42.1 C
Delhi
مئی 19, 2024
Samaj News

جیل میں رہنا ایک مشکل امتحان تھا:سنجے راوت

ممبئی:ممبئی کی آرتھر روڈ سنٹرل جیل میں 101دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے کے بعد باہر آنے والے شیو سینا کے لیڈر اور رکن پارلیمان سنجے راوت نے جمعرات کو کہا کہ جیل میں رہنا ان کیلئے ایک سخت امتحان تھا جہاں وہ تنہائی میں قید میں رہے اور اان کا باہری دنیا سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور وہ خود سے یا جیل کی دیواروں سے بات کرتے تھے۔ مسٹر راوت نے کہا کہ جیل میں قیام نے انہیں حیرت میں ڈال دیا کہ ساورکر نے 10سال اور لوک مانیا تلک نے چھ سال کیسے گزارے یا اٹل بہاری واجپائی نے ایمرجنسی کے دوران تقریباً دو سال جیل میں کیسے گزارے ہوں گے ۔ انہوں نے کہا ’میں تین ماہ سے زیادہ عرصے میں پہلی بار گھڑی پہن رہا ہوں۔ جیل کی سزا اچھی نہیں ہے ۔ میں نے بہت نقصان اٹھایا ہے ۔ میرے کنبہ نے بھی بہت کچھ کھویا ہے ۔ کسی کو بغیر کسی وجہ کے جیل بھیجنا غلط ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) یا ان لوگوں کے خلاف کوئی شکایت نہیں ہے جنہوں نے انہیں جیل بھیجنے کی سازش کی‘۔انہوں نے دہرایا کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی حکومت ’غیر آئینی‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کریں گے ، لیکن تفصیلات نہیں بتائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد ہی اپنی پارٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے صدر شرد پوار سے ملاقات کریں گے۔ مسٹر راوت نے کہا کہ اگر ان کی صحت ٹھیک رہی تو وہ مسٹر راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہوں گے ، جو اس وقت مہاراشٹر سے گزر رہی ہے۔شیو سینا کے فائر برانڈ لیڈر نے اصرار کیا کہ ان کی گرفتاری غیر قانونی تھی اور بدھ کو خصوصی پی ایم ایل اے عدالت نے بھی یہی بات کہ۔ انہوں نے کہا کہ ’ملک نے اس طرح کی سیاست کبھی نہیں دیکھی۔ ہمارا ملک 150سال تک غیر ملکی راج میں رہا تھا، لیکن ہم نے ملک میں اس قسم کی سیاسی انتقامی کارروائیاں نہیں دیکھی‘۔ یہاں تک کہ دشمنوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کیا گیا‘۔ای ڈی نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کئے گئے مسٹر راوت نے کہا ’عدلیہ پر میرا اعتماد بڑھ گیا ہے‘۔
مرکزی حکومت سے سپاری لے کر سیاسی مخالفین کو نشانہ بناتی ہیں مرکزی ایجنسیاں: ادھو ٹھاکرے
شیوسینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے مرکزی جانچ ایجنسیوں کو ڈکیت کہتے ہوئے سیاسی مخالفین کو پریشان کرنے کے لیے مرکز سے سپاری لینے کا الزام عائد کیا۔ ناراض ٹھاکرے نے کہا کہ مرکزی ایجنسیاں مرکز کے ’پالتو جانوروں‘ کی طرح سلوک کرتی ہیں۔ مرکزی حکومت سے سپاری لے کر وہ سیاسی مخالفین کو نشانہ بناتی ہیں۔ انھیں بند کر دیا جانا چاہیے۔ٹھاکرے نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ مرکز اور ان سبھی (باغیوں) کے لیے ایک تنبیہ ہے، جو چلے گئے۔ وقت کا پہیہ بدلتا رہتا ہے، دیویندر فڈنویس (نائب وزیر اعلیٰ) کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ وقت بدلتا ہے، کل یہ ان کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) چیف نے مرکز پر بدلے کی سیاست کرنے کا الزام لگایا اور عوام سے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی اپیل کی۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اگر مرکز کا کوئی اصول ہوتا، تو راؤت کی گرفتاری کبھی نہیں ہوتی۔ پورا ملک حکومت کے روہی اور مرکزی جانچ ایجنسیوں کے غلط استعمال کو دیکھ رہا ہے۔

Related posts

طوفان ’سترنگ‘ نے دکھایا رنگ

www.samajnews.in

خواتین ريزرویشن بل پاس ہونے پر ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے وزیر اعظم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا

www.samajnews.in

بریانی میں اضافی رائتہ مانگنے پر 30سالہ نوجوان کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا

www.samajnews.in