33.1 C
Delhi
جولائی 25, 2024
Samaj News

رشحات قلم

شیخ عزیز الرحمٰن سلفی کی گراں قدر تصنیفی خدمت

تحریر: افروز عالم ذکراللہ سلفی،گلری

قوی امید ہے کہ آپ سبھی اخوان خیرو عافیت سے ہوں اللہ تعالیٰ آپ سب کو جہاں بھی رکھے خوش رکھے آمین۔دنیا میں ہزاروں کتابیں لکھی جاتی ہیں اور لکھی جاتی رہیں گی اور ہر ایک کے لکھنے پڑھنے اور سمجھنے کا طریقہ بھی الگ الگ ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ نایاب کتابیں بھی ہوتی ہیں جو عام آدمی کے لیے کاغذ کے کچھ صفحات ہوتے ہیں لیکن کسی ذی شعور و ذی علم شخصیت کے لیے وہ کسی ہیرے جواہرات سے کم نہیں ہوتی ہیں۔مجھ جیسے ایک طالب علم کے لیے کوئی بھی کتاب پڑھنا یا اس پر تبصرہ کرنا مشکل امر ہوتا ہے کیوںکہ میں ہمیشہ سے مصروف رہا ہوں اور مجھ سے بھی نادان لوگ مجھے کیا سے کیا کہہ جاتے ہیں اس کی مجھے پرواہ نہیں ہوتی ، مصروفیات کے باوجود اس کتاب کو ایک بار نہیں بار بار بار پڑھنے کی خواہش ہے۔شیخ کی تدریس اور تصنیف دونوں ماشاء اللہ بہت عمدہ ہیں۔میں نے شیخ سے 2010ء میں البلاغۃ الواضحہ ،امین الکافی عالم اول میں اور 2012ء فضیلت اول میں فتح القدیر للامام الشوکانی،اور فضیلت ثانی میں صحیح مسلم نصف پڑھی ہے وغیرہ وغیرہ۔اس لیے میں تدریس میں شیخ کے بارے میں بخوبی واقف ہوں ۔الحمدللہ طریقۂ تدریس میں کافی عمدگی دیکھی ہے اور کافی عبور پایا ہے کیونکہ بسا اوقات عبارت خوانی کا موقع ملا خاص طور سے سال کے اخیر میں مغرب کے بعد بھی ہم نے آپ سے صحیح مسلم پڑھی۔یہ بیان کرنے کے لئے مجھے چند سطر ہی کافی ہیں پھر کبھی تفصیل سے ان شاء اللہ-رہا تصنیف کا معاملہ تو میں نے جامعہ سلفیہ بنارس کی مرکزی لائبریری میں آپ کی کتاب ” جماعت اہل حدیث کی تدریسی خدمات” جو ہمارے عالم ثانی کے مقالہ ایک اہم خطہ البحث تھا،اس کتاب کے ذریعے لکھنے کا ایک خیال آیا کہ جماعت کی تدریسی خدمات جو پندرہویں صدی کی یکجا کرکے قلمبند کرنا ہے اس کو نئی شکل دوں۔اس لحاظ سے موجودین سے مجھے استفادہ کا موقع ملا کیونکہ اس وقت مجھے لائبریری میں بھی کوئی بندش نہیں تھی، اوپر نیچے کہیں بھی آسکتا تھا اور الحمدللہ جامعہ سلفیہ بنارس کی مرکزی لائبریری کی اکثر کتابیں مجھے کسی بھی فن سے تعلق رکھتی ہوں ازبر تھیں اور کسی کی یاد دہانی کی ضرورت بہت کم پڑتی تھی، یہ سب حافظ محفوظ الرحمن صاحب وغیرہم کی کوششوں سے ممکن ہوپایا۔ اس موقع پر میں نے شیخ مستقیم صاحب سلفی حفظہ اللہ ورعاہ کی کتاب ” جماعت اہل حدیث کی تصنیفی خدمات” کو بھی اپنے خط البحث ” کے لیے مفید پایا۔ باقی ایک سے ایک نئی اور مفید کتابیں ہاتھ لگیں جن سے استفادہ کا موقع ملا۔اسی اثناء دعا کے موضوع پر بھی لائبریری میں شیخ مولانا عزیز الرحمن صاحب سلفی کی ایک کتاب دیکھی جو ایک بار مطالعہ کرکے وہیں رکھا۔ پھر سوچا مکتبہ سے خرید لوں لیکن مجھے مل نہ سکی شاید ایسے ہی تھا انجمن کے وقت میں طلبہ نے لے لیا ہو تشجیعی انعامات میں یا ختم ہوگئی ہو۔