41.1 C
Delhi
مئی 29, 2024
Samaj News

انڈیا میں ’چوروں کے گاؤں‘ کا وہ لٹیرا، جو امیروں سے مال لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتا تھا

کیا آپ نے رابن ہڈ کے بارے میں سنا ہے؟ آپ نے یقیناً ایسی کہانیاں سنی ہوں گی جن میں چور اور ڈاکو امیروں کو لوٹتے ہیں اور پھر لوٹ کا مال غریبوں میں بانٹ دیتے ہیں۔ایسے چوروں پر کئی فلمیں اور ڈرامے بھی بن چکے ہیں اور ایسی کہانیوں میں سب سے مشہور نام ’رابن ہڈ‘ ہے۔انڈیا کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں بھی ایک ایسا ہی شخص تھا جو ’رابن ہڈ‘ کے نام سے مشہور تھا۔آندھرا پردیش کے گاؤں سٹورٹ پورم میں لوگ ناگیشور راؤ کو ’ٹائیگر‘ اور کچھ ’آندھرا کا رابن ہڈ‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔اب ’ٹائیگر‘ ناگیشور راؤ کے نام سے ایک فلم بھی آنے والی ہے اور اس میں اداکار روی تیجا مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

’ٹائیگر‘ ناگیشور راؤ کی کہانی: پولس ریکارڈ کے مطابق ناگیشور راؤ سٹورٹ پورم کے مشہور ڈاکوؤں میں سے ایک تھے اور ان کے خلاف کئی سنگین مقدمات درج تھے۔24 مارچ 1980 کو پولیس کے ساتھ ایک مقابلے میں وہ ہلاک ہو گئے لیکن اس انکاؤنٹر سے پہلے وہ کئی بار پولیس کے چنگل سے بچ چکے تھے۔ناگیشور راؤ کے بھائی پربھاکر راؤ کا کہنا ہے کہ ان کی موت کی وجہ ان کے برے اعمال تھے۔پربھاکر راؤ کہتے ہیں کہ ’میرے والد سے پہلے بھی ہمارے خاندان کے لوگ چوری کیا کرتے تھے۔ ہم نے بھی بہت سی چوریاں اور ڈکیتیاں کی ہیں۔ میرے چھوٹے بھائی ناگیشور راؤ کو بھی اس کی تربیت دی گئی تھی لیکن وہ جو کچھ بھی چوری کرتا، وہ سب چندہ کر دیتا تھا۔‘پربھاکر راؤ اب سٹورٹ پورم میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے ہیں اور انھوں نے بھی ماضی میں کئی چوریاں کی ہوئی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ لیکن ان کے چھوٹے بھائی نے کبھی اپنے پیسے چھپانے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ جو بھی چوری کرتے اسے لوگوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔اس وجہ سے انھیں عام لوگوں میں زبردست حمایت پذیرائی ملی اور جب وہ پولیس مقابلے میں مارے گئے تو لوگوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔

بناگاناپلی میں ڈکیتی کی واردات: 1974 میں موجودہ نندیال ضلع کے علاقے بناگاناپلی میں ایک بینک کو لوٹا گیا اور یہ خبر پورے ملک میں پھیل گئی۔سخت سکیورٹی کے باوجود ڈاکو بینک میں داخل ہوئے اور بڑی رقم اور زیورات لوٹ کر فرار ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس وقت اس ڈکیتی میں 35 لاکھ روپے کی لوٹ مار ہوئی تھی۔آدھی رات کو بینک میں گھس کر اسے لوٹنے کا یہ واقعہ پورے ملک میں موضوع بحث بن گیا۔پربھاکر راؤ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے گینگ کے کل دس ارکان اس ڈکیتی میں ملوث تھے۔ چونکہ بینک پولیس سٹیشن کے سامنے تھا، اس لیے ہم نے احتیاط برتی۔ ہم آدھی رات کو بینک کے پچھلے دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوئے۔‘لوٹے گئے سامان کے بارے میں پربھاکر راؤ کہتے ہیں کہ اس میں 14 کلو سونا اور پچاس ہزار روپے نقد تھے۔پربھاکر راؤ کے مطابق ’اس سے پہلے کے لوٹے ہوئے مال کو آپس میں تقسیم کیا جاتا، پولیس نے ہمارے گاؤں کو گھیرے میں لے لیا۔ ناگیشور فرار ہونے میں کامیاب رہے لیکن میں نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔‘

جیل سے فرار: ناگیشور راؤ نے 1970 کی دہائی میں اپنے بھائی کے ساتھ چھوٹی موٹی چوریاں کرنا شروع کیں جبکہ پربھاکر پہلے ہی ایک مشہور چور تھے۔ اس کے بعد ناگیشور راؤ نے تقریباً 10 سال تک کئی بڑی ڈکیتیوں میں حصہ لیا۔ناگیشور راؤ کے پرستار انھیں ’ٹائیگر‘ کہتے تھے کیونکہ وہ آندھرا پردیش، تلنگانہ، تمل ناڈو اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں بڑے پیمانے پر ڈکیتیاں کرنے کے باوجود کئی بار پولیس سے بچ چکے تھے۔پربھاکر راؤ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں 1976 میں تمل ناڈو میں گرفتار کیا گیا اور دونوں کو مختلف جیلوں میں رکھا گیا۔ جب ہم عدالت میں پیشی کے دوران ملے تو ناگیشور نے کہا کہ وہ جیل میں مزید نہیں رہ سکتے، جس کے بعد ایک دن اس نے جیل حکام پر حملہ کیا اور فرار ہو گئے۔ اس فرار کے بعد تمل ناڈو کے کچھ پولیس افسران نے مجھے کہا کہ تمہارا بھائی واقعی ٹائیگر ہے۔‘

