلند اس دعوتی مشن میں ایک ایسا منفرد اور ناقابلِ تکرار ذریعہ فراہم کرتا ہے جس کی مثال دنیا کے کسی اور مذہبی مرکز میں نہیں ملتی۔ ہر سال 180 سے زائد ممالک سے لاکھوں حاجی اور زائرین مکۂ مکرمہ اور مدینۂ منورہ کا رخ کرتے ہیں اور مملکت نے اس الوہی اجتماع کو مؤثر دعوت کے لیے ایک منظم نظام میں ڈھال لیا ہے۔ مسجدِ حرام اور مسجدِ نبویؐ کے خطبے بیک وقت بیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو کر نشر کیے جاتے ہیں جن میں انگریزی، فرانسیسی، اردو، ہاؤسا، روسی، ترکی، چینی، ملائی، سواحلی، ہسپانوی، پرتگالی اور جرمن شامل ہیں۔ میدانِ عرفات کا وہ عظیم الشان خطبہ جو حج کے روز لاکھوں انسانوں کے سامنے دیا جاتا ہے، منارۃ الحرمین برقیاتی پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا کے کروڑوں لوگوں تک ان کی اپنی زبان میں پہنچ جاتا ہے اور یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب اسلام کا پیغامِ توحید، انسانی مساوات اور عالمی اخوت اجنبی دلوں میں بھی وہ ہلچل مچاتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے حرمین شریفین کی اس ازلی روحانی قوت کو زمان و مکان کی قید سے آزاد کر دیا ہے اور یہ مملکت کی تکنیکی بصیرت اور دعوتی دور اندیشی کا ایک زندہ ثبوت ہے۔
جامعۂ اسلامیہ مدینہ منورہ کا دعوتی نظام جسے بجا طور پر بالواسطہ دعوت کا کارخانہ کہا جا سکتا ہے، اس پورے مشن کا ایک انتہائی مؤثر اور پائیدار حصہ ہے۔ یہ جامعہ 180 سے زائد ممالک کے طلبہ کو علومِ اسلامی سے آراستہ کر کے ان کے ممالک میں واپس بھیجتی ہے جہاں وہ دعوت کے زندہ نمونے بن کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ جامعہ کے شعبۂ دعوت میں طلبہ کو نہ صرف دینی علوم بلکہ دعوت کے اصول و طریقے، بین الثقافتی مکالمے کا فن اور غیر مسلموں کے اعتراضات کا علمی جواب دینے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے۔ آج نائیجیریا سے انڈونیشیا تک، بوسنیا سے برازیل تک، اور امریکہ سے آسٹریلیا تک جہاں بھی کوئی مؤثر داعی اسلام کی خدمت کر رہا ہے ان میں سے بے شمار کا رشتہ کسی نہ کسی طرح اسی عظیم جامعہ سے جڑا ہوا ہے۔ یہ وہ کارنامہ ہے جو محض اعداد و شمار سے نہیں بلکہ نسل در نسل علم کی روشنی پھیلانے سے ماپا جاتا ہے۔
دعوتِ دین کے اس عالمی انقلاب کو جن شخصیات نے اپنی محنت، قربانی اور دانش سے آبیاری کی انہیں نظرانداز کر کے یہ تصویر نامکمل رہے گی۔ ان میں سے سب سے نمایاں نام شیخ احمد دیدات رحمہ اللہ (1918ء تا 2005ء) کا ہے جو نسلاً بھارتی اور جنوبی افریقہ کے باشندے تھے۔ مملکتِ سعودی عرب نے ان کی دعوتی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے 1986ء میں انہیں شاہ فیصل انٹرنیشنل پرائز سے نوازا جو دنیائے اسلام کا سب سے معتبر علمی اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ شیخ دیدات نے پانچ دہائیوں تک ہزاروں خطبات اور مناظروں کے ذریعے انگریزی بولنے والے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دی، جن میں 7 جولائی 1985ء کو لندن کے رائل البرٹ ہال میں ڈاکٹر فلائیڈ کلارک کے ساتھ کیا گیا تاریخ ساز مناظرہ کیا مسیح کو سولی دی گئی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے جس میں ہزاروں غیر مسلمین نے شرکت کی۔ ان کی تصانیف، صوتی نشریات اور بصری خطبات آج بھی دنیا کے ہر براعظم میں نئے مسلمان پیدا کر رہے ہیں اور یہی ان کا صدقۂ جاریہ ہے۔
سعودی سرزمین پر پلنے بڑھنے والے داعیانِ کرام میں شیخ محمد العریفی کا نام نمایاں ہے جو 15 جولائی 1970ء کو ریاض میں پیدا ہوئے اور کنگ سعود یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ انہوں نے دعوتِ اسلامی کو جدید ذرائعِ ابلاغ کے ساتھ ہم آہنگ کر کے یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں بے شمار غیر مسلموں کو اسلام سے روشناس کیا۔ تاہم مکمل تاریخی تصویر کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ شیخ العریفی 2017ء اور 2018ء کے درمیان سعودی حکومت کی داخلی پالیسیوں کے تناظر میں ایک پیچیدہ صورتِ حال سے گزرے۔ ایک دیانتدار تحقیقی مضمون اس پہلو کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ اسی طرح شیخ عبداللہ بن بیہ، جو موریتانوی نژاد بین الاقوامی اسلامی اسکالر اور مسلم معاشروں میں قیامِ امن کے فورم کے سربراہ ہیں، انہوں نے بین الاقوامی بین المذاہب مکالمے کو دعوت کا ایک مؤثر ذریعہ بنایا اور مغربی دانشوروں کے سامنے اسلام کے اعتدال و رواداری کے پیغام کو اس کی حقیقی صورت میں پیش کر کے بے شمار ذہنوں میں ایمان کے بیج بوئے۔
