Samaj News

چلتے چلتے

دھواں دھواں سا ہے خیال میرا
غبار ہے دِل کا کبھی راکھ ہے
کبھی گماں ہوتا ہیکہ شمع راکھ ہوئی
گردن جھکائی تو دیکھا دِل جلا دیا
یہ کیسی بھی قِسمت ہے اندھیرے کی
چاند ہم آغوش ہوا، تو سورج رقیب ہوا
کوئی کیا جانے رفیق کیا ہوا
آب حیات ہوا،جوشراب ہوا…

محمد رفیق عثمان منصوری

Related posts

وارانسی میں نفرت پھیلانے کی تیاری

نام نہاد ’شیولنگ‘ کی کاربن ڈیٹنگ کو لے کر بنارس میں ’پوسٹر بازی‘:

www.samajnews.in

تائیکوانڈو چیمپئن آفرین کا سفرکشمیر کیلئے باعث فخر ہے

www.samajnews.in

نوجوت سنگھ سدھو نے بھگونت مان کو دی مبارکباد، لکھا- امید کے پہاڑ سے نیا دور شروع

www.samajnews.in