اسٹورٹ پورم ’چوروں کا گاؤں‘ کیسے بنا؟: 1980 کی دہائی تک اسٹورٹ پورم کو ’چوروں کے گاؤں‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ سٹورٹ پورم کے لوگوں نے کئی گروہ بنائے اور مختلف علاقوں میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں کیں۔1911 اور 1914 کے درمیان مختلف جرائم میں ملوث لوگوں کو جمع کر کے سٹورٹ پورم میں بسایا گیا تھا۔ حکومت کا مقصد تمام چوروں کو ایک جگہ رکھنا تھا تاکہ ان پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں جہاں کہیں بھی کوئی جرم ہوتا، اس گاؤں کے لوگوں پر شک کیا جاتا۔’ٹائیگر‘ ناگیشور راؤ اور ان کے ساتھیوں کے جرائم کی وجہ سے سٹورٹ پورم کا نام مزید بدنام ہو گیا اور اس گینگ کو پکڑنا پولیس کے لیے ایک چیلنج بن گیا۔

گاؤں کی ساکھ داؤ پر لگ گئی: ہندوستان میں برطانوی راج کے دوران ان چوروں کی اصلاح کے لیے عیسائیت کا سہارا بھی لیا گیا لیکن کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ اس کے بعد پولیس اور حکومت کے ساتھ ساتھ فلاحی ادارے بھی میدان میں آ گئے۔بناگاناپلی میں ڈکیتی کے بعد ایک ایسے ہی ادارے ناستک کیندر کی بانی ہیمالتا اور ان کے شوہر لاونم نے سٹورٹ پورم میں اصلاح کی کئی کوششیں کیں۔ ان دونوں نے ناگیشور راؤ سے جیل میں ملاقات کی اور خطوط کے ذریعے ان میں تبدیلی لانے کی کوشش کی۔کومپلی سندر، جنھوں نے سٹورٹ پورم کی تاریخ پر تحقیق کی ہے، کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں چوروں کو جیل سے رہا ہونے کے بعد زمین اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے اچھے نتائج برآمد ہوئے۔کومپلی سندر کے مطابق ہیمالتا اور لاونم کی انتھک محنت کی وجہ سے سٹورٹ پورم بدل گیا۔ شروع میں سب کا خیال تھا کہ پربھاکر راؤ کے ساتھ ناگیشور راؤ بھی بدل گئے۔لیکن پربھاکر راؤ کہتے ہیں کہ ’ماضی میں کیے گئے جرائم نے ناگیشور راؤ کے قومی دھارے میں شامل ہونے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ وہ دوبارہ جرائم کی دنیا میں واپس آئے اور پولیس کی فائرنگ میں مارے گئے۔‘

اسٹورٹ پورم کے لوگ پرانے زخم بھول گئے ہیں: سٹورٹ پورم پر پہلے بھی کئی فلمیں بن چکی ہیں۔ اب ایک تیلگو فلم ’ٹائیگر‘ ناگیشور راؤ آنے والی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ گاؤں ایک بار پھر بحث میں ہے۔ فلم کی ہدایتکاری ومسی کرشنا کر رہے ہیں اور اس وقت فلم کی شوٹنگ جاری ہے۔ناگیشور راؤ پر فلم بنانے کے بارے میں سٹورٹ پورم کے لوگوں کی رائے مختلف ہے۔پربھاکر راؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فلم یونٹ نے مجھ سے بات کی، انھوں نے تفصیلات مانگیں لیکن میں نہیں چاہتا کہ تاریخ کو مسخ کیا جائے۔‘’جب ہم سٹورٹ پورم میں پڑھتے تھے تو لوگ ہمیں مختلف نظروں سے دیکھتے تھے۔ ایک غلط فہمی تھی، اب یہ کم ہو رہی ہے۔ گاؤں میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جنھوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور باہر آباد ہو گئے ہیں۔ سٹورٹ پورم کے لوگ پرانے زخم بھول گئے ہیں۔‘شردا اسی گاؤں کی رہنے والی ہیں اور فی الحال چنئی میں آئی ٹی سیکٹر میں کام کر رہی ہیں۔ انھیں خدشہ ہے کہ ایسی فلموں سے گاؤں کی بدنامی ہو گی، جس سے مزید مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔(بشکریہ: بی بی سی)

 

Related posts

عمران پرتاپ گڑھی کی تقریروں سے بدلی گجرات کی فضاء

www.samajnews.in

عرب دنیا میں فٹ بال کا پہلا ورلڈ کپ، قطر کی گلیوں میں عید کا سماں!

www.samajnews.in

فلم انڈسٹری کی کوئن دیپکا پدوکون

www.samajnews.in