مملکتِ سعودی عرب کا دعوتی نظام ان چیلنجوں کا بھی بخوبی ادراک رکھتا ہے جو اکیسویں صدی میں اسلام کے عالمی پیغام کو پہنچانے میں درپیش ہیں۔ بعض مغربی ممالک میں دعوتی سرگرمیوں کی راہ میں قانونی پابندیاں، سماجی رابطوں کے ذرائع پر اسلام مخالف بیانیوں کی یلغار اور اسلامو فوبیا کا بڑھتا ہوا رجحان وہ رکاوٹیں ہیں جن سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں۔ لیکن سعودی دعوتی مشن نے ان چیلنجوں کا جواب میدان چھوڑنے سے نہیں بلکہ مزید حکمت، جدت اور استقامت سے دیا ہے۔ انٹرنیٹ پر مبنی اسلامی تعلیمی پلیٹ فارمز کا قیام، برقیاتی ذرائع سے قرآن و حدیث کی تعلیم اور بین المذاہب مکالمے کی باقاعدہ حوصلہ افزائی، یہ وہ جدید حکمتِ عملی ہے جس سے مملکت نے مخالف ہواؤں کو بھی اپنے دعوتی جہاز کی سمت درست رکھنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ وزارتِ اسلامی امور نے سرکاری سطح پر واضح کیا ہے کہ ان تمام کوششوں کا مقصد اسلام کے اصولِ رواداری کا فروغ اور دین کے بارے میں عالمی سطح پر پھیلی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا ہے۔
یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ کامیابی کا پیمانہ صرف اعداد و شمار نہیں ہونا چاہیے۔ جبیل میں مسلمان ہونے والا فلپائنی کارکن جب اپنے وطن لوٹ کر اپنے خاندان کو اسلام سے روشناس کراتا ہے، جامعۂ اسلامیہ کا فارغ التحصیل طالبِ علم جب نائیجیریا کے کسی دور دراز گاؤں میں قرآن پڑھاتا ہے اور جدہ دعوتی مرکز میں کلمہ پڑھنے والی کوئی یورپی خاتون جب اسلام کی سفیر بن کر اپنے سماج میں لوٹتی ہے تو یہ وہ دعوتی ثمرات ہیں جنہیں کوئی رجسٹر قید نہیں کر سکتا لیکن جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے درج ہو جاتے ہیں۔ دعوت کی اصل کامیابی یہی ہے کہ ایک دل سے روشنی پھوٹے اور پھر وہ روشنی نسل در نسل آگے بڑھتی چلی جائے۔
آج جب دنیا نظریاتی، اخلاقی اور روحانی بحرانوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے، جب مادیت کے طوفان میں انسانی روح سکون کی تلاش میں بے چین ہے اور جب انسانیت کو ایک ایسے پیغام کی ضرورت ہے جو اسے انتشار سے نکال کر وحدت، عدل اور محبت کی راہ دکھائے، تو مملکتِ سعودی عرب کا دعوتی مشن ایک ریاستی فریضے سے بڑھ کر ایک عالمی انسانی خدمت کا درجہ اختیار کر لیتا ہے۔ ستتر سے زائد زبانوں میں قرآنِ مجید کا پیغام، 180 ممالک کے طلبہ کو علمِ نور سے آراستہ کرنے والی جامعۂ اسلامیہ، دنیا کے وسیع خطوں میں سرگرم رابطۃ العالم الاسلامی، حرمین شریفین کا روحانی اثر، اور ہر سال لاکھوں نئے دلوں میں کلمۂ طیبہ کی چمک، یہ سب مل کر ایک ایسے عظیم الشان مشن کی تصویر بناتے ہیں جس پر امتِ مسلمہ کو حق بجانب فخر ہے اور جو آنے والی نسلوں کے لیے تقلید کا ایک روشن نمونہ ہے۔
رابطۃ العالم الاسلامی کے موقف کے مطابق دعوت کا مقصد انسانوں کو محبت، رحمت اور حکمت کے ساتھ اللہ کی طرف بلانا ہے۔ یہی وہ بنیادی سوچ ہے جو سعودی دعوتی مشن کو قابلِ تقلید بناتی ہے اور وہ بھی نہ صرف اس لیے کہ یہ وسیع ہے، نہ صرف اس لیے کہ یہ وسائل سے مالا مال ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کی بنیاد اخلاص پر ہے، اس کا منہج حکمت پر ہے، اس کا اسلوب محبت پر ہے اور اس کا مقصد پوری انسانیت کی ابدی فلاح ہے۔ یہ وہ دعوتی مشن ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرزمین سے اٹھا، سیدنا محمدِ مصطفیٰﷺ کے دینِ رحمت کا امین ہے اور جو قیامت تک انسانی دلوں میں توحیدِ خالص کی شمع روشن کرتا رہے گا۔

Related posts

ورلڈ بک فیئر 2024:سعودی عرب مہمان خصوصی کے طور پر مدعو

www.samajnews.in

نوٹ بندی چھوٹے کاروباریوں اور کاشتکاروں پر حملہ تھا:راہل گاندھی

www.samajnews.in

ہیرا گروپ کی اہم جائیداد سےای ڈی اپنا اٹیچمنٹ ہٹالے: سپریم کورٹ

www.samajnews.in