خیر مضی’ما مضی’اس کے علاوہ جو نوٹس تیار کیے وہ تو وراثت میں منتقل ہوگئی لیکن یادیں ابھی بھی وابستہ ہیں کہ شیخ مولانا عزیز الرحمن صاحب سلفی کو ہر فن مولا سمجھتے ہیں۔تفسیر ہو یا عقیدہ، حدیث ہو یا اصول حدیث، تاریخ وسوانح ہو یا بلاغت وفلسفہ، نثر ہو یا نظم الحمدللہ ثم الحمدللہ میں ان سب میں آپ کا ثنا خواں ہوں اور آپ کی صلاحیت کا داد دوں گا آپ ان صلاحیتوں کو ہلکے میں نہیں لے سکتے۔
عالم ثانی کے وقت اساتذہ میں شیخ عبدالسلام صاحب مدنی رحمہ رحمۃ واسعہ اور شیخ نعیم الدین المدنی رحمہ رحمۃ واسعہ اور موجودین میں شیخ اسعد اعظمی صاحب ،شیخ عزیز الرحمن صاحب سلفی و شیخ مستقیم صاحب سلفی،شیخ عبدالوہاب حجازی حفظہم اللہ کا ساتھ ملا جس کی وجہ سے مقالہ تیار کیا۔ جس میں دونوں لائبریرین حافظ محفوظ الرحمن صاحب اور شیخ ظل الرحمن فایق بندوی صاحب نے کافی محنت کی اور مقام حدیث ،دبستان حدیث ،قافلہ حدیث ،حجیت حدیث ،کاروان حدیث،انکار حدیث ،تاریخ حدیث ومحدثین ،جھود مخلصہ فی خدمۃ السنہ المطھرہ ،بر صغیر میں اہل حدیث کی آمد، برصغیر میں اہل حدیث کے علمی کارنامے، تراجم اہل حدیث ،مدارس اہل حدیث ایک علمی دستاویز اور خدمت حدیث پر ایک سے علماء کی کتاب سامنے آئیں کہ اگر ان کتابوں کا نام ہی یاد رکھیں تو آپ کو کسی مسئلے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی ان شاء اللہ عزوجل۔الحمدللہ جیسے شیخ کی تدریس ہے الحمدللہ تصنیف بھی عمدہ ہی ہو گی اور آپ نے اس کا کماحقہ حق ادا کیا ہو گا ،اب پڑھنے کے بعد ہی کچھ تبصرہ کرنا مناسب ہو گا۔بہر کیف شیخ کی زندگی میں ہی یہ ایک بڑا کام ہوا نہیں تو بس چند صفحات میں ہی لوگ آپ کی خدمات کو محدود کرکے اپنی آفس بند کرکے سوجاتے۔کیونکہ جس شخصیت کے بارے میں لکھا گیا وہ شخصیت موجود بھی ہے اور سب دیکھا سنا ہے بعد میں سبھی ہمدرد و ثنا خواں بن جاتے ہیں اور قلم اٹھالیتے ہیں۔ویسے اللہ تعالیٰ سے ہم شیخ مولانا عزیز الرحمن صاحب سلفی کی صحت وعافیت کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی تدریس وتصنیف کو قبول کرتے ہوئے آپ کے شاگردوں کو آپ کے حق میں صدقۂ جاریہ بنائے اور آپ کی اولاد کو بھی اس لائق بنائے کہ وہ آپ کے علمی ورثہ کو سنبھال سکیں اور آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن سکیں۔اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ عاطفت تادیر ہم سب پر قائم رکھے آمین تقبل یا رب العالمین۔ ان شاء اللہ تعالیٰ پھر کبھی قلم کو حرکت میں لایا تو ضرور لکھوں گا آج کے لیے بس اتنا ہی۔ فقط والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

Related posts

فٹبال کنگ پیلے کا 82سال کی عمر میں انتقال

www.samajnews.in

گجرات انتخاب: کانگریس کے واحد مسلم امیدوار عمران کھیڑاوالا نے لہرایا فتح کا پرچم

www.samajnews.in

آہ ! عامر سلیم خان

www.samajnews.in